رہبر نے مل کر لوٹ لیا رہزنوں کے ساتھ

 حیران اور ششدر ہوں ۔سمجھ میں نہیں آتا کیسے اور کس طرح اس ہوس پرست سیاست کاری پر تبصر ہ کروں جس کو یہاںکے اقتدار نواز لیڈروں نے اپنی زندگی کے رگ و پئے میں اُتار کے رکھ لیا ہے ، جس کو متاع ِ عزیز سمجھ کر وہ اس پر مر مٹنے جارہے ہیں،جس کے عشق میں وہ سب کچھ ،ہاں ’سب کچھ ‘بیچ کھانے پر تیار ہی نہیں ،تلے ہوئے ہیں۔
میکاولی طرز سیاست میں مکر و فریب کے جتنے حربے گنوائے گئے ہیں،ان سب کو انہوںنے مات کیا ہوا ہے ۔چانکیہ نیتی میں جھوٹ ،خوشامد ،دغا بازی کے جتنے ہنر سکھائے گئے ،وہ یہ اپنے پچھواڑے سے چھوڑکے آئے ہیں۔سچ مانئے جس سیاست کاری کی انہوں نے نیو ڈالی ہے ، اور جس کو وہ آئے روزاپنی ہوسِ اقتدار کی امرت پلائے جارہے ہیںاور جس کی چاہت میں وہ اپنے ہی لوگوں کو کٹ مروانے اور ان کی آرزئوں اور تمنائوں کا خون کرنے میں جعفر اور صادق کی شرمناک تاریخ دہرا تے آئے ہیں،اس ’’ادا کاری ‘‘(کشمیری لفط ’تارن گری‘اس کا زیادہ بہت احاطہ کرتا ہے )پر ہماری زبان گنگ ہے ،چاہے ایک ہی سانس میں قلم کی نوک پر سوسو الفاظ گدا گری کی دستک دیتے دیتے تھک بھی کیوں نہ جائیں ،جس مکر و فریب ، جعل سازی اور دغا بازی ،دوغلے پن اور کذب بیانی ،دوہرے معیار اور جذباتی استحصال سے عبارت سیاست کاری کوان لوگوںنے اپنی زندگیوں کا اوڑھنا بچھونا بنا کے رکھا ہے ،اس کو پورے طور بیان کرنے اور موزون الفاظ کے پیرایہ میں سجانے کیلئے فتنہ ابلیسیت کے اماموں کی لائبرریاں بھی ہیچ پڑیں گے ،اس لئے خود ’’ابلیس ِ معظم ‘‘اس قسم کے کرداروں کو دیکھ کر،پرکھ کراور تول کر آج یہ کہنے پر خود کو مجبور پارہا ہے کہ ’’میں اسی ساری دنیا کا سیر کرکے آیا ہوں ، ہلاکو اور چنگیز کو کھوپڑیوں کے مینار سجاتے دیکھ آیا ہوں ،بستیوںکی بستیوں کو اپنے مریدوں کے ذریعے تاراج کرواکے اور وہاں الوئوں کا جشن ِ رقص منانے کے آیا ہوں،مگر اپنے جن خونین ہاتھوں پر آپ مسیحائی کے دستانے پہن کے نئے چہرے کے ساتھ سامنے آرہے ہیں اور شرم و حیا کی پوری جلد کو اتار کے آرہے ہیںاور ’’تارن گری‘‘کی نئی ایڈیشن کے ساتھ ’معصومانہ ادائوں ‘کے ساتھ آرہے ہیں اور قوم و ملت کی بچی کھچی متاع،عزت و آبرو لوٹنے کے لئے آرہے ہیں ،اس ’’مسیحائی ‘‘،’’معصومیت ‘‘ اور ’’خیر خواہی ‘‘کو دیکھ کر میں اپنا جِبہ آپ کے حوالے کرتاہوں اور فخر کے ساتھ اعلان کرتا ہوں کہ ’’واللہ ،تم میرے شاہکار ہو‘‘!!
1938ء سے ہم اس فریبی سیاست کے ہاتھوں کٹتے مرتے ،لٹتے پٹتے آئے ہیں۔انہی ہاتھوں کی لکیروں پر بھروسہ کرکے ہم منزل ِمقصود کے قریب پہنچنے کے باوجود منزل سے دور ہوتے چلے گئے ۔ انہی ہاتھوں پر بوسہ کرتے ہوئے ہم نے خود کو محکومیت اور مقہوریت کی زنجیروں میں جکڑ لیا ۔ہماری چاہتوں کے قبلے انہوںنے اپنی ذاتی ہوس کے نذر کئے ۔اپنی انا اور شخصی دبدبے کا ہُبل (بت)کھڑا کرنے کا ہی یہ بھوت تھا کہ تاریخی جامع مسجد سے اٹھنے والی تحریک ِ حریت کا رخ موڑ کر قوم اور ملت کو بانٹ دیاگیا ۔آج ایک لمحے کی خطاء عشروں کی سزائوں میں ہم پارہے ہیں۔سورہ رحمان پڑھنے والے اس بدنصیب قوم کے پاکیزہ مذہبی جذبات اور اسلام سے وفا شعاری کا یوں بھیانک اور ظالمانہ استحصال نہ کرپاتے تو آج ہمارا وطن کوچہ قاتل نہ بنتا ،ہمیں روز کفن بردوش نہ رہناپڑا ،فردوس بریں پہ جہنم کا گماں نہ ہوتا۔افسو س،صد افسوس ،اسلام کے حق میں جس ملتِ مظلوم کی بے پناہ عقیدت اور محبت ہی اس کیلئے جرم بن جائے،اس قوم کی اس سے زیادہ بڑی بدقسمتی او ر کیا ہوسکتی ہے ۔اس ’’کمزوری ‘‘کو بھانپ کر استحصالی لیڈر شپ نے ہمیں اسی طرح ڈس لیا جس طرح آدم ؑ اور حوا ؑ کے ازلی دشمن نے ’’حیات ِجاوداں‘‘کی لالچ دیکر دونوںکے ستر کھولوا کر جنت سے باہر نکال دیا۔یوں ہم اپنے ہی زہبروں کی رہزنی میں لٹتے گئے ۔اگر چہ اس رہزنی میں سیکولر اور جمہوریت کے اپدیش  دینے والوں نے اپنے ’’دوستوں ‘‘کو بھی نشانہ عبرت بنا کے چھوڑ دیامگر اس سے بھی وہ نہ سنبھل سکے اور ہر ذلت کو فخر سمجھ کرمزید ذلت اور رسوائی کے گڑھے میں لڑھکتے چلے گئے ۔ بائیس برس تک حقِ خود ارادیت(استصواب رائے )کیلئے وہ قوم کو اٹھ کھڑا ہونے اور غصب شدہ حقوق کی بحالی کیلئے جان ومال کی قربانیاں دینے کی تحریک دیتے رہے مگر جب ذاتی اور خاندانی منفعت قومی و ملی مفادات پر غالب آئی تو بڑی بے شرمی کے ساتھ اس مکرم تحریک کو ’’سیاسی آوارہ گردی‘‘کی گالی دینے میں فخر محسوس کرنے لگے ۔اُدھر آقا لات پر لات مارتا رہا ،اِدھر یہ سلطانی جمہور کو دعائیں دیتے رہے۔
وہ جو ایک مہاراجہ کی مطلق العنانی کے خلاف ‘‘کوئٹ کشمیر مومنٹ ‘‘کے نقیب ٹھہرے ، ہوسِ اقتدار نے ان کے ذہنوں کو اس طرح پراگندہ کردیا کہ وہ نہ صرف جمہوریت کے لبادے میں بہت بڑے مہاراجہ کے صوبیدار بننے پر نازاں ہوئے بلکہ اس وراثت کواس کے خاندانی وارثوں نے ’’ظل ِ سبحانی ،کیا حکم ہے ‘‘کی غلامانہ ادائوں کے ساتھ اور بھی نکھا رااور پراموٹ کیا،حتیٰ کہ محمد مقبول بٹ کی ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کرنا ہو یا محمد افضل گورو کی پھانسی دئے جانے پر رضامندی کا اظہار ،این سی کے دونوں خاندانی سورمائوں نے اپنی اپنی باری پر عوامی خواہشات کے عوض ذاتی مفادات کوترجیح دی ۔
1953ء میںشیخ محمد عبداللہ کو جس حقارت کے ساتھ اور آئین و قانون کی دھجیاں اڑاکروزارت ِ عظمیٰ ،ہاں ’’وزارت ِ عظمیٰ ‘‘کی کرسی سے ہٹا کر اوٹا کمنڈ جیل میں بھیج دیا،شیخ موصوف کو قومی خواہشات کے علی الرغم منزل تبدیل کرنے کی ’’غلطی ‘‘کا احساس ہوا ۔اپنے ایک دوست کو جیل سے خط لکھ کر اس غلطی کا اعتراف کرکے لکھا ’’قوم مجھے خطا کار کہہ سکتی ہے ،مگر غدار نہیں ‘‘۔کاش ان کا یہ تائب ہونامستقل اقدار کا حامل رہتا تو ظاہر اس قوم کو کچلنے اور دبانے کیلئے دست ہائے جفا کیش کوکلہاڑی کے ہاتھ ہماری صفوں سے نہ ملتے ۔تاریخ نے ثابت کیا کہ غیروں نے جو ظلم و بربریت کے پہاڑ ہم پر تو ڑ ڈالے ،خود مختاری کے جن جن آئینی پشتوں اور بندھوں کو ڈھہ دیا ،ہماری سیاسی ،تہذیبی اور مذہبی شناخت مٹانے یا کمزور کرنے کے جتنے منصوبے بنائے ،ان میں ہمارے ان طالع آزما سیاست کاروں کا رول اظہر من الشمس ہے ۔کونسی ایسی جارحیت ہے جس کا دفاع دلّی کے ان تنخواہ داروںنے نہیں کیا ہے ۔کونسا ایسا ظالمانہ سیاہ قانون ہے جس کے اطلاق اور پھر اس کی عمل داری میں خفیہ یااعلانیہ ان کا آشیرواد نہ رہا ہے اور کونسا ایسا عوامی مطالبہ ہے جس کو سبو تاژ کرنے کیلئے انہوںنے تعاون نہ کیا ہو۔افسپا اس وقت اگر اژدھا کا پھن پھیلائے کشمیریوں کو بے روک ٹوک دستے جارہا ہے ،این آئی اے اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ جیسی ’’مرکزی ایجنسیاں ‘‘مزاحمتی تحریک کے قائدین کی گردنوں پر اگر تلوار بن کر لٹک رہی ہیں یا پی ایس سے کے تحت اگر کشمیریوںکو وادی سے باہر زندانوں میں مقید کیاجارہا ہے ،اس کو جوازیت بخش دینے میں ان قوتوں کا کردار چھپا ہوا نہیں ہے۔
بھارت کی مین سٹریم سیاست میں عبداللہ کا’’ شدھی کرن‘‘کرنے کے بعد این سی نے اندرونی خودمختاری کی بحالی کے وعدے پر1977میں الیکشن لڑے اور جیت لئے لیکن غالب اکثریت کے باوجود ایک قانون بھی (سینکڑوں قوانین میںسے )واپس نہیں لیا یا منسوخ کیاگیا جس کی ضرب ریاستی خودمختاری پر پڑتی ہو۔حد یہ ہے کہ اصطلاحی ناموں کی تبدیلی کی خیرات مانگنے کی التجائیں بھی پائے حقارت سے ٹھکرائی گئیں۔اسی طرح1996میں جب این سی لیڈر فاروق عبداللہ کو لندن سے تحریک مزاحمت کے چہرے کو بگاڑنے کیلئے سرینگر لایا گیا تو اپنے والد کی طرح اٹانومی سلوگن کے وعدہ فریب پر ووٹ مانگے ،پھر اسمبلی سے اٹانومی کے حق میں قرارداد پاس کروائی گئی ۔دلّی نے اقتدار یا بے دخلی میں سے ایک کو چننے کا آپشن دیاتاہم قربانی نہیں دی گئی ۔خلوت ِ خاندانی عمر عبداللہ کے سرپر بندھی تو قہر سامانیوں کا نیا طوفانی چکر شروع ہوا اور الیکشن منشور میں درج تمام وعدے طاق ِ نسیاں بن گئے ۔
اس اندیشے کے پیش نظر کہ کہیں ایک ہی علاقائی پارٹی کے ہاتھوں میں اقتدار (چاہے اس میں مردانگی قوت بہت حد تک مضحمل ہوچکی ہو)مرکوز نہ رہے ،دلی کے پلان سازوں نے پی ڈی پی کی صورت میں این سی کے مدمقابل دوسری علاقائی تنظیم کشمیر میںپلانٹ کی اور اس کی باگ دور ا سکے ہاتھ میں تھمادی جو نرسمہا رائو سے زیادہ ہندوستانی تھا ،بلکہ بقول اپنی بیٹی محبوبہ مفتی کے وہ بائی کنوکشن ہندوستانی تھا۔جس کی زبان اور اخلاق متاثر کن تھے مگر لعاب ِ دہن میں فریب کا زہر چھپا ہوا تھا۔اُن کی بیٹی نے اپنے والد کے نقش ِ قدم پر چل کر نہ صرف ناگپوری عفریت کیلئے کشمیر کا راستہ کھول دیا بلکہ آستین کا سانپ بننے کی بجائے کشمیریوں کو آپ اپنے ہاتھوں اندھا بنانے اور قبروں میں سلانے اور نت نئے مظالم ڈھانے کا ریکارڈ توڑ دیا اور یوں خود بدنام زمانہ گورنر جگموہن کے طرزِ تیور دکھا کر ’’مردِ مونث ‘‘ثابت کیا۔آج دونوں پارٹیاں اپنے اپنے دور حکومت میں کشمیریوں پر ڈھائے گئے مظالم اور فریب کاریوں کی سیاہ تاریخ کو بڑی بے شرمی کے ساتھ بھلا کر جس قسم کی مکر و فن خواجگی کو تخلیق کرکے لوگوں کو بے وقوف بنانے کی کوششوں میں مصروف ہیں،اس کیلئے ضروری ہے کہ ماضی قریب کے آئینے میں ان کو اپنا چہرہ دکھا یا جائے ۔اگلی قسطوںمیں ملاحظہ فرمایئے۔
…………………..
 بشکریہ ہفت روزہ’’ نوائے جہلم ‘‘ سری نگر