روہنگیائی مسلمانوں کی نسل کُشی،وادی اور جموں سراپا احتجاج

سرینگر+جموں//وادی ، خطہ چناب اور پیر پنچال روہنگیائی مسلمانوں پر جاری عتاب کے خلاف جمعہ بعد از نماز ابل پڑا،جس کے دوران ہر ایک علاقے سے چھوٹے بڑے احتجاجی جلوس برآمد ہوئے۔اننت ناگ میں احتجاج کے دوران سنگبازی اورشلنگ کے بیچ ایک پولیس گاڑی کو نذر آتش کیا گیا جبکہ2افسران سمیت6اہلکار زخمی ہوئے۔ادھر شہر کے پائین علاقے میں5پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر سخت ترین بندشیں عائد کی گئیںجس کی وجہ سے تاریخی جامع مسجد میں ایک مرتبہ پھر نماز جمعہ کی ادائیگی نہیں ہوسکی جبکہ وادی میں ریل سروس کو بھی معطل کیا گیا تھا۔
سرینگر
مزاحمتی قیادت کی اپیل پر جمعہ کو پوری وادی اور جموںخطے میںاحتجاجی مظاہرے ہوئے۔ لبریشن فرنٹ کی طرف سے لالچوک میں ایک احتجاج ریلی و دھرنے کا اہتمام کیا گیا۔ لبریشن فرنٹ کے ماسٹر محمد افضل ، سراج الدین میر ،ظہور احمد بٹ ،محمد یاسین بٹ،محمد صدیق شاہ ،شیخ عبدالرشید،بشیر احمد کشمیری، پروفسیرجاوید،اشرف بن سلام وغیرہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے ہمراہ بڈشاہ چوک کے قریب جمع ہوئے اور برماکے مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی۔ ہاتھوں میں پلے کارڑ لئے اور نعرے بلند کرتے ہوئے شرکاء ریلی بڈشاہ چوک پر پہنچ کرپرامن دھرنے پر بیٹھ گئے۔احتجاجی د ھرنے سے لبریشن فرنٹ لیڈروںنے خطاب کیا۔ حیدرپورہ میںر وہنگیائی مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر نماز جمعہ کے بعد جلوس برآمد کیا گیا۔نماز جمعہ کے بعد مقامی جامع مسجد کے باہر لوگ اور حریت(گ) سے وابستہ لیڈران و کارکن جمع ہوئے اور ائرپورٹ روڑ کی طرف پیش قدمی کی،تاہم پولیس نے انکی اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔احتجاجی جلوس میں نثار حسین راتھر، مولوی بشیر عرفانی،امتیاز حیدر، مولوی بشیر احمد قریشی، معراج الدین ربانی، سید محمد شفیع، رفیق اویسی، مدثر ندوی اور رمیزراجہ کے علاوہ دیگر لوگوں نے بھی شرکت کی جس میں رونگہیائی مسلمانوں کے خلاف قتل وغارت کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی گئی۔ مقررین نے اقوامِ متحدہ کے ذمہ دار ادارے کو ان خونین کارروائیوں پر روک لگانے کا مطالبہ کیا ۔اس دوران ہمہامہ میں بھی مقامی جامع مسجد سے نماز جمعہ کے بعد جلوس برآمد ہوا،جس نے ائر پورٹ روڑ تک مارچ کیا۔احتجاجی مظاہرین برما میں مسلمانوں پر ہو رہے عتاب کے خلاف نعرہ بازی کر رہے تھے۔نماز جمعہ کے بعد مسجدبلال واقع لالچوک بنڈ سے بھی ایک جلوس برآمد کیا گیا،جس کے دوران اسلام او روہنگیائی مسلمانوں کے حق میں نعرہ بازی کی گئی۔ جلوس میں لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک بھی شامل ہوئے جنہوں نے برما میں مسلمانوں پر بدھ دہشت گردی کے عتاب کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ میانمار میں مسلمانوں کے قتل عام پر عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی سفاک ذہنیت کا عکاس ہے۔روہنگیائی مسلمانوں پر ظلم و ستم کے خلاف ریاستی ملازمین نے بھی احتجاج کیا۔ایجیک نے جمعہ کی صبح میونسپل پارک سے احتجاجی جلوس برآمد کیا،جس کے دوران برما کے مسلمانوں کے حق میں نعرہ بازی کی گئی۔ایجیک صدر عبدالقیوم وانی کی قیادت میں سینکڑوں ملازمین نے اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کے دفتر واقع سونہ وار کی طرف پیش قدمی کی،تاہم ٹورسٹ سینٹر کے نزدیک پہنچتے ہی پولیس نے انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔جس کے بعد پولیس نے عبدالقیوم وانی، منظور احمد پانپوری،سجاد احمد پرے اور شبیر احمد لنگو سمیت2درجن کے قریب مظاہرین کو حراست میں لیا۔ جامع سجادیہ سجاد آباد سرینگر میں نماز جمعہ کے بعد متحدہ مجلس علما ء کے طے شدہ احتجاجی پروگرام کے سلسلے میں ایک احتجاجی ریلی برآمد کی گئی جسکی قیادت اتحاد المسلمین کے صدرمولانا مسرور عباس انصاری کر رہے تھے۔احتجاجی ریلی میں اتحاد المسلین کے نائب صدر آغا سید یوسف سمیت مشتاق احمد صوفی ، ایڈوکیٹ یاسر دلال ، فاروق احمد سوداگر ، سائل احمد وار اور دیگر کارکنان نے شمولیت کی ۔سرینگر کی پریس کالونی میں انٹرنیشنل مسلم یونٹی کونسل کشمیر چیپٹر سے وابستہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد نے احتجاجی مظاہرہ کیا، جس میں اقوام عالم اور حقوق انسانی کے علمبرداروں کی خاموشی پر سخت تنقید کی گئی۔ احتجاجی مظاہرے میں وادی میں عارضی طور پر مقیم تبت کے لوگوں نے بھی شرکت کرتے ہوئے کہا کہ انسانیت کے ناطے وہ برما میں مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں۔نماز جمعہ کے بعد شہر کے آبی گزر علاقے سے بھی روہنگیائی مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر جلوس برآمد کیا گیا،جس میں برمی مسلمانوں کے حق  میںنعرہ بازی کی گئی۔جلوس کی قیادت معروف شعیہ رہنما علی محمد جان کر رہے تھے۔مظاہرین نے ہاتھوں میں بینئر اور پلے کارڑ اٹھا رکھے تھے،جن پر روہنگیائی مسلمانوں کے حق میں نعرے درج  تھے۔سرینگر کی پریس کالونی میں قبل از دوپہرمجموعہ اسلامی کشمیر و جونان بیدار ملت کی طرف سے احتجاج کیا گیا جس کے دوران مولانا گلزار کی سربراہی میں مظاہرین نے برمی مسلمانوں کے حق میں نعرہ بازی کی۔ خانیار میں بھی نماز جمعہ کے بعد پرامن جلوس برآمد ہوا ۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینئر اور پلے کارڑ اٹھا رکھے تھے،جن پر برمی مسلمانوں کے حق میں نعرے درج تھے۔ صفا کدل سر ینگر میں لوگوںکی ا یک بڑی تعداد نے جلوس نکالا جس کے دوران انہوں نے ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈ بھی اٹھارکھے تھے جن پر ’’ روہنگیائی مسلمانوں کا قتل عام بند کرو‘‘جیسے نعرے درج تھے۔احتجاج کے دوران اسلام اور آزادی کے حق میں بھی نعرے بلند کئے گئے ۔ نواکدل ، نوشہرہ صورہ اور دیگر مقامات پر بھی صدائے احتجاج بلند کیا گیا۔کشمیر یونیورسٹی میں جمعہ کے روز زیر تعلیم طلاب نے بھی احتجاج کیا۔ نماز جمعہ کے بعد بیسوں طالبان یونیورسٹی کیمپس میں جمع ہوئے اور اسلام اور روہنگیائی مسلمانوں کے حق میں نعرہ بازی کی۔احتجاجی طلاب نے ہاتھوں میں بینئر اور پلے کارڑ اٹھا رکھے تھے ۔ انہوں نے یونیورسٹی کیمپس کا چکر لگایا اور علامہ اقبال لائبرئری کے سامنے جمع ہوئے،جہاں انہوں نے فوری طور پر روہنگیائی مسلمانوں پر جاری عتاب کو بند کرنے کا مطالبہ کیا۔بڈگام میں مکمل ہڑتال کے بیچ نماز جمعہ کے بعد مرکزی امام باڑہ سے جلوس برآمد ہوا،جس کے دوران اسلام و آزادی کے حق میں جبکہ این آئی اے کے خلاف نعرہ بازی کی گئی۔عینی شاہدین کے مطابق آغا سید حسن کی قیادت میں اس جلوس میں سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور مرکزی چوک تک پیش قدمی کی۔احتجاجی مظاہرین نے ہاتھوں میں جھنڈے اور پلے کارڑ اٹھا رکھیں تھے،جن پر روہنگیائی مسلمانوں کے حق میں نعرے درج کئے گئے تھے۔بڈگام کے امام زماں امام باڑہ گوجرہ سے شوغہ پورہ تک برمی مسلمانوں کے حق میں جلوس برآمد کیا گیا،جس کے دوران اسلام کے حق میں نعرہ بازی کی گئی۔ روہنگیائی مسلمانوں پر ہورہے ظلم و جبر کے خلاف گاندربل کے کئی علاقوں میں لوگوں نے احتجاج اور مظاہرے کئے۔نامہ نگار ارشاد احمد کے مطابق گاندربل میں نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد منیگام،بی ہامہ، کنگن اور صفاپورہ میں مرکزی جامع مساجدمیں روہنگیائی مسلمانوں پر ہورہے ظلم و جبر کے خلاف زبردست احتجاج اور مظاہرے کئے گئے۔جامع مسجد بی ہامہ میں نماز جمعہ کے فوراً بعد پرامن احتجاج کیا گیا۔ اس موقع پر احتجاج میں شامل افراد " نے برما کے مسلمانوں کا قتل عام بند کرو" کے نعرے لگاتے ہوئے بی ہامہ چوک تک مارچ کیا۔منیگام میں بھی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے بعد برما میں مسلمانوں پر ہورہے ظلم و ستم کے خلاف زبردست احتجاج کیا گیا۔ادھر صفاپورہ کے مرکزی جامع مسجد میں بھی نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد پرامن طور پر روہنگیائی مسلمانوں پر ہورہے قتل عام پر احتجاج کیا گیا جو پرامن طور پر منتشر ہوگیا ۔اس دوران متحدہ مجلس علماء کی طرف سے دی گئی کال کے پیش نظر گاندربل کے کنگن،ژیر ون،سونہ مرگ اورتھنے علاقوں میں نماز جمعہ کے بعد روہنگیائی مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر پرامن جلوس برآمد ہوئے۔
جنوبی کشمیر
اننت ناگ میں جامع مسجداہلحدیث میں نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد سینکڑوں لوگوں نے جلوس نکالا اور برما حکومت کے خلاف زوردار نعرے بازی کی۔نامہ نگار ملک عبد السلام کے مطابق جلوس کے شرکاء نے جب لالچوک کی طرف مارچ کیا تو پولیس نے ان کا راستہ روک کر آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔اس پر مظاہرین مشتعل ہوئے اور انہوں نے پولیس پر زبردست پتھرائوکیا جبکہ جوابی کارروائی کے تحت ان پر زوردار شلنگ کی گئی جس کے نتیجے میں شدید جھڑپوں کا آغاز ہوا۔ نوجوانوں کے ایک مشتعل ہجوم نے ڈی سی آفس کے باہر پولیس کی ایک رکھشک گاڑی پر دھاوا بول کر اس کی شدید توڑ پھوڑکی اور اس میں سوار کئی اہلکاروں کو دبوچ کر ان کا زدوکوب کیا جس کے نتیجے میں پولیس اہلکار وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مشتعل مظاہرین نے گاڑی کو نذر آتش کردیا۔جھڑپوں کے دوران پولیس کے دو افسران سمیت6اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے جن میں ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر اننت ناگ محمد یوسف ، سب انسپکٹر جنید احمد، کانسٹیبل شبیر احمد اور ہیڈ کانسٹیبل گردیپ سنگھ، کانسٹیبل بلال احمد اور کانسٹیبل جاوید احمد شامل ہیں جنہیں علاج ومعالجہ کیلئے ضلع اسپتال اننت ناگ میں داخل کرایا گیا۔مشتعل ہجوم نے ایک فوٹو جرنلسٹ منیب السلام کا کیمرہ بھی توڑ ڈالا۔جھڑپوں کا سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا جس کے باعث قصبہ کے بیشتر علاقوںمیں دوپہر کے بعد کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئیں۔ ادھر آرونی علاقے میںبھی برما میں مسلمانوں پر ہورہے مظالم کے خلاف پرایک احتجاجی جلوس برآمد ہوا۔ نامہ نگار کے مطابق کوکر ناگ میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ کولگام، اننت ناگ، شوپیان اورپلوامہ کے مختلف علاقوں میں بھی نماز جمعہ کے بعد روہنگیائی مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کیلئے احتجاجی جلوس نکالے گئے۔نامہ نگار خالد جاوید کے مطابق نماز جمعہ کے بعد کولگام قصبہ کے مرکزی علاقے سے ایک جلوس برآمد ہوا،جس کے دوران روہنگیائی مسلمانوں کے حق میں نعرہ بازی کی گئی۔ جامع مسجد سے برآمد ہونے والے اس جلوس میں برمی مسلمانوں پر ظلم و جبر کو بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا،اور بعد میں جلوس پرامن طور پر منتشر ہوا۔جنوبی کشمیرمیں پانپور،ترال ،کھنوہ اوردیگرکئی علاقوں میں بھی نمازجمعہ کے بعداحتجاجی جلوس برآمدہوئے جن میں شامل لوگوں نے برمی مسلمانوں کے خلاف جاری جارحیت پرسخت ناراضگی کاظہارکرتے ہوئے اقوام عالم بشمول مسلم ممالک کی خاموشی کیخلاف بھی غم وغصے کااظہارکیا۔ نامہ نگاروں کے مطابق پانپور کے نمبلہ علاقہ میں نماز جمعہ کے بعد لوگوں نے برما کے مسلمانوں پر ظلم کے خلاف احتجاج کیا۔ادھر ترال میں بھی خانقاہ فیض پناہ سے نماز جمعہ کے بعد جلوس برآمد ہوا،جس میں برمی مسلمانوں اور اسلام کے حق میں نعرہ بازی کی گئی۔جلوس کی قیادت سابق معروف ٹریڈ یونین لیڈر فاروق ترالی کررہے تھے۔پلوامہ میں بھی ایک جلوس نکالا گیا جس میں کامران یوسف کی گرفتاری کے خلاف بھی مظاہرے کئے گئے۔
شمالی کشمیر
شمالی کشمیر کے کئی علاقوں میں بھی روہنگیائی مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کے طور پر جلوس برآمد ہوئے۔ ٹنگمرگ کے کنزر علاقے میں میں نماز جمعہ کے بعد برما میںنہتے مسلمانوں اور معصوم بچوں کے قتل عام کے خلاف صدے احتجاج بلند کیا گیا۔نامہ نگار مشتاق الحسن کے مطابق گورنمنٹ گرلز مڈل سکول فیروزپورہ میں زیر تعلیم طلبا وطلبات نے پرامن جلوس نکال کر ٹنگمرگ بازار تک مارچ کیا۔مظاہرین نے ہاتھوں میں بنیر اٹھاکر پیدل مارچ کرکے برما کے مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ حساس قصبہ سوپور کے چھورو علاقہ سے بھی نماز جمعہ کے بعد برمی مسلمانوں کے حق میں جلوس برآمد ہوا۔نامہ نگار غلام محمد کے مطابق احتجاجی مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڑ اور بینئر اٹھا رکھے تھے اور انہوں نے پیش قدمی کرتے ہوئے شاہراہ تک مارچ کیا۔بانڈی پورہ کے اجس علاقے میں نماز جمعہ کے بعد جامع مسجد سے ایک بھاری جلوس نکالا گیا جس کی قیادت امام جامع کررہے تھے۔ جلوس میں شامل لوگ برمی مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں کی مذمت کررہے تھے۔ جلوس مزار شہداء پر اختتام ہوا۔
شہر خاص سیل
ممکنہ پر تشدد احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر ضلع انتظامیہ نے جمعہ کو پائین علاقہ سیل کردیا۔اندرون شہر کے پانچ پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں اعلانیہ و غیر اعلانیہ کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا گیا۔ اس سلسلے میں گزشتہ شب ہی پولیس گاڑیوں کے ذریعے گشت کا انتظام کیا گیا تھا اور پولیس و سی آر پی ایف کے سینکڑوں اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لاکر کرفیوجیسی بندشیں عائد رہیں ۔پولیس اسٹیشن خانیار، رعناواری،نوہٹہ،مہاراج گنج اور صفاکدل کے تحت آنے والے بیشتر علاقوں میں بندشیں عائد کی گئیں۔سخت ترین پابندیوں کے باعث تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ نوہٹہ ،گوجوارہ ،راجوری کدل ،صرف کدل ،ملارٹہ اوردیگرنزدیکی علاقوں کی سڑکوں اورگلی کوچوں پرپولیس اورفورسزکی جانب سے خاردارتاریں بچھاکررکاوٹیں ڈالدی گئیںتھیں۔شہر کے سول لائنز علاقوں میں بھی احتیاط کے بطور حفاظت کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ادھرمتحدہ مجلس علماء کے ترجمان نے ریاستی انتظامیہ کی جانب سے میرواعظ عمر فاروق کو اپنے گھر میں نظر بند کرنے اور شہر خاص کے متعدد علاقوں میں کرفیو کے نفاذ، مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ کی ادائیگی پر پابندی کی شدید مذمت کی۔
 
جموں 
 جموں، ادہم پور اور ریاسی اضلاع میں بھی مسلمانوں نے احتجاج درج کروایا۔جموں شہر میں  ائمہ و خطباء نے بعد از نماز احتجاج کی کال دی تھی جس پر لبیک کہتے ہوئے شہر اور دیگر قصبہ جات کی بیشتر مساجد میں نمازیوں نے مظاہرے کئے۔ ہجری مسجد استاد محلہ ، جامع مسجد تالاب کھٹیکاں ، عمر مسجد ریلوے، جامع مسجد گوجر نگر، جامع مسجد ملک مارکیٹ ، جانی پور، سنجواں، بٹھنڈی ، روپ نگر اور دیگر متعدد مقامات پر احتجاج کیا گیا ۔  
خطہ چناب
 گول میں بھی برما میں مسلمانوں کے قتل عام کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا ۔ پر امن مظاہرین جامع مسجد گول سے نکلے اور پورے بازار میں نعرہ بازی کرتے رہے ۔بٹوت میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد ہزاروں فرزندانٖ توحید و رسالت مرکزی جامعہ مسجد اور جامعہ مسجد قدیم سے جلوس کی صورت میں بھدرواموڑ چوک بٹوت کے مقام پر اکھٹے ہوے اور نعرے بازی کی۔مہور میں نماز جمعہ کے بعد ایک پر امن ریلی نکالی گئی ۔چھاترو میں مکمل ہڑتال کی گئی ۔نماز جمعہ کے فورا بعد سینکڑوں لوگوں نے بس اڈا چھاترو میں جمع ہو کر برما کی دہشت گردی کے خلاف مظاہرہ کیا ۔بانہال میں نماز جمعہ کے بعد تمام مساجد سے لوگ احتجاجی جلوسوں کی شکل میں شاہراہ پر نکل آئے اور برما کے حکمرانوں کے خلاف جم کر نعرہ بازی کر تے ہوئے شاہراہ پر چکر لگائے ۔بار ایسوسی ایشن بانہال کی طرف سے جمعہ کو برما کے روہنگیائی مسلمانوں کے ساتھ ہو رہی زیادتیوں اور قتل و غارت کے خلاف  اظہار یکجہتی کے طور پر کام چھوڑ ہڑتال کی گئی۔ڈوڈہ قصبہ میںمظاہرین صبح اولڈ بس اسٹینڈ ڈوڈہ میں جمع ہوئے اور پھر پلے کارڈ ہاتھوں میں لئے اور نعرہ بازی کرتے ہوئے مختلف بازاروں میں گھومے۔انجمنِ اسلامیہ نیلی کی کال پر چنگا، گواڑی، کلہوتران اور علاقہ نیلی کے بازاروں میں ہڑتال رہی۔انجمنِ اسلامیہ گندو کی کال پر گندو اور جطوطہ علاقی میں ہڑتال اور مظاہرے ہوئے، انجمن اسلامیہ چلی پنگل کی کال پر اخیار پور، بٹیاس، تیندلہ، ملک پورہ اور چلی میں ہڑتال رہی اور تمام کاروباری ادارے بند رہے۔بعد نمازِ جمعہ اخیار پور اور ملک پورہ میں زبردست احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔کاہراہ تحصیل میں بھی دْکانیں بند رہیں اور  احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔بونجواہ، ٹھاٹھری، محالہ، گھٹ، گندنہ، دالی، ادھیان پور، بھرت، بگلہ، بھبھور، عسر، کھلینی، مرمت، بھاگواہ اور کاستی گڑھ کے دیہات میں بھی دْکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے۔گذشتہ شب ڈوڈہ کے نوجوانوں نے ایک کینڈل مارچ کا اہتمام کیا۔کشتواڑ میںنماز جمعہ کے بعد سینکڑوں لوگوں نے برما میں مسلمانوں کے قتل عام پر پُر امن احتجاجی مُظاہرہ کیا۔وادی چناب میں مسلمان طبقہ نے مکمل ہڑتال کی۔ہڑتال کی کال انجمنء اسلامیہ بھدرواہ، مرکزی سیرت کمیٹی ڈوڈہ، مجلس شوریٰ کشتواڑ،انجمن ء اسلامیہ بھلیسہ اور ٹھاٹھری نے میانمار میں روہنگیائی مسلمانوں کی ہلاکت کے خلاف بطور احتجاج دی تھی۔ 
خطہ پیر پنچال
 مینڈھر میں لوگوں نے بعد نما ز جمعہ احتجاج کیا ۔بعد نماز جمعہ سرنکوٹ میں بھی لوگوں نے برمی مسلمانوں کے حق میں احتجاج کیا اور اس دوران ایک ریلی نکالی گئی جس میں ہزاروںافراد شریک تھے ۔منڈی تحصیل کے مختلف مقامات پر شدید احتجاج کیا گیا۔ اس سلسلہ میں تحصیل صدر مقام منڈی میں نماز جمعہ کے بعد امام جمعہ و جماعت مرکزی جامعہ مسجد منڈی مولانا سید امین شاہ ،امام جمعہ و جماعت جامعہ مسجد اعلیٰ پیر سید شاہد بخاری و امام جمعہ و جماعت جامعہ مسجد المصطفیٰ منڈی سید اقرار زیدی کی قیادت میں ایک احتجاجی جلوس نکالا گیا ۔بعد نماز جمعہ راجوری میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے ۔تھنہ منڈی میں بعد نماز جمعہ فرزندان توحید کا جلوس احاطہ جامع مسجد سے نکل کر مین بازار سے ہوتا ہوا غزالی چوک میں اختتام پذیر ہوا۔منجاکوٹ میں بھی بعد نماز جمعہ احتجاجی ریلی نکالی گئی جو پرامن طور پر اختتام پذیر ہوگئی ۔ بدھل میں نماز جمعہ کے بعد بڑی تعداد میں لوگ پولیس تھانہ کے پاس جمع ہوئے اور انہوںنے میانمار حکومت کی کڑی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ ایسے مظالم ڈھائے جارہے ہیں جن کو دیکھ کر انسانیت شرماجاتی ہے ۔