روس یوکرین کشیدگی | اب تک 40ہلاکتیں

 
کیف//یوکرین کے صدر کے ایک مشیر کا کہنا ہے کہ ملک پر روسی حملے میں اب تک تقریباً 40افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
 
صدر ولادیمیر زیلینسکی کے مشیر اولیکسی آریسٹووچ نے جمعرات کو بتایا کہ کئی درجن افراد زخمی ہوئے ہیں۔
 
انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا ہلاک ہونے والوں میں عام شہری بھی شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ یوکرائنی عوام کا مستقبل ہر یوکرائنی پر منحصر ہے، انہوں نے ان تمام لوگوں پر زور دیا جو ملک کا دفاع کر سکتے ہیں وزارت داخلہ کی اسمبلی سہولیات میں آئیں۔
 
 
یوکرین نے مارشل لاء کا اعلان کیا
کیف// یوکرین کے صدر ولودیمر زیلنسکی نے جمعرات کو روس کی فوجی مہم شروع کرنے کے بعد ملک میں مارشل لاء نافذ کرنے کا اعلان کردیا۔
مسٹر زیلنسکی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ روس نے ملک پر حملہ کیا ہے۔وزیرداخلہ کے مطابق روسی فوج نے دارالحکومت کیف میں واقع فوجی ڈپو اور ہوائی اڈے پر میزائلوں سے حملہ کیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق دارالحکومت کیف کے بوریسپل انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور شہر کے دیگر مقامات پر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ ملک کے فضائی راستے سویلین پروازوں کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔
 
 
روس نے یوکرین پر حملہ کیا: کیف کی رپور ٹ
کیف// روس نے جمعرات کو یوکرین پر حملہ کردیا اور روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے دنیا کے دیگر ممالک کو اس معاملے میں مداخلت نہ کرنے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے ایسا کیا تو انہیں اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے اس کے بعد یوکرین نے روس پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین اپنا دفاع کرے گا اور جیت بھی جائے گا یوکرین نے روسی طیاروں کو مار گرانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال قابو میں ہے اور دنیا بھر کے ممالک پر زور دیا کہ وہ روس پر پابندیاں لگا کر اسے تنہا کر دیں۔ جوائنٹ فورسز کمانڈ کے مطابق فوج نے آج پانچ روسی طیارے اور ہیلی کاپٹروں کو مار گرایا ہے۔ یہ حملے کا مناسب جواب ہے۔ اس حملے میں ہمارے دشمن کو بہت نقصان اٹھانا پڑے گا۔
دریں اثنا یوکرین کے وزیر خارجہ دیمترو کولیبا نے روسی حملے کو’جارحیت کی جنگ‘ قرار دیتے ہوئے اپنے اتحادیوں سے فوجی اور انسانی مدد کی اپیل کی ہے۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر جو بائیڈن، جرمن چانسلر اولاف شولز، یورپی یونین کونسل کے صدر چارلس مشیل، پولینڈ کے صدر آندریج ڈوڈا اور برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن سے بات کی ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پوتن کو روکنے، پوتن مخالف اتحاد بنانے، فوری پابندیاں لگانے اور یوکرین کے لیے فوجی اور انسانی امداد کے لیے فوری طور پر کارروائی کرے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ روس کو امن قائم کرنے پر مجبور کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے۔
یوکرین کے صدر نے روس کی طرف سے جنگ شروع کرنے کے بعد ملک کے نام ایک پیغام میں کہا میں نے ابھی امریکی صدر سے بات کی ہے اور انہوں نے یوکرین کو بین الاقوامی امداد فراہم کرنے کی تیاری کر لی ہے۔
فوج کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ روسی فوج نے فوجی اڈوں پر زبردست حملے شروع کر دیے ہیں۔ روس نے کیف کے قریب بورسپیل ہوائی اڈے پر میزائل داغے ہیں اور اسی طرح کے حملے دوسرے ہوائی اڈوں پر بھی کیے گئے ہیں۔ یوکرین کی فوج روسی فضائی حملوں کا جواب دے رہی ہے۔ بی بی سی نے کیف کے ایک بیان کے حوالے سے کہا ہے کہ فوج نے یوکرین کے جنوبی بندرگاہی شہر اوڈیسا میں روسی چھاتہ بردار طیاروں کے اترنے کی خبروں کی تردید کی ہے۔
کیف میں صبح سویرے کروز میزائل داغے گئے اور اوڈیسا میں بھی فوج کی نقل و حرکت دیکھی گئی۔ اہلکار نے بتایا کہ روسی فوج روسی سرحد سے تقریباً 25 کلومیٹر دور خارکیو میں یوکرائن کی سرحد میں داخل ہو گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس میں یوکرین کی وزارت داخلہ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ کچھ میزائل کیف میں یوکرین کے ملٹری میزائل کمانڈ سینٹرز اور ملٹری ہیڈ کوارٹر پر گرے۔
دوسری جانب روس کی وزارت دفاع نے یوکرین کے شہروں پر حملوں کی خبروں کی تردید کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ روسی طیاروں نے یوکرین میں فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا تھا۔ متعدد رپورٹس میں یوکرائنی حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ روس کے ساتھ بیلاروس بھی اس حملے میں شامل ہو گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ یوکرین کے شمالی اور جنوبی دونوں حصوں پر حملے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر جو بائیڈن نے ٹویٹ کرکے روسی حملے کی مذمت کی اوراسے غیر ضروری اور نامناسب قرار دیا۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ G-7 اور اپنے اتحادیوں کے رہنماؤں سے ملنے جا رہے ہیں۔ روس پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ اس دوران انہوں نے واضح کیا کہ وہ یوکرین اور یوکرینی باشندوں کو امداد فراہم کرتے رہیں گے۔
کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے کہاکہ روس نے یوکرین پر بڑا حملہ کیا ہے، جو بغیر کسی وجہ کے کیا گیا ہے۔ یہ حملہ یوکرین کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی ہے۔
 
یوکرین نےمودی سے اپیل کی کہ پوتن سے بات کرکے کشیدگی ختم کرائیں
نئی دہلی//ہندوستان میں یوکرین کے سفیر آئیگور پولیکھا نے وزیر اعظم نریندر مودی سے روس کے صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ بات چیت کرنے کی اپیل کرتے ہوئے جمعرات کو کہا کہ روس کے ساتھ اچھے تعلقات کے پیش نظر ہندوستان، روس یوکرین کے درمیان کشیدگی کی صورتحال کو کنٹرول کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے یوکرین پر روسی فوجی کارروائی کی خبروں کے درمیان مسٹر پولیکھا نے نئی دہلی میں میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ روسی فوج نے دارالحکومت کیف کے آس پاس کے علاقوں پر حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوکرین کی فوج اس کا جواب دے رہی ہے۔
مسٹر پولیکھا نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو مسٹر پوتن (روسی صدر) سے بات کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا “روس کے ساتھ ہندوستان کے اچھے تعلقات ہیں، وہاں کے حالات کو کنٹرول کرنے میں ہندوستان اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
یوکرین کے سفیر نے کہا کہ ہماری فوج مضبوط ہے، ہمیں کئی ممالک کی حمایت مل رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یوکرین نے پانچ روسی لڑاکا طیارے اور دو ہیلی کاپٹر مار گرائے۔
 
 
یوکرین پر روس کی فوجی کارروائی بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی :نیٹو
ماسکو//یوکرین پر روس کی فوجی کارروائی کے بعد نیٹو کے سکریٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے الزام لگایا کہ روس ڈون باس پر حملہ کرکے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے ٹویٹر پر کہاکہمیں یوکرین پر روس کے حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں اس حملے سے لاتعداد شہریوں کی جانیں خطرے میں ہیں۔ یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور نیٹو کے لیے سنگین خطرہ ہے نیٹو ممبران کا اجلاس روس کے یوکرین پر حملے کے پیش نظر ہوگا۔
 
 
یوکرین فوج کے خلاف عوامی جمہوریہ لوہانسک کا فوجی آپریشن
لوہانسک//لوہانسک عوامی جمہوریہ (ایل پی آر) نے جمعرات کو لوہانسک کے یوکرین کے زیر کنٹرول علاقوں کو آزاد کرانے کے لیے فوجی آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ صرف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ایل پی آر کے ترجمان نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا’’24 فروری کو لوہانسک عوامی جمہوریہ کی سویلین فورسز نے توپ خانے تیار کرنے اور ایل پی آر کے عارضی طور پر مقبوضہ علاقے کو آزاد کرانے کے لیے آپریشن شروع کردیا ہے ‘‘۔
انہوں نے کہا کہ ’’سویلین فوج صرف فوجی تنصیبات اور ان جگہوں پر حملہ کر رہی ہے جہاں یوکرین کے فوجی اہلکار اور ہتھیار جمع ہیں ۔ شہریوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے، پھر بھی ایل پی آر کے فرنٹ لائن علاقوں اور عارضی طور پر یوکرین کے زیر کنٹرول علاقوں میں رہنے والے لوگوں سے گھروں میں رہنے کی تاکید کی جاتی ہے‘‘۔
انہوں نے کہا ’’ میں یوکرین کی مسلح افواج کے فوجیوں سے ہتھیار ڈالنے کی اپیل کرتا ہوں ‘‘۔
 
یوکرین میں فوجی مہم بند کرے روس:ای یو
برسیلس//یورپی کونسل کے سدر چارلس مشیل اور یورپی کمیشن کے صدر ارسلا وان ڈیر لیین نے جمعرات کو کہا کہ یورپی یونین روس سے یوکرین میں فوجی مہم فوری طورپر روکنے کی اپیل کرتا ہے۔
ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا،’’ہم روس سے اپیل کرتے ہیں کہ حملہ فوراً روکا جائے،وہ یوکرین سے اپنی فوج واپس بلائے اور یوکرین کی خودمختاری ،آزادی اور علاقائی سالمیت کا احترام کرے۔یورپی یونین اس بحران میں یوکرین اور اس کے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہے۔‘‘
 
اردوغان نے یوکرین پر سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کیا
انقرہ//ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے یوکرین کی موجودہ صورتحال پر قومی سلامتی کونسل کا اجلاس بلایا ہے۔ ڈیلی صباح نے جمعرات کو اپنی رپورٹ میں یہ اطلاع دی۔
رپورٹ کے مطابق اجلاس میں یوکرین میں بدلتے حالات اورموجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے ۔ اجلاس کے بعد اردوغان اپنا بیان جاری کریں گے۔
 
 
دنیا روس کو ذمہ دار ٹھہرائے گی:بائیڈن
واشنگٹن//امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعرات کو روس پر مشرقی یوکرین میں فوجی مہم چلانے کےلئے ایک سوچی سمجھی جنگ شروع کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ امریکہ اور اس کے ساتھ متحد ہیں اور فیصلہ کن طریقے سے جواب دیں گے اور دنیا بھی روس کو ذمہ دار ٹھہرائے گی۔
مسٹر بائیڈن نے ایک بیان میں کہا کہ وہ حالات پر نظر رکھیں گے اور کل اپنے جی -7 ہم منصبوں کے ساتھ میٹنگ کرکے روس کے خلاف آگے نتیجوں کا اعلان کرنے کےلئے امریکی لوگوں سے خطاب کریں گے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پوری دنیا کی دعائیں آج رات یوکرین کے لوگوں کے ساتھ ہیں کیونکہ وہ روسی فوجی دستوں کے ذریعہ ایک بے وجہ اور غیر مناسب حملے کو جھیل رہے ہیں۔ روسی صدر نے ایک پہلے سے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت جنگ کا انتخاب کیا ہے جو انسانی تکلیف اور زندگی کےلئے تباہ کن ثابت ہوگا۔
انہوں نے کہا،’’اس حملے سے ہونے والی اموات اور تباہی کے لئے صرف روس ذمہ دار ہے اور امریکہ اور اس کے اتحادی متحداور فیصلہ کن طریقے سے جواب دیں گے۔دنیا روس کو جواب دہ ٹھہرائے گی۔
 
 
 
ناٹو کی کارروائی بین الاقوامی تعلقات کے اصولوں کے منافی : پوٹن
ماسکو//روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے جمعرات کو کہا کہ نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (ناٹو) کے اقدامات بین الاقوامی تعلقات کے اصولوں کے خلاف ہیں۔
اپنے ٹیلی ویژن خطاب میں مسٹر پوٹن نے کہا’’آپ اکثر سنتے ہیں کہ سیاست ایک گندا کاروبار ہے۔ شاید یہ ہے، لیکن اتنا بھی نہیں اور اس حد تک بھی نہیں۔ ناٹو کا ایسا رویہ بین الاقوامی تعلقات کے اصولوں کے منافی ہے۔
 
 
روس سے فوج واپس بلانے کی اقوام متحدہ کی اپیل، نتائج تباہ کن ہونے کی وارننگ
اقوام متحدہ// روس کے یوکرین پرحملے کو اپنے 5 سالہ دور کا افسوناک ترین لمحہ قرار دیتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے ولادیمیر پیوٹن سے فوج واپس بلانے کی اپیل کی ہے بصورت دیگر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔
غیر ملکی خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے سربراہ نے سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کے آغاز میں روسی صدرسے فوری اپیل کرتے ہوئے کہا کہ 'انسانیت کے نام پر، اپنے فوجیوں کو روس واپس بلائے۔'انہوں نے مزید کہا کہ 'انسانیت کے نام پر، یورپ میں جنگ شروع ہونے نہ دیں جو صدی کے آغاز سے اب تک کی بدترین جنگ ہو سکتی ہے، جس کے نتائج صرف یوکرین کے لیے تباہ کن نہیں بلکہ روسی فیڈریشن کے لیے بھی المناک ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم عالمی معیشت پر اس جنگ کے اثرات کے نتائج کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔
ڈان میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق انتونیو گوتیرس نے کہا کہ جنگ سے اموات ہوں گی، لوگ بے گھر ہو جائیں گے اور مستقبل میں امید کھو دیں گے، روس کے اقدامات سے عالمی معیشت کو نقصان پہنچے گا۔
انہوں نے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ اس جنگ کا کوئی مقصد نہیں ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ جنگ اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے اور اگر یہ نہ روکی گئی تو اس سے ایک سطح تک تکلیف پہنچے گی جس کا سامنا یورپ نے کم از کم 1990 کی دہائی بلقان کا بحران کے بعد سے نہیں کیا۔
دریں اثناء اقوام متحدہ میں یوکرین کے سفیر سرگی کیسلیٹس نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے یوکرین کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے۔انہوں نے اپنے روسی ہم منصب پر یہ بیان دینے کے لیے زور دیا کہ روس یوکرین کے شہروں پر گولہ باری اور بمباری نہیں کرے گا۔یوکرین کے سفیر نے کہا کہ اگر روسی سفیر واسیلی نیبنزیا مثبت جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں تو انہیں سلامتی کونسل کی صدارت سے دستبردار ہو جانا چاہیے جوکہ رواں ماہ روس کے پاس ہے۔
اس کے بعد یوکرین نے سلامتی کونسل کا ایک اور ہنگامی اجلاس طلب کیا جس میں اقوام متحدہ کے ادارے سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ جنگ بندی کروائے کیونکہ کشیدگی کم کرنے سے متعلق بات کرنے میں بہت دیر ہوچکی ہے۔
یوکرین میں آج صبح فضائی عملے کو بھیجے گئے ایک نوٹس کے مطابق ملک بھر کی فضائی حدود کو شہری پروازوں کے لیے بند کر دیا گیا۔ایک تجارتی پرواز سے باخبر رہنے والی ویب سائٹ کے مطابق تل ابیب سے ٹورنٹو جانے والا ایک اسرائیلی ایل ال بوئنگ 787 طیارہ رومانیہ، ہنگری، سلوواکیہ اور پولینڈ کی جانب جانے سے پہلے اچانک یوکرین کی فضائی حدود سے نکل گیا۔
یوکرین کے اوپر ٹریک کیا جانے والا واحد دوسرا طیارہ یو ایس آر کیو-4 بی گلوبل ہاک بغیر پائلٹ نگرانی والا طیارہ ہے جس نے روس کی جانب سے یوکرین کی سرزمین پر فضائی پابندیاں لگائی جانے کے بعد یوکرین سے باہر مغرب کی جانب پرواز شروع کردی۔روس کے ساتھ محاذ آرائی کی وجہ سے یوکرین کی حکومت مشرقی یوکرین کے ہوائی اڈے آدھی رات سے صبح 7 بجے تک بند کر رہی ہے۔
روسی ایوی ایشن حکام کی جانب سے فضائی حدود پر قبضہ کرنے کی کوششوں کی وجہ سے یوکرائنی ایوی ایشن حکام نے مشرق میں کچھ فضائی حدود کو 'خطرناک علاقہ' قرار دیا ہے۔یوکرین نے یہ فیصلہ روس کی جانب سے مشرقی یوکرین کی فضائی حدود میں شہریوں کی فضائی آمدورفت پر پابندی عائد کرنے کے بعد کیا۔
گزشتہ رات کیے جانے والے اس اعلان سے یوکرین حکام کے زیر کنٹرول ٹریفک کے لیے بفر زون قائم کیا گیا ہے تاکہ روسی حکام کے زیر کنٹرول ہوائی ٹریفک کے ساتھ کسی ممکنہ تصادم سے بچا جا سکے۔
گزشتہ ہفتے یوکرائنی ہوابازی کے حکام نے علاقے میں پائلٹس کو خبردار کیا کہ وہ روسی حکام سے چوکنا رہیں جو فضائی حدود کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں اور صرف یوکرین کے کنٹرولرز کو پہچانیں۔
 
 
یوکرین کی صورتحال پر ہندوستان کی نظر، ہندوستانیوں کی حفاظت پر توجہ مرکوز
نئی دہلی//ہندوستان یوکرین میں تیزی سے بدلتے ہوئے پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور وہاں موجود ہندوستانیوں بالخصوص طلباء کی حفاظت پر توجہ مرکوز کر رہا ہے ذرائع کے مطابق وزارت خارجہ کے کنٹرول روم کو وسعت دی گئی ہے اور خدمات چوبیس گھنٹے فعال ہیں۔روس کے صدر ولادیمیر پوتن کی طرف سے روس کے ڈونباس علاقے میں خصوصی فوجی آپریشن کی منظوری کے بعد ہندوستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کشیدگی کو کم کرنے اور صورتحال سے متعلق تمام مسائل کو حل کرنے کے لیے فوری سفارت کاری کا مطالبہ کیا ہے۔
اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے ٹی ایس ترومورتی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جاری پیش رفت پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر صورتحال کو نہ سنبھالا گیا تو خطے کا امن اور سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 20,000 سے زائدطلباء و ہندوستانی شہری یوکرین کے مختلف علاقوں بشمول سرحدی علاقوں میں مقیم ہیں۔ ہندوستان ضرورت کے مطابق ہندوستانی طلباء سمیت تمام ہندوستانی شہریوں کی واپسی میں سہولت فراہم کررہا ہے۔
مسٹر ترمورتی نے کہا کہ کوئی بھی حل متعلقہ فریقوں کے درمیان مسلسل سفارتی بات چیت سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام فریقوں کے لیے بین الاقوامی امن اور سلامتی کو برقرار رکھنے کی اہم ضرورت پر زور دیتے ہیں۔