روپ نگر جموں میں انہدامی کارروائی پر اظہار ِ برہمی

 مخصوص طبقہ کو نشانہ بنانا قابل مذمت: کمال

سرینگر//نیشنل کانفرنس نے حکومت کی طرف سے روپ نگرمیں مخصوص طبقہ کے لوگوں کو نشانہ بنانے اور اُن کے مکان منہدم کرنے کے اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس غیر قانونی اور بلا جواز کارروائی پر فوری روک لگانے اور متاثرین کے حق میں معقول معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفیٰ کمال نے جموںمیں گوجر بکروال طبقہ سے وابستہ وفود سے خطاب میں مرکزی و ریاستی حکومتوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ ایک طرف قبائلی اور پسماندہ طبقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے حقوق کے بلند بانگ کررہے ہیں جبکہ دوسری جانب کشمیرسے لیکر جموں تک تک گجر، بکروال اور دوسرے پسماندہ طبقوں کے رہائشی ڈھانچوں کو مسمار کرکے بے گھر کررہے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ کنبوں کیلئے عارضی قیام کا انتظام کیا جانا چاہئے اور انہیں بھر پور معاوضہ فراہم کیا جانا چاہئے اور اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہئے کہ مستقبل میں ایسی کوئی بھی کارروائی انجام نہ دی جائے۔ڈاکٹر کمال نے کہاکہ بھاجپا کے برسراقتدار میں آنے کیساتھ ہی جموں میں اقلیتی طبقہ کو مختلف طریقوں سے پریشان کرنے کی شروعات ہوئی، جنگلاتی اراضی کے نام پر مسلمانوں کے گھروں پر بلڈوزر چلائے گئے۔ حکومت کو اس بات کی وضاحت کرنی چاہئے کہ پورے جموں صوبہ کو چھوڑ کر اُنہی علاقوں میں انہدامی کارروائی کیوں کی جارہی ہے جہاں مسلمان قیام پذیرہیں۔ 
 
 

 اعلیٰ سطحی تحقیقات کی جائے :الطاف بخاری

جموں//اپنی پارٹی صدرالطاف بخاری نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ روپ نگرجموں میں  جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی قبائلی لوگوں کے خلاف انہدامی مہم کی اعلیٰ سطح پرتحقیقات کرائیں۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ پسماندہ خانہ بدوشوں کے مکانات کو جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے موسم سرما کے ان ایام میںمنہدم کیا ۔انہوں نے کہا کہ اتھارٹی کے اس رویہ پرسوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیوں ایک خاص طبقے کو نشانہ بنایا گیا۔جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے ان کے پکے مکان اور گائوخانے بغیر کسی نوٹس کے گرادیئے اوراس کی تحقیقات ہونی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی برس سے وہ جموں کے پسماندہ لوگوں نے خاص طور پرجے ڈی اے پر امتیازی سلوک کاالزام عائدکیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی کیخلاف الزمات کی چھان بین ہونی چاہیے اور لیفٹیننٹ گورنر کو اس کی خود نگرانی کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ایسی کارروائیوں سے حکومت پرسے بھروسہ اُٹھ جاتا ہے اور لوگوں کی عدم تحفظ پیداہوتاہے۔انہوں نے کہا کہ اس کیلئے جوابدہی ہونی چاہیے اورمتاثرہ کنبوں کو دوسری جگہ بسایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اپنی پارٹی کاماننا ہے کہ جنگلات کے حقوق کے قانون کے تحت حقوق کااطلاق قبائلی طبقے اور دیگر جنگلات میں رہنے والوں پر کیاجاناچاہیے اورغریب لوگوں کوایک یادوسرے بہانے بے گھر نہیں کیاجاناچاہیے۔اس دوران انہوں نے قبائلیوں کی بستیوں کو باضابطہ بنانے کابھی مطالبہ کیا۔
 

چن چن کراقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک:حکیم یاسین

سرینگر//پیپلز ڈیموکریٹک فرنٹ کے سربراہ حکیم یاسین نے روپ نگرجموں میں جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے گوجر و بکروال طبقہ سے وابستہ لوگوں کے گھروں کو منہدم کرنے کی کارروائی کو ایک غیر انسانی اور ظالمانہ قدم قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت ہر بے گھر کو رہائشی سہولیات فراہم کرنے کے بلند بانگ دعوے کر رہی ہیں، تودوسری طرف صدیوں سے مکین گوجر و بکروال طبقے سے وابستہ لوگوں کو موسم سرما کی سرد ٹھٹھرتی راتوں میں بے گھر بنا کر ننگے آسمان تلے رہنے پر مجبور کیا جارہا ہے جو سراسر انسانی اقدار کے بر خلاف ہے ۔ایک بیان میں حکیم یاسین نے روپ نگر میں جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے گوجر و بکروال طبقے سے وابستہ لوگوں کو اپنے رہائشی مکانوں سے بے دخل کرنے کی کاروائی کی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف حکومت نے جموں وکشمیر میں زمین کو بیرونی لوگوں خاص کرر کارپوریٹ سیکٹر کو فروخت کرنے کے لیے کھلی ڈھیل دے رکھی ہے تو دوسری جانب یہاں کے اصلی مکینوں کو مختلف بہانوں سے اپنے ہی گھروں سے انتہائی ظالمانہ طریقے سے بے گھرکیا جا رہا ہے۔  انہوں نے حکومت سے کہا کہ اس طرح کی انہدامی کارروائیوں سے ریاست میں اجتماعی عوامی مزاحمت اور سنگین صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ہے جو ملک کے اجتماعی مفادات کے بر عکس ہے ۔ انہوں نے  کہا کہ مخصوص اقلیتوں کے خلاف یکطرفہ انہدامی کارروائیوں سے پیدا عوامی مزاحمت کو بعد میں سنبھالنا مشکل ہو گا۔پی ڈی ایف سربراہ نے کہا کہ حکومت کو کسی ایک سیاسی جماعت کے ووٹ بینک پالیسی کے تحت چن چن کر  اقلیتی فرقوں کے ساتھ  امتیازی سلوک کرنے سے احتراز کرنا چاہیے کیونکہ ایسا کرنا ایک تو آئینی ، قانونی اور انسانی اقدار کے منافی ہے ،تو دوسری طرف ملک کے اجتماعی مفادات کے برعکس بھی ہے۔
 
 

پشتنی باشندے بے گھر کئے جارہے ہیں:حریت(ع)

سرینگر// حریت کانفرنس(ع) نے کہا ہے کہ جموںوکشمیر میں حکمرانوںکی جانب سے ظلم و زیادتی کی پالیسیاں بلا روک ٹوک جاری ہیں۔ حریت کانفرنس(ع) نے جموں میں گجر اور بکروالوں کی حالت زار پر شدید فکر و تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ  بقول  ان کے  اب انہیں زبردستی آٹھ دہائیوں پر محیط ان کے رہائشی مکانات کومسمار کرکے انہیں بے گھر کیا جارہا ہے اور اس پر طرہ یہ کہ اس حوالے سے انہیں کوئی پیشگی اطلاع بھی نہیں دی گئی ہے ۔بیان میں کہا گیا کہ شدید موسم سرما کے دوران اور ایک ایسے وقت میں جبکہ وبائی بیماری کورونا وائرس ایک بار پھر تیزی سے پھیل رہی ہے ان کے سروں سے چھت چھینی جارہی ہے۔حریت نے کہا کہ جموں و کشمیر میں ایک طرف آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے لیے بیرون ریاست کے لوگوں کو یہاںزمین اور جائیداد خریدنے کی ترغیب دی جا رہی ہے جبکہ دوسری طرف جموںوکشمیرکے خود اپنے شہریوں اور پشتنی باشندوں کو غیر انسانی ہتھکنڈوں سے بے گھر کیا جارہا ہے جو حد درجہ افسوسناک اور قابل تشویش ہے۔
 

جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی حکام کیخلاف کارروائی کی جائے:عوامی یشنل کانفرنس

سرینگر//عوامی نیشنل کانفرنس کے سینئر نائب صدر مظفر شاہ نے جموں کے روپ نگر میں خانہ بدوشوں کے مکانات کو مسمار کرنے کی مذمت کرتے  ہوئے اس گھنانے فعل میں ملوث جموں ڈیولپمنٹ  اتھارٹی کے اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔مظفر شاہ نے سوال کیاکہ یوٹی انتظامیہ کی جانب سے دفعہ 370 اور 35A کی منسوخی کے بعد گوجر اور بکروالوں کی ترقی  اورجنگل کے حقوق قانون کا نفاذ عمل میں لا نے کا اگرچہ دعوی کیا گیا، تو پھر بی جے پی انتظامیہ کئی دہائیوں سے آباد خانہ بدوشوں اور بکروالوں کے مکانات کو منہدم کرنے پر کیوںتلی ہوی ہے؟  انہوں نے مرکزی حکومت کے اس دعوے پر کہ ان بے گھر خاندانوں کو ان کے گھر بنانے کے لیے مالی مدد فراہم کی جا رہی ہے، پر ردعمل ظاہر کرتے ہوے کہا کہ پھر جموں خطہ میں جموں و کشمیر کے گجر اور بکروال خاندانوں کو ان کے گھروں سے گھسیٹ کر ان کے مکانات کیوں گرائے گئے؟۔ اے این سی کے سینئر وایس پرزیڈنٹ نے کہا کہ یہ ایک مجرمانہ فعل ہے جس کی جموں و کشمیر کے لوگ شدید مذمت کرتے ہیں اور متعلقہ حکام کے خلاف سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔مظفر شاہ نے کہا کہ لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کو چاہئے کہ وہ  سماج کے اس کمزور طبقے پر چلائے جانے والے ایسے بھیانک ہتھکنڈوں کو فوری طور پر روکنے کا حکم دیں اور بی جے پی کے سیاسی مفادات کے لیے گوجر وبکروال اور پہاڑی برادریوں کو تقسیم کرنے کے لیے ہراساں کرنے اور دھمکی دینے کے طریقوں کو ختم کریں۔ مظفر شاہ نے جے ڈی اے حکام پر فوری کارروائی کرنے اور گرائے گئے مکانات کی تعمیر ات کی بحالی کا مطالبہ کیا ۔