رڈ بگ مکہامہ میں مسلح تصادم،3 حزب جنگجو جاں بحق

سرینگر//بڈگام کے رڈ بگ علاقے میں فوج اور عساکروں کے درمیان شبانہ معرکہ آرائی کے دوران حزب المجاہدین سے وابستہ3 جنگجو جان بحق ہوئے جن میں سے ایک کا تعلق پائین شہر کے حساس علاقے ملارٹہ سے ہیں۔اسلام و آزادی کے نعروں کی گونج کے بیچ تینوں عسکریت پسندوں کو سپرد لحد کیا گیا جبکہ تجمل اسلام عرف جاوید شیخ کی نماز ِجنازہ 6مرتبہ اورعاقب گل کی 2مرتبہ پڑھائی گئی،جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔شہر خاص کے5 تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں کرفیو جیسی پابندیاں عائد کی گئی تھی،جبکہ احتجاجی مظاہروں،سنگبازی اور ٹیر گیس و پیلٹ بندوقوںا کے استعمال سے45افراد زخمی ہوئے۔
معرکہ آرائی
 منگل کی رات سات بجے رڈبگ بونہ مکہامہ نامی گاؤں میں جنگجوؤں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے پر فورسز اور ریاستی پولیس نے مذکورہ گاؤں میں گذشتہ رات تلاشی آپریشن شروع کیا۔ تاہم جب سیکورٹی فورسز ایک مخصوص جگہ کی طرف پیش قدمی کررہے تھے تو وہاں موجود جنگجوؤں نے ان پر فائرنگ کی۔ فورسز نے جوابی فائرنگ کی جس کے بعد طرفین کے مابین باضابطہ طور پر جھڑپ کا آغاز ہوا۔علاقہ میں کسی بھی طرح کے جنگجو حامی مظاہروں کو روکنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری بلائی گئی تھی۔ رات بھر جاری رہنے والی جھڑپ ایک رہائشی مکان میں محصور تین جنگجوؤں کی ہلاکت پر ختم ہوگئی ۔جنگجوؤں کو اس وقت ہلاک کیا گیا جب انہوں نے رہائشی مکان سے باہر نکل کر سیکورٹی فورسز کا محاصرہ توڑنے کی کوشش کی۔ مسلح تصادم میں مارے گئے جنگجوؤں کی شناخت تفضل اسلام عرف جاوید شیخ ساکن چرپورہ نارہ بل، عاقب گل ساکن غوری پورہ حیدرپورہ اور سجاد احمد گلکار ساکن نوہٹہ حال ایچ ایم ٹی سری نگر کے بطور ہوئی ۔رڈبگ میں تین جنگجوؤں کے سیکورٹی فورسز کے محاصرے میں پھنسنے کی خبر پھیلتے ہی گذشتہ رات رڈبگ کے نزدیکی دیہات میں جنگجو حامی مظاہرے شروع ہوئے۔ اگرچہ لوگوںنے جھڑپ کے مقام کی طرف پیش قدمی کی کوششیں کیں تاہم فورسز نے ان کوششوں کو ناکام بنایا۔مسلح تصادم میں جنگجوؤں کی ہلاکت کے خلاف بدھ کووسطی کشمیر کے بیروہ، ماگام، آری پانتھن اور نارہ بل کے متعدد علاقوں میں ہڑتال کی گئی۔
جنگجو سپرد لحد اور جھڑپیں
 رڈ بگ علاقے میں فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان معرکہ آرائی میں تینوں عسکریت پسندوں کو اشکبار آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا،اور اس دوران اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی بھی ہوئی۔جاں بحق جنگجو ئوں میں سے2کا تعلق شہر سری نگر سے تھا۔ شہر کے ملارٹہ نوہٹہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان سجاد احمد گلکار کی نعش سہ پہر کو اہل خانہ کے سپرد کی گئی۔اس دران شہر میں پہلی ہی کرفیو جیسی پابندیاں عائد کی گئی تھی اور کسی بھی شخص کو گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں تھی،تاہم سجاد کی نعش ملتے ہی کئی علاقوں سے لوگوں نے کرفیو کو توڑتے ہوئے احتجاج کیا اور جلوس کی صورت میں انکی میت کو جامع مسجد سرینگر پہنچانے کی کوشش کی۔عینی شاہدین کے مطابق اسلام و آزادی کے حق میں جب جلوس جامع مسجد کی طرف رواں تھا،تو فورسز اور پولیس کی ایک بڑی جمعیت نے انکا راستہ روکا اور انہیں واپس جانے کیلئے کہا ،تاہم میت لئے ہوئے نوجوانوں نے پیش قدمی جاری رکھی،جس کے بعد فورسز نے جلوس جنازہ میں شامل لوگوں پر پہلے ٹیر گیس اور بعد میں پیلٹ بندوق کا استعمال کیا،جس کی وجہ سے25افراد زخمی ہوئے۔زخمیوں میں روزنامہ گریٹر کشمیر اور کشمیر عظمیٰ سے وابستہ فوٹو جرنلسٹ امان فاروق بھی شامل ہیں،جن کے سر اور بازو پر پیلٹ لگ  گئے۔ سجاد احمد گلکار کی میٹ کو بعد میں اندرونی راستوں سے رڈ پورہ رعناواری اسٹڈئم پہنچایا گیا جہاں ہزاروں لوگوں نے انکی نماز جنازہ میں شرکت کی۔مقامی لوگوں کے مطابق عید گاہ میں پہلی ہی سینکڑوں لوگ میت کا انتظار کر رہے تھے،تاہم کرفیو اور بندشوں کی وجہ سے سجاد احمد کو بعد مین ملہ کھاہ میں سپرد لحد کیا گیا۔اس موقعہ پر اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی بھی کی گئی۔ ادھر بعد میں رعناواری اور ملہ کھاہ کے نزدیک بھی پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔اس دوران عاقب گل ساکن گوری پورہ حیدر پورہ سرینگر کی تدفین کی گئی ۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ جب عاقب کی نعش اہل خانہ کو سونپی گئی تو  علاقے کے لوگ گھروں سے باہر آئے اور احتجاج کرنے لگے،جبکہ ہر سو اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کی گئی۔ بعد میں عاقب کا نماز جناہ ادا کیا گیا۔اس موقعہ پر نوجوانوں نے عاقب کی نعش کو حید پورہ پہنچایا جہاں پر ایک مرتبہ پھر اسکی نماز جنازہ پرائی گئی۔واپسی پر جب عاقب کو سپرد لحد کیا جا رہا تھا،تو نوجوانوں  ایک بری تعداد نے جلوس نکالتے ہوئے فورسز اور پولیس پر سنگبازی کی جس کے جواب مین مطاہرین پر ٹیر گیس کے گولے داغے گئے۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کئی شل اس قبرستان میں بھی گر گئے جہاں عاقب کو سپرد خاک کیا جا رہا تھا۔فورسز اور مطاہرین کے درمیان جھڑپوں میں فورسز نے پیلت کا بھی استعمال کیا جبکہ مجموعی طور پر10افراد زخمی ہوئے۔ آزادی کے حق میں نعرہ بازی کے بیچ مذکورہ جاں بحق جنگجوئوں کو آبائی قبرستانوں میں سپردخاک کیا گیا ،جس دوران یہاں جذباتی مناظر بھی دیکھنے کو ملے ۔تجمل اسلام عرف جاوید احمد شیخ نامی جنگجوئوں کے جنازے میں سروں کا سمندر اُمڈ آیا اور6 مرتبہ اِسکی نمازجنازہ اداکی گئی،جس دوران یہاں مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں برہان وانی کے بینر اٹھا رکھے تھے ۔
شہر میں بندشیں
  سری نگر کے پائین شہر میں ایک بار پھر کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کی گئیں۔  مارے گئے تین جنگجوؤں میں سے سجاد احمد بٹ کا تعلق نوہٹہ سے تھا اور اس کے پیش نظر شہر میں امن وامان کی صورتحال کو بنائے رکھنے کے لئے پائین شہر میں پابندیاں نافذ کی گئیں۔ پانچ پولیس تھانوں نوہٹہ، ایم آر گنج، صفا کدل، خانیار اور رعناواری کے تحت آنے والے علاقوں میں دفعہ 144 سی آر پی سی کے تحت پابندیاں نافذ کی گئیں۔پابندیوں کو سختی سے نافذ کرنے کے لئے پائین شہر میں سینکڑوں کی تعداد میں سیکورٹی فورس اہلکار تعینات کئے گئے ۔ نالہ مار روڑ کو ایک بار پھر خانیار سے لیکر چھتہ بل تک متعدد مقامات پر سیل کیا گیا ہے۔ اس سڑک کے کچھ مقامات پر لوگوں کی نقل وحرکت کو روکنے کے لئے بلٹ پروف گاڑیاں کھڑی کی گئیں۔  صفا کدل، نواب بازار، نوا کدل، رانگر اسٹاف، خانیار، راجوری کدل اور سکہ ڈافر میں تمام مین سڑکوں کو خاردار تار سے سیل کردیا گیاتھا۔  لال چوک، مائسمہ، بڈشاہ چوک اور اس سے ملحقہ علاقوں میں تمام دکانیں بند رہیں جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت جزوی طور پر معطل رہیں۔ہڑتال کی وجہ سے شہرمیں ہر قسم کی سرگر میاں متاثر رہی ۔ نوجوانوں اور فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں کا سلسلہ بھی جاری تھا ۔ادھر رعناواری کے وکٹری کراسنگ اور راولپورہ میں بھی سنگبازی وجوابی سنگبازی دیکھنے کو ملی جس کے دوران فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس گولوں کا استعمال کیا۔
 انٹرنیٹ منقطع
تازہ ہلاکتوںکے پیش نظر سرینگر سمیت پورے ضلع میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات کو احتیاطی طور پر منقطع کیا گیا ہے۔ بڈگام ضلع میں موبائیل انٹرنیٹ خدمات گذشتہ رات قریب دس بجے معطل کی گئیں‘۔ ذرائع نے بتایا کہ موبائیل انٹرنیٹ خدمات کی معطلی کا قدم کسی بھی طرح کی افواہ بازی کو روکنے کے لئے اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ خدمات کو عارضی طور پر بند کیا گیا ہے۔
 
 
 

عاقب نے 15روز قبل ہتھیار اٹھائے تھے

سرینگر/امتیاز خان/عید الفطر سے قبل عاقب کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوگا کہ عنقریب وہ اس دنیا کو خیر باد کہنے والا ہے۔مہاراشٹر کے شہر پونے میں بی ٹیک میں ایک سال پڑھائی کرنے کے بعد اُس نے ناگام چاڈورہ میں دوکان کھولی اور اپنے والدین کی کفالت کرنے لگا۔عاقب نے صرف 15روز قبل عسکریت میں شمولیت اختیار کی تھی اور منگل کی شام جب فورسز نے اُس مکان کو گھیرا جس میں عاقب اپنے دو ساتھیوں سمیت پھنسا ہوا تھا تو اُس نے اپنی ماں کو فون پر یہ روح فرسا خبر سنائی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ وہ سرنڈر نہیں کرے گا۔23سالہ محمد عاقب گل ولد غلام الدین ڈار ساکن عثمانیہ کالونی غوری پورہ صنعت نگرمنگل اور بدھ کی درمیانی رات کو رڈبگ مکہامہ ماگام میں فورسز کے ساتھ ایک جھڑپ میں اپنے دو ساتھیوں سمیت جاں بحق ہوا۔عاقب نے 12ویں جماعت پاس کرنے کے بعد پونے مہاراشٹر کے ایک کالج میں بی ٹیک میں داخلہ لیا تھالیکن ایک سال بعد ہی اُس نے نہ صرف پونا کو خیر باد کہہ دیا بلکہ تعلیم جاری رکھنے کا سفر بھی ترک کیا ۔عاقب کے لواحقین کے مطابق وہ انتہائی ذہین اور شریف بچہ تھا ۔عاقب کے ایک قریبی رشتہ دار نے کہا کہ عاقب کو کاروبار کی طرف مائل پاکر اُس کے والد نے اُسے حوصلہ افزائی کی اوراس ہونہار بچے نے ناگام چاڈورہ میں ہارڈ ویئرکی دوکان کھولی،جہاں وہ اچھی کمائی کررہا تھا۔ مذکورہ نوجوان کے لواحقین کا کہنا ہے کہ عیدالطفر کے دوسرے دن یعنی27جون کو وہ اچانک غائب ہوگیا اور انہیں کوئی خبر نہیں تھی کہ وہ کہاں گیا اور کیوں گیا۔انہوں نے کہا کہ بسیار تلاش کرنے کے باوجود جب کوئی اتہ پتہ نہیں چلا تو انہوں نے مقامی اخبارات میں اشتہار دے دیاجس میں عاقب سے گھر واپس لوٹنے کی گذارش کی گئی تھی۔ تاہم اشتہار شائع ہونے کے ایک ہفتہ بعد منگل کی شام عاقب کی ماںکا فون بج گیا جو اِس ماں کیلئے کسی قیامت سے کم ثابت نہ ہواکیونکہ اُس نے علیک سلیک کے بعد ماں کو یہ روح فرسا خبر سنائی کہ وہ اپنے دو ساتھیوں سمیت رڈبگ (مکہامہ)میں ایک مکان کے اندر پھنسا ہوا ہے۔یہ خبر سنتے ہی ماں پر سکتہ طاری ہوا تاہم 15روز قبل عسکری میدان میں قدم رکھنے والے اِس نوجوان نے ماں کو ہمت کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ’’ماں ایسا محسوس ہورہا کہ میں زندگی کے آخری لمحات گن رہا ہوں لیکن مجھے بہت خوشی ہورہی ہے کہ میں شہادت کا جام پینے جارہا ہوں۔ماں فوج ہمیں سرنڈر کرنے کا مشورہ دے رہی ہے لیکن ہم سرنڈرکے بجائے موت کو ہی ترجیح دیں گے‘‘۔اس جملے کے ساتھ ہی فون کٹ گیا۔فون کٹنے کے ساتھ ہی ماں زاروقطاررونے لگی اور گھر میںماتم چھاگیا۔عاقب کے والد غلام الدین ڈار اور اُن کے کئی عزیز و اقارب اُسی وقت اُس علاقے کی طرف دوڑ پرے جہاں جھڑپ جاری تھی تاہم انہیں گائوں کے اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔رات بھر انتظار کرنے کے بعد بدھ کی صبح پولیس نے انہیں عاقب کی لاش سونپ دی اور8بجے صبح وہ لاش لیکر اپنے گھر پہنچے جہاں پہلے ہی سینکڑوں لوگ عاقب کے آخری دیدار کیلئے منتظر تھے۔گھر میں اپنے عزیز و اقارب کو آخری دیدار کروانے کے بعد اُسے جلوس کی صورت میں جامع مسجد غوری پورہ کے صحن میں پہنچایا گیاجہاں اُس کی نماز جنازہ ادا کی گئی ۔یہاں نماز کی ادائیگی کے بعد عاقب کو فلک شگاف نعروں کے بیچ حیدرپورہ چوک پہنچایا گیاجہاں ایک مرتبہ پھر نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد اپنے محلے کے ہی قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔
 

سجاد15روز قبل تنگ آکر بھاگ گیا

سرینگر/بلال فرقانی/ پاندان نوہٹہ کا رہنے والے سجاد احمد گلکار15روز قبل جنگجوئوں کی صفوں میں شامل ہوا تھا۔25برس کے سجاد نے والد کے سر میں جراحی کے بعد بیچ میں ہی تعلیم ترک کی تھی ۔سجاد کا ایک بھائی قوت گویائی سے محروم ہے۔ سجاد علاقے میں پنی بھوریں آنکھوں کی وجہ سے’’بلا‘‘ کے طور پر مشہور تھا۔ مقامی لوگوں کے مطابق2008میں امرناتھ اراضی قضیہ سے ہی سجاد کے گھروں میں چھاپوں کا سلسلہ چل پڑا،اور یہ وقفہ وقفہ سے جاری رہا۔ سجاد کے ایک بھائی مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ گزشتہ8برسوں میں200کے قریب چھاپے انکے گھر پر پڑے اور جب شہر میں کوئی بھی نا خوشگوار واقعہ پیش آتا تھا تولازماًہمارے گھر پر چھاپہ پڑتا۔سجاد اس سے قبل سیفٹی ایکٹ کے تحت بھی بند رہا۔سجاد کے بھائی کا کہنا ہے کہ وہ ایک نجی کمپنی میں کام کرتا تھا،تاہم پولیس نے اس کو وہاں پر بھی چین سے بیٹھے نہیں دیا اور وہاں بھی چھاپہ مارا،اور گرفتار کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ جیل سے رہائی کے بعد سجاد جامع مسجد سرینگر کے باہر پٹری پر کپڑے فروخت کرتا تھا،تاہم پولیس نے انہیں وہاں بھی تنگ کیا اور اس کی زندگی کو جہنم زار بنا دیا۔انہوں نے کہا’سجاد کو2008سے3بار پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت بند کیا گیا جبکہ اس کے خلاف پولیس تھانہ مہاراج گنج،نوہٹہ اور صفاکدل سمیت دیگر تھانوں میں12کیس درج کئے گئے تھے۔سجاد کے رشتہ داروں کے مطابق وہ احتجاجی مظاہروں اور جلوسوں میں شرکت کرتا تھا اور ’’اس کو اسکی حد انتہا تک سزا دی گئی‘‘۔ مرتضٰی نے کہا کہ انکے والد کو بھی پولیس تھانہ طلب کیا گیا اور بیٹے کو پیش نہ کرنے کی پاداش میں داڑھی کو بھی کھینچاگیا۔انہوں نے کہا’’ میں اپنے بھائی کے بدلے پولیس تھانہ گیا،اور میں وثوق کے ساتھ کہتا ہوں کہ میرے  بھائی کو ذہنی اذیتیں دی گئی‘‘۔انہوں نے کہا کہ شب قدر کو جامع مسجد سرینگر کے باہر ایک پولیس افسر کو زیر چوب مارنے کے بعد پولیس نے ہمارے گھر پر چھاپوں کا سلسلہ جاری رکھا۔انہوں نے کہا کہ29جون کو سجاد صدر کوٹ بمنہ میں تاریخ شنوائی پر حاضری دینے کیلئے گھر سے چل پڑا،تاہم واپس نہیں لوٹا۔مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ جب سجاد شام تک واپس نہیں لوٹا،تو ہم پریشان ہوئے اور پولیس تھانہ نوہٹہ میں سجاد کی گمشدگی کے حوالے سے رپورٹ درج کی،جبکہ پولیس نے بھی انکی تلاش کا سلسلہ شروع کیا۔ سجاد کے بھائی کا کہنا تھا کہ گزشتہ شام ہم اس وقت چونک گئے جب شام کے وقت سجاد کا فون آیا اور اس نے کہا’’اسلام علیکم،میں سجاد ہوں،میں بڈگام میں محاصرے میں پھنس چکا ہوں،مجھے معاف کرنا،میں عنقریب ہی خالق حقیقی سے ملنے والا ہوں‘‘۔انہوں نے کہا ’’میری والدہ نے اپنی کانوں کی بالیاں بھی وکلاء کی فیس ادا کرنے کیلئے فروخت کی،جبکہ وہ اپنے بیٹے کو ذہنی پریشانیوں سے باہر نکالنا چاہتی تھی، ہم اب بھی پرانے ہی آبائی مکان میں رہائش پذیر ہیں۔مرتضیٰ گلکار کا کہنا تھا کہ ہم کئی مسائل سے جوجھ رہے تھے۔
 
 

تفضل اسلام5سال کی بچی کا باپ

سرینگر//تفضل اسلام عرف جاوید شادی شدہ تھا اور اسکے ہاں پانچ سال کی بیٹی بھی ہے۔چرپورہ نارہ بل کے رہنے والا تفضل  بے اے فائنل میں زیر تعلیم تھا اور وہ مارث کے آخیر میں جنگجوئوں کی صف میں شامل ہوا تھا۔اسکے والدین کے مطابق3ماہ اور23دن کے بعد اسکی لاش گھر پہنچ گئی۔والدن کے مطابق 26سالہ تفضل مزدوری بھی کرتا تھا لیکن2010کی ایجی ٹیشن کے بعد اسکی زندگی اس وقت بدل گئی جب فورسز نے اسے ہراساں کرنا شروع کیا۔اسے گرفتار بھی کیا گیا لیکن بعد میں چھوڑ دیا گیا۔برہان وانی کی ہلاکت کے بعد ہراساں کرنے کا سلسلہ پھر سے شروع ہوا اور انہوں نے فورسز کی جانب سے مختلف کمپوں میں بلانے کے خلاف پولیس میں شکایت بھی درج کرائی تھی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔بالآخر مارچ کے آخیر میں اس نے گھر چھوڑ ا اور بندوق اٹھائی۔انکی نمازہ جنازہ آرتھ کرکٹ گراونڈ میں ادا کی گئی اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ اس میں شامل ہوئے۔لوگوں کی کثیر تعداد میں شمولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 6بار انکی نماز جنازہ ادا کی گئی۔اس بعد جلوس کی صورت میں آزادی و اسلام کی نعرے بازی کے بیچ انہیں آبائی گائوں پہنچایا گیا جہاں انہیں سپرد خاک کیا گیا۔