ریاستی حقوق انسانی کمیشن اورقومی حقوق انسانی کمیشن میں 2الگ الگ عرضیاں دائر

 سرینگر//انکائونٹروں کے دوران شہری ہلاکتیں اورجنگجوئوں کیخلاف مبینہ طورکیمیائی ہتھیاروں کااستعمال کئے جانے کے حوالے سے مقامی حقوق انسانی کارکن محمداحسن اونتونے ریاستی حقوق انسانی کمیشن اورقومی حقوق انسانی کمیشن میں 2الگ الگ عرضیاں دائرکردیں ۔انٹرنیشنل فورم فارجسٹس کے چیئرمین محمداحسن اونتونے بتایاکہ رواں برس جنوری سے ماہ جون کے اوآخرتک جنوبی اوروسطی کشمیرمیں انکائونٹرمخالف مظاہروں اوردیگرپُرتشددواقعات کے دوران فوج اورفورسزکی گولی باری کے نتیجے میں 23عام شہری جاں بحق ہوئے ۔انہوں نے کہاکہ ان میں وہ 8عام شہری بھی شامل ہیں جو9فروری2017کوسرینگرلوک سبھانشست کیلئے کرائے گئے ضمنی چنائو کے دوران وسطی ضلع بڈگام میں مختلف مقامات پرموت کی نیندسلادئیے گئے ۔محمداحسن اونتوکے بقول انہو ں نے ان ہلاکتوں کے حوالے سے مقامی حقوق انسانی کمیشن میں جوعرضی دائرکی ہے ،اُ س میں انہوں نے یہ موقف اختیارکیاہے کہ مختلف نوعیت کے احتجاجوں کے دوران مظاہرین کیخلاف مہلک یاجان لیواہتھیاروں کااستعمال بلاجوازہے ،اسلئے ایسی ہلاکتوں میں ملوث فوجی وفورسزافسروں اوراہلکاروں کیخلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے ۔انہوں نے کہاکہ ریاستی حقوق انسانی کمیشن نے اُنکی دائرکردہ عرضی یاپٹیشن کوزیرسماعت لانے کیلئے درج کرلیا۔اس دوران محمداحسن اونتوکے بقول انہوں نے کشمیر میں جنگجومخالف آپریشنوں یاکارروائیوں کے دوران محصورعساکرکیخلاف کیمیائی ہتھیاروں کااستعمال کئے جانے کے حوالے سے الگ الگ عرضیاں ریاستی حقوق انسانی کمیشن اورنیشنل ہیومین رائٹس کمیشن میں دائرکیں ۔انہوں نے کہاکہ اپنی دائرکردہ عرضیوں میں انہوں نے یہ موقف سامنے رکھاہے کہ بین الااقوامی قوانین کی رئوسے جنگ کے دوران بھی کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پرمکمل پابندی عائدکردی گئی ہے ،اوربقول محمداحسن اونتواگرکسی بھی ملک یاگروپ کوکیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کامرتکب پایاجاتاہے تواُس کیخلاف سخت پابندیاں عائدکردی جاتی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ حالیہ مہینوں کے دوران جنوبی کشمیراوروادی کے دیگرعلاقوں میں جھڑپوں کے دوران جوجنگجوازجان ہوئے ،اُ ن میں سے بیشترکی نعشیں جھلسی تھیں ،جواسبات کی جانب واضح اشارہ کرتاہے کہ ان جنگجوئوں کوزیرکرنے کیلئے فوج کی جانب سے کیمیائی یااسی طرزکے کوئی خطرناک ہتھیاراستعمال میں لائے گئے ۔محمداحسن اونتونے کہاکہ یہ مقامی اورنیشنل ہیومن رائٹس کمیشن کے دائرہ اختیارمیں آتاہے کہ وہ اس حساس معاملے کی جانچ کے حوالے سے احکامات صادرکریں ۔