رہبر کھیل اساتذہ کیخلاف طاقت کے استعمال کی وسیع پیمانے پر مذمت این سی ،پیپلز کانفرنس،اپنی پارٹی اور عام آدمی پارٹی کاجائز مطالبات حل کرنے پر زور

جموں// جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس،پیپلز کانفرنس ،اپنی پارٹی اور عام آدمی پارٹی نے اپنے جائزہ حقوق کے مطالبے کو لیکر پُرامن احتجاج کررہے رہبر کھیل اساتذہ کیخلاف طاقت کے استعمال کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ وہ ملازم مخالف پالیسی کو ترک کرے اور احتجاجی اساتذہ کے جائزہ مطالبات کو فوری پر پورا کیا جائے اور حال ہی میں رہبر کھیل کے تحت تعینات ٹیچروں کے حوالے سے نکالے گئے آرڈر کو فوری طور کالعدم قرار دیں۔نیشنل کانفرنس کے صوبائی صدر ناصر اسلم وانی، ایڈوکیٹ رتن لعل گپتا، رکن پارلیمان ایڈوکیٹ محمد اکبر لون اور جسٹس(ر) حسنین مسعودی نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں پُر امن طور احتجاج کر رہے رہبر ِ کھیل اساتذہ پر پولیس لاٹھی چارج کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہ اکہ مظاہرین اپنی مستقلی،اُجرتوں میں اضافہ ، اُجرتوں کی واگذاری اور دیگر مطالبات کو لیکر پُرامن احتجاج کررہے تھے لیکن پولیس نے غیر ضروری طور پر ان کیخلاف طاقت کا استعمال کیا اور لاٹھیاں برسانے کے علاوہ انہیں گرفتار بھی کیا۔

 

انہوں نے کہاکہ رہبر ِ کھیل کافی عرصے سے اپنی خدمات انجام دے رے ہیں اور حکومت کو چاہئے کہ انہیں مستقل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے جائز مطالبات کو پورا کیا جائے۔ یہ ایک انسانی مسئلہ ہے اور حکومت کو سخت گیری کے بجائے اس مسئلے کی جانب انسانیت پر مبنی اپروچ اپنانا چاہئے۔ اس دوران پیپلز کانفرنس کے نائب صدر اور میڈیا ہیڈ سید بشارت بخاری نے احتجاجی رہبرِ کھیل اساتذہ پر پولیس کارروائی کے دوران لاٹھی چارج کی پْر زور الفاظ میں مذمت کی۔ بخاری نے مطالبہ کیا کہ رہبرِ کھیل اساتذہ کیلئے مخصوص ملازمتوں کا حق برقرار رکھا جائے اور حکومت ان کے ساتھ حق تلفی کرنے کا رویہ ترک کرے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اساتذہ پچھلے پندرہ دنوں سے انتظامیہ کے خلاف جمہوری طریقے اور پْر امن طور احتجاج کر رہے ہیں تاکہ ان کے جائز مطالبات پورے کئے جائیں مگر افسوس کہ انتظامیہ نے ان کے مطالبات پر کان دھرنے کے بجائے ان پْرامن مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے سختی سے کام لے کرغیر جمہوری رویے کو اپنا لیا جو قابلِ افسوس ہے۔

 

بخاری نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ رہبرِ کھیل اساتذہ کی شکایات اور خدشات کو صبر سے سنیں اور کھیل سرگرمیوں کے ساتھ نوجوانوں کی مشغولیت کو مزید گہرا کرنے کی تمام کوششوں اور کاوشوں کو آگے بڑھانے کے تعلق سے ایک سازگار ماحول پیدا کریں۔ادھراپنی پارٹی یوتھ ونگ ریاستی نائب صدر رقیق احمد خان نے اپنے جائز مطالبات کے حق میں احتجاج کر رہے رہبر ِ کھیل اْساتذہ پر پولیس لاٹھی چارج کی سخت مذمت کی ہے۔انہوں نے کہاکہ احتجاج کر رہے رہبر ِ کھیل ملازمین جن میں خواتین بھی شامل تھیں، پربے رحمی سے لاٹھی چار ج اِس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ایل جی انتظامیہ جموں وکشمیر میں لوگوں کی آواز دبانے کے لئے کس طرح کے ظالمانہ رویہ اختیار کر رکھا ہے ۔اپنی پارٹی یوتھ ونگ نے ایل جی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ لاکھوں خاندانوں کی طرح رہبر کھیل اْساتذہ کے حقیقی مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے۔ دریں اثناء عام آدمی پارٹی ریاستی ترجمان پرتاپ سنگھ جموال نے بھی اپنے حقیقی مطالبات کے لیے احتجاج کر رہے رہبر کھیل اساتذہ پرلاٹھی چارج کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ خواتین سمیت پرامن احتجاج کرنے والے ریک ملازمین پر پولیس اہلکاروں کی کارروائی اس بات کا اشارہ ہے کہ جموں و کشمیر میں ایل جی انتظامیہ لوگوں کی آواز کو دبانے کے لیے جابرانہ طریقے اپنا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رہبرکھیل اساتذہ کو جموں و کشمیر حکومت میں محکمہ یوتھ سروسز اینڈ سپورٹس کے تحت بھرتی کیا گیا تھا اور یہ ملازمین اب مختلف تعلیمی اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔انہوںنے ایل جی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ رہبر کھیل اساتذہ کے حقیقی مطالبات کو ترجیحی طور پر حل کرے کیونکہ لاکھوں خاندان کے افراد رزق اور روزی روٹی کے لیے ایسے ملازمین پر منحصر ہیں۔