روشنی ایکٹ مستفیدین کے خلاف کارروائی منصفانہ

سرینگر// بی جے پی نے اس بات کی وضاحت کی کالعدم شدہ روشنی اسکیم کے تحت مستفیدین کے خلاف کاروائی غیر منصفانہ نہیں ہے،تاہم جموں کشمیر میں کورپشن کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ بھاجپا کے قومی ترجمان شہنواز حسین نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ جموں کشمیر میں اقتدار کے دوران نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے لیڈروں نے اس اسکیم سے فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا’’روشنی اسکیم کے تحت مستحقین کے خلاف کاروائی غیر منصفانہ نہیں ہے، کاروائی اور تحقیقات ان سب کے خلاف ہو رہی ہے جنہوں نے اس سے فائدہ اٹھایا،اور براہ مہربانی اس کو جموں کشمیر یا مسلمانوں یا ہندوئوں کے ساتھ منسلک نہ کریں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں ایسی کوئی بھی سیاسی جماعت نہیں ہے جس نے روشنی اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھایا۔اس معاملے پر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر نشانہ باندھتے ہوئے شہنواز حسین نے کہا کہ اس کی خاموشی اس بات کو تسلیم کرنا ہے کہ انہوں نے اسکیم سے فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے کہا’’ ڈاکٹر عبداللہ خود اور اپنے خاندان کی طرف سے اراضی حاصل کرنے کے معاملے پر خاموش کیوں ہیں،وہ یہ بات کہے کہ انہوں نے کوئی بھی اراضی نہیں لی،ان کی خاموشی انکا اعتراف ہے‘‘۔بھاجپا کے قومی ترجمان کا کہنا تھا’’ وہ کہتے ہیں کہ یہ سیاسی بدلہ ہے،اس میں کیا سیاسی بدلہ ہے؟ وہ اس بات کا جواب دیں،حتیٰ کہ انکا دفتر بھی روشنی قانون کے مستحقین کے زمرے میں آتا ہے‘‘۔ انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ مرکزی زیر انتظام والے علاقے جموں کشمیر میں  کورپشن کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیںکیا جائے گا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات سے قبل وحید پرہ کی گرفتاری کو پی ڈی پی نے سیاسی بدلہ قرار دیا تو شہنواز حسین نے کہا کہ اس کیس کا انتخابات سے کوئی بھی لینا دینا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا’’آئین ہند میں کہیں یہ لکھا ہوا ہے کہ کسی چور کے خلاف کوئی بھی کیس درج نہ کیا جائے،اگر اس نے کوئی چیز چرائی ہو اور انتخابات لڑ رہا ہو؟ کیا الیکشن کمیشن ایجنسیوں کو اس بات پر روکے گا،اگر کوئی لوگوں کو لوٹ رہا ہو اور انتہا پسندی کیلئے رقومات فراہم کرتا ہو،یا اس کا(انتہا پسندی) سے کوئی رابطہ ہو۔ شہنواز حسین نے کہا کہ انکی جماعت ترقی کے نعرے پر الیکشن لڑ رہی ہے،تاہم عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ ترقیاتی مسائل پر بات کرنے پر شرم محسوس کر رہی ہے۔ انہوں نے پارمپورہ علاقے میں فوجی اہلکاروں پر حملے کی بھی مذمت کی۔