ریاستوں میں حقوقِ انسانی کیلئے خصوصی عدالتیں کیوں نہیں

 سرینگر//سپریم کورٹ نے ریاستوں سے کہا ہے کہ انسانی حقوق کی پامالیوں کے کیسوں کی سماعت کیلئے خصوصی عدالتوںکا قیام کیوں عمل میں نہیں لایا جارہا ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس دیپک مشرا  نے کہا کہ اگرچہ1993میں ریاستی سرکاروں سے کہا گیا تھا کہ وہ ایسی عدالتوں کا قیام عمل میں لائیں تاہم 25برسوں سے کسی بھی ریاست نے ایسا نہیں کیا ۔مغربی بنگال میں بچوں کی سمگلنگ کے حوالے سے عدالت میں کلکتہ ہائی کورٹ کو چلینچ کرنے کیلئے دائر ایک عرضی جس میں نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چالڈ رائٹس کے حوالے سے تحقیقات کیلئے ریاستی سطح کے کمیشن نے معاملے پر پہلے ہی غور کیا تھا۔