ریاستی انتظامی کونسل کی دوسری میٹنگ منعقد

 لاؤڈا کی جانب سے مشینوں کی حصولیابی اور ریسرچ اسسٹنٹوں کے مشاہرے میں اضافہ کو ہری جھنڈی

 

سرینگر// گورنر این این ووہرا نے راج بھون میں ریاستی انتظامیہ کونسل کی دوسری میٹنگ کی صدارت کی۔میٹنگ میں گورنر کے مشیروں بی بی ویاس، وجے کمار اور خورشید احمد گنائی کے علاوہ چیف سیکرٹری  بی وی آر سبھرا منیم نے شرکت کی۔ریاستی انتظامیہ کونسل نے مختلف معاملات پر تبادلہ خیال کرنے کے علاوہ انتظامی محکموں کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز پر غور وخوض کیا۔

جنگلاتی اراضی کا استعمال 

 انتظامیہ کونسل نے ریاست کے مختلف علاقوں میں ریلویز، سڑکوں، پینے کے پانی اور دیگر سیکٹروں میں ترقیاتی سرگرمیاں دردست لینے کے لئے ریاست کے مختلف علاقوں میں29.90 ہیکٹر جنگلاتی اراضی کی منتقلی کو منظوری دی ہے۔یہ تجویز چیف سیکرٹری کی سربراہی میں فارسٹ ایڈوائزری کمیٹی کی106 ویں میٹنگ میں20 اپریل2018 ء کو دی گئی تھی۔ جنگلاتی اراضی پر جو پروجیکٹ تعمیر کئے جائیں گے اُن میں پُل، ٹنل وغیرہ شامل ہیں۔اس کے علاوہ چندن واڑی میں0.25 لاکھ گیلن گنجائش والے فلٹریشن پلانٹ، ننون میں0.40 لاکھ گیلن صلاحیت والے ریزروائیرکی تعمیر بھی شامل ہے۔

 کئی قوانین کو منظوری

 ریاستی انتظامیہ کونسل نے’’ دِی جموں اینڈ کشمیر سٹیٹ ٹرسٹ فار ویلفئیر آف پرسنز وِد آرٹیزم، سیربرل پیلسی، مینٹل ریٹارڈیشن اینڈ ملٹی پل ڈِ س ایبلٹیز بِل2018 ‘‘ اور’’ دی جموں اینڈ کشمیر ڈرگس اینڈ میجک یمڈیزر بِل2018 ‘‘ کے قانونی مسودے کو منظوری دی ہے۔’’ دِی جموں اینڈ کشمیر سٹیٹ ٹرسٹ فار ویلفئیر آف پرسنز وِد آرٹیزم، سیربرل پیلسی، مینٹل ریٹارڈیشن اینڈ ملٹی پل ڈِ س ایبلٹیز بِل2018 ‘‘ کو متعارف کرنے کا مقصد جسمانی طور ناخیز افراد کو مدد فراہم کرکے زندگی گذارنے کے قابل بنانا ہے۔اس بل کے تحت ایسے افراد کے لئے کئی مرکزی معاونت والی سکیمیں اور پروگرام عملائے جائیں گے جو ایسے افراد کی با ز آباد کاری میں معاون ثابت ہوں گے۔’’ دی جموں اینڈ کشمیر ڈرگس اینڈ میجک یمڈیزر بِل2018 ‘‘ کو متعارف کرنے کا مقصد ادویات کے بارے میں گمراہ کُن اشتہارات پر نگاہ رکھنا اور اُن پر رو ک لگانا ہے۔سال1954 میں مرکزی حکومت نے’’ دی جموں اینڈ کشمیر ڈرگس اینڈ میجک یمڈیزر بِل2018 ‘‘ کو منظور کیا تھا۔اس وقت یہ قانون ریاست جموں وکشمیر کے بغیر پورے ملک میں نافذ تھا۔ریاست میں اس قانون کو نافذ کرنے کے لئے ریاستی محکمہ صحت و طبی تعلیم نے تجویز پیش کی تھی۔

شیٹی پے کمیشن کی عمل آوری

 انتظامیہ کونسل نے شیٹی پے کمیشن کی سفارشات کو عملاتے ہوئے اور عدالتِ عظمیٰ کے احکامات کے تحت ذیلی عدالتوں میںریڈررس گریڈ ون کی29 ، ریڈرس گریڈ2  کی58 ، سنیئر سٹینو گرافرس کی23 اور جونئیر سٹینو گرافرس کی  21 اسامیوں کو معرض وجود میں لانے کو منظوری دی ہے۔ان اسامیوں کو معرض وجود میں لانے سے ریاست جموں وکشمیر میں ذیلی عدالتوں کے عملے کے لئے کمیشن کی سفارشات کو مکمل طور عملایا ہے۔

 ریسرچ اسسٹنٹوں کے مشاہرے میں اضافہ

 انتظامیہ کونسل نے ریاستی ہائی کورٹ میں ریسرچ اسسٹنٹس کی حیثیت سے کام کر رہے ملازمین کو دیئے جانے والے مشاہرے کو15 ہزار روپے ماہانہ سے بڑھا کر25 ہزار روپے ماہانہ کرنے کو منظوری دی ہے۔اس قدم سے ریسرچ اسسٹنٹوں کو ماہانہ مشاہراہ ملک کی دیگر عدالتوں میں کام کر رہے ریسرچ اسسٹنٹوں کے مساوی ہوجائے گا۔

لاؤڈا کی جانب سے مشینوں کی حصولیابی 

 ایک اہم فیصلے کے تحت ریاستی انتظامیہ کونسل نے جے اینڈ لیکس اینڈ واٹر ویز ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے گلوبل ٹینڈرنگ پراسیس کے ذریعے ڈل اور نگین جھیلوں کی چار بیسنوں کی صفائی کے لئے جدید مشینیں حاصل کرنے کو منظوری دی ہے۔ریاستی انتظامیہ کونسل نے زمینی حقائق کا ادارک کرتے ہوئے اس معاملے میں فوری رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ انتظامیہ کونسل نے روز دے کر کہا ہے کہ تمام آبی ذکائیر بشمول ڈل اور نگین جھیلوں کی عظمت رفتہ کو بحال کرنا لازمی ہے اور اس ضمن میں تمام طرح کے اقدامات کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لئے مالی اور مکینیکل وسائل کا بھرپوراستعمال بھی کیا جائے گا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ لاؤڈا کے پاس دستیاب مشینیںپُرانی ہوچکی ہیں اور ان مشینوں سے گنجائش کے علاوہ کام لیا جارہا ہے۔25 مربع کلو میٹر کے رقبہ میں ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کہ وجہ سے ان مشینوں کی کارکردگی متاثر ہوئی ہے۔
 
 

 انتظامیہ میں بہتری لانے کے میکانزم کا اعلان

چیف سیکرٹری ’’مشن موڑماڈل‘‘ کی نگرانی کریں گے

سرینگر//ریاستی انتظامی کونسل نے ریاست میں جاری ترقیاتی پروگراموں میں سرعت لانے کیلئے جامع اور با معنی اقدامات کرنے اور انتظامیہ کی فراہمی میں بہتری لانے کیلئے کوششوں پر زور دیا۔ کونسل کی میٹنگ میں انتظامیہ کی فراہمی میں بہتری لانے کیلئے مشن موڑ کے تحت اقدامات کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ میٹنگ میں اس مقصد کیلئے کئے جانے والے دیگر اقدامات پر بھی غور خوض کیا گیاتاکہ لوگ موثر خدمات کی فراہمی سے استفادہ کرسکیں اور زمینی سطح پر نتائج واضح ہوں۔ کونسل نے اس مقصد کیلئے چیف سیکرٹری کو میکانزم ترتیب دینے کی ہدایت دی ،جس میں بڑے پروجیکٹوں، سکیموں، پی ایم ڈی پی کے تحت جاری پروجیکٹوں اور مرکزی سرکار کی دیگر سکیموں کی پیش رفت پر مسلسل نگاہ رکھنے کیلئے مخصوص سیل کا قیام بھی شامل ہے۔اس میکانزم کے تحت انفرادی انتظامی معاملات مثلاً تقرری کے قواعد، ترقیوں، پینشن فوائد، کنٹریکچول تقرریاں،تیز تر بنیادوں پر تقرریاں، سینارٹی لسٹ کو حتمی شکل دینا، جائیداد کی واپسی، ذاتی شکایات، باقاعدگی وغیرہ اور دیگر معاملات کو نپٹانے میں معقولیت لانا بھی شامل ہوگا۔اس میں مختلف سطحوں پر رشوت خوری مخالف میکانزم کو مضبوط بنانا بھی شامل ہے۔ریاستی انتظامیہ کونسل نے اس ضمن میں تجاویز کوفوری طورحتمی شکل دینے اور چیف سیکرٹری کی وساطت سے پیش کرنے کی متعلقہ محکموں کو ہدایت دی۔
 
 

ویجی لنس کمیشن کے کام کاج کا جائزہ 

نیوز ڈیسک
 
سرینگر// گورنر این این ووہر انے ریاستی ویجی لنس کمیشن کے کام کاج کا جائزہ لیا اور انہیں چیف ویجی لنس کمشنر پی ایل گپتا نے کمیشن کی پانچویں سالانہ رِپورٹ پیش کی۔رِپورٹ میں کمیشن کو موصولہ شکایات اور ان کے نمٹارے کے حوالے سے کمیشن کی کارروائی کے علاوہ کمیشن کو مزید فعال اور نتیجہ خیز بنانے کے حوالے سے تجاویز درج ہیں۔رِپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمیشن کو سال 2017ء کے دوران 445شکایات موصول ہوئیں جن میں 26شکایات محکمہ جاتی کارروائی کے لئے جبکہ 16 شکایات ایف آئی آر درج کرنے کے لئے ریفر کی گئی۔اس میں مزید کہا گیا ہے کہ 156شکایات کو جائزے کے بعد جبکہ 82 شکایات کو تحقیقات کے بعد خارج کیا گیا۔اس مدت کے دوران کمیشن نے 280 شکایات کا ازالہ کیا۔رِپورٹ میں بتایا گیا کہ فروری 2013 میں کمیشن کے وجود میں آنے سے اب تک 4,787 شکایات موصول ہوئیں جن میں 4,246شکایات کو نمٹایا گیا جبکہ 41شکایات کی جانچ کی جارہی ہے۔گورنر موصوف نے کمیشن کی سفارشات پر غور کیا جن میں جموں اور سرینگر شہروں میں ریوینو ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن کا پائیلٹ پروجیکٹ وقت پر مکمل کرنا ، تمام سرکاری محکموں میں چیف ویجی لنس افسروں کی تعیناتی،ایس وی سی کی سفارشات پر ضلع ویجی لنس افسروں کی تعیناتی اور دیگر معاملات شامل ہیں۔گورنر نے بہترین کام کاج کے لئے کمیشن کی ستائش کی اور اس پر زور دیا کہ وہ التوا ٔمیں پڑی تمام شکایتوں پر کڑی نظر گزر رکھیں اور سٹیٹ ویجی کمیشن ایکٹ 2011کے مدوں کے مطابق کیسوں کو حل کرائیں۔انہوں نے کہاکہ لوگوں میں بیداری پیدا کرنے کے لئے ہرممکن اقدامات کئے جانے چاہئیں تاکہ وہ کسی بھی سرکاری اہلکار کی طرف سے بے ایمانی کے معاملات کو رپورٹ کرنے کے لئے آگے آجائیں۔گورنر نے مختلف انتظامی سیکرٹروں کے پاس پڑی کمیشن کی سفارشات پر معیاد بند مدت کے اندر کارروائی کرنے کی بھی ہدایت دی۔