رہے نام اللہ کا!

کبھی ایسا نہیں ہوا ہے کہ کوئی ملک آزاد بھی ہو اور غلام بھی، لیکن آج بھی ہم جدید دور میں کچھ ایسا دیکھ سکتے ہیں، کچھ ممالک ہیں جو زور آوروں کے غلام ہیں، کچھ طاقت ور اپنی انا کے غلام ہیں اور کچھ برتری کے زعم میں مبتلا ہیںاور کچھ حماقت کے سبب نقصان برداشت کر رہے ہیں، متعدد ایسے بھی ہیں جو عالمی ساہو کاروں کے اُدھار پر جی رہے ہیں، امن دشمن، انسانی حقوق کی پامالیوں پر اترانے والے، آگ  کے رسیا خون کے پیاسے، کھیت کھلیان بنجر بنانے والے ،باغات خاکستر کر نے والے، شفاخانے منہدم ، اسکول مقفل اور قبرستان آباد کر نے والے۔ اس کے باوجو امریکہ ان کا دوست نماآقا ، یہ امر یکہ کے جی حضوری ۔ لیکن انہیں علم نہیں کہ آج طاقت کا زمانہ نہیں ، علم، سائنس ، تہذیب کا دور اور مفادات کی نگہبانی کا وقت ہے ۔ابھی کل کی بات ہے کہ اوائل 2017ء میں جب امریکہ کے نئے صدر وائٹ ہاؤس میں تشریف لائے ، اپنی سپریم ملٹری پاور کے سامنے کابل میں چند ہزار اسلحہ بدست طالبان کو دیکھا تو از راہِ تکبّر ان کے خلاف سخت ایکشن لینے کے احکامات جاری کئے ۔ یہی نہیں بلکہ انڈیا،پاکستان، ایران کے بارے میں ایک نئی پالیسی وضع کی اور اس کا اعلان بڑے طمطرا ق سے کیا ،لیکن ہوا کیا ؟ جب اس کو روبہ عمل لانے کی کوشش کی تو دنیا کی طاقت ور سمجھی جانے والی امریکی فوج نے فیصلے اور اس پالیسی کو  خطے میںنافذ کرنے سے معذرت کرکے ہاتھ کھڑے کر دئے۔ امریکی فوج کے اس فیصلے کے سامنے سی آئی اے اور پینٹاگون کی رپورٹیں دھری کی دھری رہ گئیں، سابق صدر اوباما کے آخری دور میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ دسمبر 2014ء تک تمام امریکی اور ناٹو ٹروپس واپس بلا لئے جائیں گے۔ دسمبر 2014ء تک صرف 8700 امریکی فوجی افغانستان میں باقی رہ گئے ۔بتایا گیا کہ وہ ساڑھے تین لاکھ افغان آرمی اور اڑھائی لاکھ افغان پولیس کو ٹریننگ دے کر ان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر کے گھر کی راہ لیں گے ۔ اس کے دو سال بعد اوباما چلے گئے مگر افغانستان میں امریکہ کی شکست فاش جاری وساری ہے۔ ٹرمپ کو دو سال ہونے والے ہیں اُن کی پشت پر افغانستان میں امر یکہ کے لئے اٹھارہ سالہ رسوائی کا بوجھ ہے جوایک ریکارڈ ہے۔ سی آئی اے اور پینٹاگون اور مزیدکتنےبھی 18سال سر زمین افغان میںگزاریں ، پھر بھی امریکی سپریم پاور کا بھرم ٹوٹ کے رہے گا ۔اب امریکا نے وہاں سے فوج باہر نکال کر جنگ کی رسوائی کسی دوسرے کے ہاتھ بیچنے کی منصوبہ بندی کی ہے۔ ا س کے مطابق سب سے پہلے افغان وار کو ایک نجی عسکری تنظیم کے حوالے کیا جائے گا ، یعنی کابل مستقبل میں بلیک واٹر کے سپرد کیا جارہا ہے جس میں امر یکہ کےتجربہ کار ریٹائرڈ افسروں اور جوانوں کو بھرتی کیا جائے گا، ان کو جدید ترین اسلحہ سے لیس کیا جائے گا، باقاعدہ جدید ہتھیاروں اور گولہ بارود پر ٹریننگ دی جائے گی اور جب ٹریننگ کا مجوزہ دورانیہ پورا ہو جائے گا تو ان کو افغانستان میں طالبان کے خلاف لانچ کرکے ریگولر آرمی اور ائر فورس کو وہاں سے نکال لیا جائے گا۔ اس تنظیم کا سارا خرچ حکومت اور بلیک واٹر کے درمیان طے پارہا ہے، روٹی، کپڑا، مکان سب ملے گا۔
بلیک واٹر تنظیم کا بانی ایرک پرنس (Erik Prince) نامی ایک سابق نیوی آفیسر ہے بلیک واٹر تنظیم کی کارکردگی کا امتحان افغانستان، پاکستان اور عراق میں ہوچکا ہے ۔پاکستان آرمی نے جلد اس کا سراغ لگا کر اس کو ملک سے باہر نکال دیا تھا۔ ایرک پرنس نے امریکی انتظامیہ کو رپورٹ پیش کی ہے جس میں ناکامی کی وجوہات پیش کی تھیں کہ ایک جنگ کے ٹمپو کا تسلسل بار بار توڑ دیا جاتا ہے۔ بگرام، شیندند اور قندھار کے فضائی اڈوں کو استعمال کیا جائے، کابل حکومت سپورٹ فراہم کرے، افغانستان کے ایک معروف ٹی وی چینل ’’طلوع‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے ایرک پرنس نے کہا : ’’میں ان تینوں قلتوں کا سدباب کروں گا ۔اس نے کابل انتظامیہ کو یقین دلایا ہے کہ وہ افغان قوانین اور بین الاقوامی معاہدوں کی پابندی کرے گا لیکن اس اسکیم کی افغانستان کی طرف سے شدید مخالفت کی جا رہی ہے۔ صدر اشرف غنی نے ابھی حال ہی میں ایک بیان دیا کہ کرائے کے فوجی وہ کام ہر گز نہیں کر سکتے جو سرزمین افغانستان کے سپوت کر سکتے ہیں۔ یہ سب اپنی جگہ، لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ امریکا نے کیا کیا پیش بندیاں کر رکھی ہیںمگر اس کے باوجود آچارو اقرائین سے لگتا ہے کابل سے امریکہ کنگال ہو کر بے نیل ومرام لوٹے گا۔ رہے نام اللہ کا  
