روٹی اگر نہ پائی تو پتھر اُٹھائیں گے ؟ | بدحال مزدوروں کی بھی سُنئے!

عاطف ربانی
گزشتہ 28۔29 مارچ کو بھارت کی درجن بھر مزدور یونینوں نے ملک گیر ہڑتال کا اہتمام کیا۔ یہ احتجاجی ہڑتال نجکاری اور لیبر قوانین میں تبدیلیوں کے خلاف تھی۔ ملک کی مختلف ٹریڈ یونینز وقتاً فوقتاً حکومت کی پالیسیوں کے خلاف اپنی ناراضگی ظاہر کرتے رہتے ہیں۔ حکومت ہند نے 1991 سے نیو لبرل نظام معیشت کو اپنا رکھا ہے۔ نجکاری ان پالیسیوں کا بنیادی عمل ہے۔ گزشتہ برسوں میں سرکاری کمپنیوں اور اثاثوں کی فروخت میں تیزی آئی ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ صرف چند منتخب کارپوریٹ گھرانے ہی سرکاری کمپنیوں اور اثاثوں کو خرید رہے ہیں۔ کئی ماہرین اقتصادیات کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک میں کرونی کیپیٹلزم (crony capitalism) کا دور چل رہا ہے۔

پچھلی تین دہائیوں سے مزدوروں کے مسائل جوں کے توں بنے ہوئے ہیں۔ ہر دور کی حکومت نے مزدوروں کی فلاح و بہبود کیلئے بلند و بانگ دعوے کئے لیکن عملاً کچھ نہیں ہوسکا۔ اس کی بنیادی وجہ اقتصادی پالیسیوں میں مضمر ہے۔ نیو لبرل نظریہ پر انحصار کرنے والی معیشوں میں ‘پیداوار (پروڈکشن) تمام اقتصادی عوامل کا مرکز ہوا کرتا ہے؛ منافع ساری اقتصادی پالیسیوں کا نصب العین ہوتا ہے؛ اور کارپوریٹ گھرانوں کو فائدہ پہنچانے کی حت الامکان کوشش حکومتوں کا عظیم مقصد ہوتا ہے۔ سارا زور اس بات پر مرکوز ہوتا ہے کہ پیداوار اور پیداواری (productivity) میں کیسے زیادہ سے زیادہ اضافہ کیا جائے، اور لاگتوں کو کم کیا جائے۔ نیو لبرل ازم نظریہ کہتا ہے کہ تاجروں اور سرمایہ داروں کو مختلف انواع و اقسام کی مراعات دینے سے سرمایہ کاری کو فروغ ملتا ہے نتیجتاً روزگار و آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اسی لیے حکومت کارپوریٹ گھرانوں کو طرح طرح کی مراعاتیں فراہم کر رہی ہے۔ مثال کے طور پر گزشتہ کئی برسوں سے کارپوریٹ ٹیکس میں مسلسل کمی کی جا رہی ہے۔

کارپوریٹ گھرانوں کو دی جانے والی رعایتوں کے متوقع نتائج نہیں مل رہے ہیں۔ سال در سال سرمایہ کاری کم ہو رہی ہے۔ سرمایہ کاری کی سطح کو مجموعی سرمائے کی تشکیل-مجموعی گھریلو مصنوعات کے تناسب (GFCF-GDP ratio) سے ناپا جاتا ہے۔ یہ جی۔ڈی۔پی۔ اور مجموعی مستقل سرمایہ کی تشکیل (Gross Fixed Capital Formation) کا تناسب ہے۔ اس طرح، یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ جی۔ڈی۔پی۔ کا وہ حصہ ہے جو سرمایہ کی تشکیل کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ سال 2019-20 میں، یہ GFCF-GDP تناسب 32.5 فیصد تھا۔ جو 2020-21 میں کم ہو کر 31.2 فیصد پر آ گیا۔ ایک دہائی قبل یعنی 2011-12 میں یہ تناسب 34.3 فیصد تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ سرمایہ کاری اور سرمائے کی تشکیل کی سطح مسلسل کم ہو رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کامیاب اور فعال معیشت میں یہ تناسب 45 فیصد سے زیادہ ہونا چاہیے۔

کارپوریٹ منافع پر بھی ایک نظر ڈالیں۔ منافع-مجموعی گھریلو پیداوار کا تناسب (Profit-GDP ratio) ملک کی کل پیداوار میں منافع کے حصہ کو دکھاتا ہے۔ بزنس اسٹینڈرڈ کے اعداد و شمار کے مطابق، 20-2019 میں لسٹڈ کمپنیوں کے منافع-جی۔ڈی۔پی۔ کا تناسب 1.6 فیصد رہا۔ یہ تناسب 2020-21 میں بڑھ کر 2.69 فیصد ہو گیا۔

ایک طرف سرمایہ کاری کی سطح میں کمی آ رہی ہے، وہیں دوسری طرف منافع کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ کیسی الٹی گنگا ہے! اس کی وجہ دریائے گنگا کے پانی کی طرح صاف ہے—کارپوریٹ گھرانوں کو جو رعایتیں ملی تھیں وہ سرمایہ کاری بڑھانے کے بجائے منافع بڑھانے کے لیے استعمال کی گئیں۔ ماہرین اقتصادیات اسے “بیلنس شیٹ کو درست کرنا” کہتے ہیں۔ ریزرو بینک آف انڈیا کا ایک مطالعہ کارپوریٹ گھرانوں کے اسی رجحان کی وضاحت کرتا ہے۔ آر۔بی۔آئی۔ نے 1,500 کمپنیوں کے منافع، سرمایہ کاری، اثاثوں، دینداریوں اور واجبات کا باریک بینی سے مطالعہ کیا۔ بینک اس نتیجے پر پہنچا کہ گزشتہ دو برسوں کے کورونا وبا کے ایّام میں کارپوریٹ سیکٹر کے منافع میں 24 فیصدی کا اضافہ ہوا ہے۔

واضح رہے کہ منافع اسی وقت بڑھے گا جب لاگتوں کی قیمت میں کمی آئے۔ اجرت اور مزدوری لاگت کا بنیادی حصہ ہیں۔ جتنی رفتار سے کارپوریٹ گھرانوں کے منافعوں میں اضافہ ہوا ہے اتنی رفتار سے مزدوری میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔ چونکہ منظم شعبے میں یونین کا انتظام ہوتا ہے۔ اس لیے اس شعبے کے مزدور اپنی مزدوری اور کام کی شرائط پر بات چیت کرنے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں۔ ان سب کے باوجود بھی منظم شعبے کے مزدوروں کی مزدوری میں، جتنا اضافہ ہونا چاہیے تھا اتنا نہیں ہو رہا ہے۔

غیر منظم سیکٹر میں کام کرنے والوں کی حالت اور بھی ابتر ہے۔ انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (ILO) کی ایک رپورٹ کے مطابق کووڈ وبا کے ابتدائی سال میں غیر منظم شعبے میں مزدوری میں 26.6 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے، جب کہ منظم شعبے میں تنخواہوں میں 3.6 فیصد کمی آئی ہے۔

دوسری جانب ممبئی کے ایک تھنک ٹینک پرائس—پیپلز ریسرچ ان انڈیاز کنزیومر ایکونومی(People’s Research on India’s Consumer Economy)—کی حال ہی میں جاری کردہ رپورٹ بھی فی زمانہ آمدنی میں کمی کی مایوس کن تصویر پیش کرتی ہے۔ پرائس کے سروے میں آبادی کو انکی آمدنی کے حساب سے پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے—بیس بیس فیصدی کے پانچ حصے۔ پہلے غریب ترین 20 فیصدی حصے کی آمدنی میں 53 فیصدی تک کمی آئی ہے۔ دوسرا حصہ، جو کہ نچلا درمیانہ طبقہ ہے، کی آمدنی میں 32 فیصدی تک کمی آئی ہے۔ تیسرا متوسط طبقہ ہے، اسک طبقے کی آمدنی میں 9 فیصدی کی گراوٹ درج کی گئی ہے۔ چوتھا اپری درمیانہ طبقہ ہے، اسکی آمدنی میں 7 فیصدی کا اضافہ ہوا ہے۔ اور آخری امیر ترین طبقے کی آمدنی میں 39 فیصدی کا اضافہ ہوا ہے! مطلب یہ کہ غریب اور غریب ہوتا جا رہا ہے جبکہ امیر اور امیر ہوتا جہ رہا ہے۔

اس حقیقت سے کسی کو بھی اختلاف نہیں ہوگا کہ محنت کش طبقے کی حالت دن بدن دگر گوں ہوتی جا رہی ہے۔ حقیقی اجرت (real wages) میں مسلسل کمی ہو رہی ہے۔ کام کے حالات اب اتنے سازگار نہیں رہے۔ سرمایہ داروں کے موافق معاشی پالیسیاں کا نفاذ ہو رہا ہے۔ محنت کش طبقہ بدحالی کا شکار ہے، اسے روزگار کی فکر ہے۔ ایسی صورتحال میں مزید ملازمتیں پیدا کرنے اور مستقل اجرت ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ مزدوروں کو سماجی و اقتصادی مدد فراہم کرنے کے انتظام و انصرام ہونے چاہیے۔ مزدور موافق پالیسیوں کے نفاذ کی از سرِ نو کوشش کرنی چاہیے، اس سے پہلے کہ حالات قابو سے باہر ہو جائیں۔ ساغر خیامی نے کہا ہے؎

روٹی اگر نہ پائی تو پتھر اٹھائیں گے 

بھوکے کبھی نہ بھوک میں ملہار گائیں گے

(اسسٹنٹ پروفیسر۔’اقتصادیات‘،رابطہ۔ 9470425851)

ای میل[email protected]