روہنگیا کی بربادی سے لاتعلق دنیا!!!

   جد یددنیا کی تاریخ میں برمی مسلمانوں کی منظم نسل کشی بدترین قتل عام ہے ۔ مسلم اکثریتی صوبے رخائن میں ظلم کی تمام حدیں پار ہوچکی ہیں ، نہتے مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں ، سخت ترین تشدد کے بعد انہیں قتل کر دیا جاتا ہے ۔ بودھ اکثریت مسلمانوں کو جس طرح چاہے جس وقت چاہے جہاں چاہے جسے چاہے تشدد سے نیم مردہ کر نے کے بعد جان سے مارڈالتی ہے ۔ اس وقت لاکھوں روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش میں پناہ لے چکے ہیں جب کہ چالیس ہزار کے قریب روہنگیا انڈیا میں بھی پناہ گزین بتائے جاتے ہیں ۔ برمی مسلمانوں پر یہ ظلم وستم اور قتل و غارت گزشتہ چند دہائیوں سے جاری ہے لیکن گزشتہ ماہ سے ظلم وجبر کی جو چکی چل رہی ہے، اس کی مثال دنیامیں کہیں اور نہیں ملتی ۔ برما کی حکومت آنگ سان سوچی کے ہاتھ میں ہے جس نے چند ماہ قبل اقتدار حاصل کیا ۔قبل ازیں اسے امن اور جمہوریت نوازی کے پرستار جتلاکر عالمی نوبل انعام بدیا گیا ، مگر جاریہ قتل عام کو اس کی در پردہ حمایت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے خلاف دنیا میں انسانیت نواز قوتیں کی تنقید اور ملامت کر رہے ہیں ، نوبت یہ آگئی ہے کہ آن سانگ سوچی یواین جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جانے سے بھی باز رہی کیونکہ وہ اپنی قاتلانہ پالسی کادفاع کر نے کی پوزیشن میں نہیں۔ اگر چہ یہ ڈائن اپنی فوج اور بدھسٹوں کو نہتوں کے قتل عام سے روک بھی سکتی ہے مگر یہ اس کی ترجیح نہیں کیونکہ ایسا کر کے اسے اقتدار چھن جانے کا خدشہ ہے ۔ اس لئے وہ مسلمانوں کی نسلی تطہیر کی خاموش حمایت جاری رکھے ہوئی ہے ۔ لعنت ہو ایسی حکومت پر جس کی قیمت ظلم اور خون خرابے کی پشت پناہی کر نے سے چکانا پڑے ۔ برما کے بودھ صدر نے فوج کو مسلمانوں کے خلاف آوپریشن کی چھوٹ دے رکھی ہے ، نتیجہ یہ ہے کہ مسلمان عورتیں، بچے، بوڑھے ،نوجوانوں فوج اور بدھسٹ کے ہتھے چڑھ رہے ہیں ۔افسوس کہ مہذب اور شائستہ کہلانے والے ملک اور قومیں مظلوم برمی مسلمانوں کے حق میں اور ان کی بربادیوں کے خلاف ایک لفظ بولنے کے لئے تیار نہیں ۔اوروں سے کیا شکوہ کریںمسلم ممالک کے حکمران اور رہنمابھی اس پر مہر بہ لب ہیں! کیا یہ لوگ اُسی وقت جاگ جائیں گے جب برما کا یہ بدترین ماڈل خدانخواستہ اُن دوسرے ہمسایہ ممالک میں جہاں مسلم اقلیت میں ہیں، کے خلاف آزمایا جائے ؟ افسوس صد افسوس! مسلمان ہونے کا دعویٰ رکھنے والے صدور ، وزرائے اعظم ، بادشاہ اور شہنشاہ سب کے سب اتنے سنگ دل ہیں کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ کئی سال سے برما میں روہنگیائی مسلمانوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم ہے، کوئی ان کی مدد کو نہیں آ رہا ۔ حالانکہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ اگر وقت پر ان لوگوں نے برمی بودھ اکثریت اور رخائن صوبے کے مظلوم ومحکوم مسلمان اقلیت کے درمیان صلح سمجھوتے اور افہام وتفہیم سے صورت حال کو سنبھالا دیا ہوتا تو آج روہنگیا پر یہ قہر نہ ڈھایا جاتا ، نہ لاکھوں جانوں کا زیاں ہوتا، نہ لاکھوں لوگ گھر بار چھوڑ کردربدر کی ٹھوکریں کھاتے ہوئے دوسرے ممالک کی سرحدوں پر پناہ کی دستک دیتے۔ ترکی کے علاوہ کسی اور ملک نے روہنگیا کے بارے میں اب تک اپنی خاموشی نہ توڑی ۔
  14؍ ستمبر 2017ء کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جزل انٹونیو گوٹیرش نے میڈیا کے سامنے بولتے ہوئے برمی حکومت پر زور دیا کہ وہ میانمار میں مسلمانوں پر ملٹری آوپریشن بند کرے لیکن آج تک اس انتباہ کاکوئی اثر دیکھنے کو نہیں ملا بلکہ قتل و غارت گری اور فوجی آوپریشن تادم تحریرجاری ہے ۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے آن سان سوچی کوملٹری آوپریشن روکنے کا آخری موقع دیتے ہوئے کہا تھاکہ اگر آوپریشن نہ روکا گیا تو خوف ناک سانحہ برپا ہوگا۔ہم میں سے کسی کو نہ ’’آخری موقع ‘‘ کا مطلب معلوم ہے اور نہ اس چیتاؤنی کا مفہوم کہ ’’خوف ناک سانحہ ‘‘ کی مار حملہ آوروں پر پڑے گی یا مظلوم مسلم اقلیت پر ؟ جدید دنیا کا کوئی سیاسی فلسفہ اور نہ کسی ملک کا قانون ظلم تشدد کی اجازت دیتا ہے ،خاص کر بدھ ازم عدم تشددکا دعویٰ دار ہے۔ اس مذہب کی معتبر کتابوں میں زمین پر پاؤں رکھنے سے پہلے یہ دیکھنے کاحکم ہے کہ کوئی چھوٹے سا چھوٹاکیڑا مکوڑہ پاؤں کے نیچے نہ آ کر مرجائے ، کیونکہ یہ پاپ ہے ۔ یہاں تک کہ سبزیوں کو کاٹنے سے بھی منع کیا گیاہے کہ یہ بھی ذی روح ہوتی ہیں ۔ آج اسی مذہب کے دعوے دار مسلمانوں کی نسل کشی ، عفت مآب بہو بیٹیوں کی اجتماعی عصمت دری ، آگ زنیاں اور ایسے مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں کہ قلم ان کو بیان کر نے سے عاجز ہے ۔ صدمہ خیز بات یہ بھی ہے اسی ظلم وبربریت کی آتشیں فضا میں دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والے ملک ہندوستان کے وزیر اعظم مودی جی برما کے دورے پر جاتے ہیں ، وہاں ان کا استقبال ہوتا ہے ، مگر وہ دکھاوے کے لئے بھی آن سان سوچی اور ملکی صدر کو روہنگیا پر ظلم وستم روکنے کے لئے دولفظ بھی نہیں بولتے اور ایسی خاموشی اختیار کر تے ہیں جیسے وہاں کچھ ہو ہی نہیں رہا۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ جو ظلم و ستم برما میں مسلمانوں پر ہو رہا ہے ، ہندوستان اس کی تائید کرتا ہے ۔ وہ ملک ہند جس نے سری لنکا ، بنگلہ دیش ، پاکستان، تبت وغیرہ ملکوں کے پناہ گزینوں کو کبھی غیر نہ سمجھا،وہ آج اپنی دھرتی پر جالیس ہزار لٹے پٹے روہنگیائی مسلم پناہ گزینوں قوم کے لئے خطرہ جتلا رہاہے کیونکہ روہنگیا مسلمان ہیں ۔ فرقہ پرستی کازہرقوموں اور قوموں کی قیادت کو اسی طرح انسانیت سے محروم کر کے چھوڑتاہے ۔ یہی نہیں بلکہ ہندوستان کے بعض ذمہ دار بھاجپا لیڈر ملک میں مظلومیت کی زندگی گزار رہے روہنگیائی پناہ گزینوں کو برداشت نہ کرتے ہوئے انہیں پش بیک کے لئے پرتول رہے ہیں جو عالمی اقدارِا نصاف اور عالمی معاہدوں کی صریح خلاف ورزی ہے ۔ مودی سرکار کو کبھی ایسا نہیں کر ناچاہیے کہ مظلوموں کوآدم خوروں کے منہ میں ڈل دیں۔ نیز اس سے زیادہ دکھ کی بات اور کیاہوسکتی ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شامل وہ ممالک جو جمہوریت ، انسانی حقوق ، آزاد خیالی اور بقائے باہم کے بڑے اپدیش دیتے ہیں ، وہ بھی برمی مسلمانوں پر ڈھائے جارہے مظالم و مصائب کی خون آشام تصاویر دیکھ کر خواب خرگوش میں ہیں ۔ اس غیر انسانی روش کا نچوڑ یہی نکلتا ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتیں زبانوں سے ہی جمہوریت اور آدمیت کی دہائیاں دیتے ہیں ، جب کہ ان کا اندرون چنگیز سے سیاہ تر ہے ۔ برمی بودھ دہشت گردوں کے ہاتھوں اس ماردھاڑ پر رسماً ہی سہی دلائی لامہ نے مظلوم روہنگیا کا طرف دار گوتم بودھ کہہ کر اپنے ہم مذہب قاتل ٹولوں کی تنقید کی ، پھر بھی ان مظلوموں اور غم کے ماروں کی چیخ و پکار پر نہ امر یکہ کادل پسیج اٹھا، نہ برطانیہ کے کلیجے پر چھریاں چلیں ، روس اور فرانس کی رگ ِ حمیت بھی نہ پھڑکتی ۔ لگتا ہے برما کی طرح پوری انسانی دنیا پتھر کے زمانہ میں لوٹ آئی ہے ۔ وقت کی اذان یہ ہے کہ دنیائے ا نسانیت اللہ کے قہرو ناراضگی سے بچنے کے لئے روہنگیا کے ساتھ ہر سطح پر اظہار یکجہتی کر نے کے ساتھ ساتھ ظالم بودھ بھکشوؤں کاا یتارچار فوراً روک دے ۔
رابطہ :آڑائیوی منڈی پونچھ  
 9858641906