روشنی اراضی سکینڈل کا معاملہ

جموں//قومی تحقیقاتی ایجنسی (سی بی آئی) نے روشنی اراضی سکینڈل میں جاری تحقیقات کے سلسلے میں سرینگر اور جموں کے9 مقامات پر چھاپے مارے۔یہ تلاشیاں کشمیر کے دو سابق صوبائی کمشنروں،سابق ڈپٹی کمشنر سرینگر،اسسٹنٹ کمشنر نزول سرینگر اور تحصیلدار نزول سر نگر کی رہائش گاہوں پر لی گئیں۔ایک چھاپہ جموں  میں ایک سبکدوش بیروکریٹ سے بنے سیاستدان شیخ محبوب اقبال (سابق ڈویژنل کمشنر کشمیر) کی رہائش گاہ پر ڈالا گیا۔ تلاشی کے دوران ، سی بی آئی ٹیموں نے سرینگر ، جموں اور نئی دہلی میں واقع متعد منقولہ جائیدادوں سے متعلق ملکیت کے حقوق کی فراہمی ، متنازعہ دستاویزات ضبط کیں۔ تلاشیوں کے دوران 25 لاکھ روپے سے زائد کے فکسڈ ڈیپازٹ  2 لاکھ روپے نقد، 6 بینک لاکروںکی چابیاں اور متعدد بینک اکاؤنٹس کا پتہ لگایا گیا ۔ یاد رہے کہ سی بی آئی نے جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی ہدایت پر روشنی گھوٹالہ میں مقدمہ درج کیا تھا۔سی بی آئی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ الزام لگایا گیا تھا کہ سری نگر میں واقع 7 کنال 7 مرلہ کے لگ بھگ سرکاری اراضی کے مالکانہ حقوق کم رقومات کی عوض دئیے گئے جس سے سرکاری خزانے کو بھاری نقصان ہوا۔ مزید الزام لگایا گیا تھا کہ اس زمرے کو  اس وقت کے سرکاری ملازمین تھے جو قیمت متعین کرنے والی کمیٹی کے ممبر تھے،نے از خود تبدیل کیا ۔