روشنی اسکیم کی منسوخی پرنظرثانی کی درخواست

سرینگر// نیشنل کانفرنس نے کہا ہے کہ حکومت نے روشنی سکیم کی منسوخی پر نظرثانی کی درخواست کرکے بھاجپا کی ساکھ اور اس کے کیڈر کو بچانے کیلئے یوٹرن لیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان عمران نبی ڈار نے ایک بیان میں کہاکہ اس بات کا احساس ہوجانے کے بعد کہ روشنی سکیم کے سب سے زیادہ مستفیدین بھاجپا، آر ایس ایس اور جموں میں مخصوص طبقہ کے افسران ہیں، بھاجپا روشنی سکیم کی وجہ سے نشانہ بننے سے بچنے کیلئے خاموشی سے پیچھے ہٹنا چاہتی ہے۔ روشنی ایکٹ میں کلیدی تبدیلیاں لانے کے لئے ہائی کورٹ میں نظرثانی درخواست دائر کرنے پر بھاجپا کی سربراہی والی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے کہا کہ ملکی اور مقامی سطح پر روشنی سکیم پر پروپیگنڈا کرکے فائدہ اُٹھانے کی مذموم کوششوں کے بیچ بھاجپا خود کو ہی مشکل صورتحال میں پا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے مؤقف میں اچانک تبدیلی کی وجہ یہی ہے کہ مستفیدین کی فہرست میں سب سے زیادہ بھاجپا اور آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والوں کے نام سامنے آرہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ یہ کہنے کی ضرورت نہیں بھاجپا خود کو خودسوزی بچانے کیلئے یہ اقدام کررہی ہے کیونکہ اس سے بظاہر بھاجپا اور آر ایس ایس کے اندر بڑے بڑے نام متاثر ہورہے ہیں۔ نظرثانی کی درخواست بی جے پی ، آر ایس ایس اور ان کا نظریہ رکھنے والے بیوروکریٹوں کو بچانے کیلئے دائر کی جارہی ہے اور اس عمل کیلئے غریبوں کو ڈھال بنایا جارہا ہے کیونکہ بھاجپا کے پاس اب مقامی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر رسوائی سے بچنے کیلئے یہی واحد راستہ بچا ہے۔این سی ترجمان نے کہا کہ یہ نام نہاد ’سرجیکل اسٹرائیک‘ بنیادی طور پر ایک خاص طبقے کے لوگوں لوگوں کو حقوق سے محروم کرنا تھا لیکن جو اعدادوشمار سامنے آئے ہیں ،انہوں نے بی جے پی اور آر ایس ایس کو ذہنی طور پریشان کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ جموں خطے میں جاری انتخابات میں مایوس کن کارکردگی کی وجہ سے پہلے ہی پریشان بھاجپا نے مؤقف کی اس اچانک تبدیلی کے سوالوں سے بچنے کیلئے خود کو معاملہ سے الگ کرنے کا انتخاب کیا ہے۔عمران نبی ڈار نے کہا کہ ہم لوگوںکو پہلے سے ہی ڈی ڈی انتخاب کے وقت بھاجپا کے اس پروپیگنڈا سے ہوشیار کررہے تھے۔ اب جبکہ بھاجپا نے خود کو روشنی ایکٹ کے مستفیدین میں غرق پایا ہے ، اس نے اب اس معاملے سے پیچھے ہٹنا پسند کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا یہ موقف ہے کہ یہ قانون بنیادی طور پر 1990 کی دہائی میں نافذ کیا گیا تھا اور اس کے بعد متواتر حکومتوں نے ترمیم کرکے غریبوں، بے سہارا اور بے گھر لوگوں کی مدد و اعانت کی ہے ۔روشنی اسکیم کسی خاص مذہب ، طبقے یا علاقے کے لوگوں کیلئے محدود نہیں تھی بلکہ اس سکیم نے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی زندگی سنواری، جوسالہاسال سے غربت، افلاس اور بے روزگاری کی وجہ سے کشمکش میں مبتلا تھے۔تاہم بھاجپا، آر ایس ایس اور ان کی کٹھ پتلیوں نے اس سکیم کو ’’سرجیکل سٹرائیک‘‘ اور ’’لینڈ جہاد ‘‘ گھوٹالے کے نام دیئے لیکن اس سکیم میں بھاجپا اور آر ایس ایس کے مستفیدین کے نام آنے کے بعد یہ معاملہ خود ٹھنڈا ہوگیا۔