ریاستی انتظامیہ کو نسل فیصلے کیخلاف یونیورسٹی طلباء کا احتجاج جاری

جموں //ریاستی انتظامیہ کو نسل کی جانب سے لئے گئے حالیہ فیصلے کیخلاف جموں یونیورسٹی کے طلباء نے اپنا احتجاج جاری رکھاہواہے ۔یونیورسٹی طلباء نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ بے روز گار نوجوانوں کو انصاف فراہم کرنے کیلئے انتظامیہ کونسل کے حالیہ فیصلے کو منسوخ کیا جائے ۔اپنی مانگ کو لے کر طلباء نے یونیورسٹی گیٹ کے سامنے سڑک کو گاڑیوں کی آمد ورفت کیلئے بند کر دیا جبکہ بعد میں انہوں نے بکرم چوک کی جانب مارچ کر کے فلائی ائور کو گاڑیوں کی آمد ورفت کیلئے بند کرنے کی کوشش بھی کی ۔ یونیورسٹی کے مختلف شعبوں کے طلباء کے علا وہ ایم اے ایم کالج کے طلباء نے مشترکہ طورپر ریاستی انتظامیہ کیخلاف نعرے بازی کرتے ہوئے کہاکہ ریاستی انتظامیہ کونسل کے حالیہ فیصلے میں غیر تدریسی عملے کی 4500اسامیوں کو تدریسی عملے میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ریاست میں کام کر رہے رہبر تعلیم او ر ایس ایس اے ٹیچروں کو ان اسامیوں پر لایا جا سکے ۔طلباء نے کہاکہ اس وقت ریاست میں بے روز گار نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور ریاستی انتظامیہ کو نسل کے فیصلے پر اگر عمل کیا گیا تو ان نوجوانوں کی تعداد میں اور بھی اضافہ ہو جائے گا ۔انہوں نے کہاکہ رہبر تعلیم اور ایس ایس اے ٹیچروں کو ریاستی انتظامیہ بے روز گار نوجوانوں کیساتھ نا انصافی کر کے ایڈ جسٹ نہ کرے بلکہ ان کیلئے ایک علیحدہ سے پالیسی مرتب کی جائے ۔طلباء نے ریاستی انتظامیہ سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ وہ اپنے فیصلے کو واپس لے تاکہ بے روز گار نوجوانوں کو انصاف فراہم کیا جاسکے ۔طلباء نے کہاکہ اگر جلداز جلد مذکورہ فیصلے کو واپس نہیں لیا گیا تو اس سلسلہ میں ایک بڑا احتجاج شروع کیا جائے گا ۔