’روح کے علاج کے بجائے شکم سیری ہوئی ‘

سرینگر//مسئلہ کشمیر کے دائمی حل کیلئے مین اسٹریم اور مزاحتمی جماعتوں کے اتحاد کو ناگزیز قرار دیتے ہوئے حریت کانفرنس کے سابق چیرمین اور مسلم کانفرنس کے ایک دھڑے کے سربراہ پروفیسر عبدالغنی بٹ نے کہا کہ ہند و پاک کو چاہئے کہ وہ فوری طور جامع مذاکرات کا سلسلہ شروع کرے اور کسی دوست ملک کی خدمات حاصل کرکے تنازعہ کشمیر کاحل ڈھونڈ نکال کر شاندار مستقبل کی تعمیر میں اپنا رول ادا کریں ۔جمعہ کو یہاں مسلم کانفرنس کے صدر دفتر پر اپنی خود نوشت ’’Beyond Me‘‘کی رسم رونمائی کے سلسلے میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر بٹ نے جہاں کچھ اہم اور تلخ باتوں کا انکشاف کیا وہیں انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ کشمیریوں نے اپنے شکم بھرے مگر اپنے روح کے مرض کا علاج نہیں کیا ۔انہوں نے کہا ’’جمہوریت کا دعویٰ کرنے والا بھارت کشمیر میں گن گرج کے ساتھ آیا ،جس کی وجہ سے کشمیر کا وجود کانپ اٹھا اور کشمیریوں کے دل مجروح ہوئے جس کی وجہ سے ایک مرض نے جنم لیا ‘‘۔انہوں نے کہا ’’بھارت کے ایک عظیم وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے تاریخی ’استقلال چوک ‘ جو بعد میں کشمیریوں کے خون سے لال ہوا ،میں کشمیریوں کو ایک سبق سکھایا اور وہ سبق یہ تھا کہ رائے شماری کرکے لوگوں کی سیاسی سوچ کی قدر کی جائے گی ‘‘۔پروفیسر بٹ نے کہا’’کشمیری ایک ذہین قوم ہے اور اس قوم نے ایک اچھے شاگرد کی طرح نہرو جی کے اس سبق کو یاد رکھا ‘‘۔انہوں نے کہا ’’ہندوستان اور پاکستان گذشتہ کئی دہائیوں سے کشمیریوں کے معدوں کا علاج کررہے ہیں ،نہ کہ روح کا ،اور اس کا برا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ مرض دن بہ دن بڑھتا جارہا ہے ‘‘۔ہندو پاک کو جامع مذاکرات کا سلسلہ شروع کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے پروفیسربٹ نے کہا کہ دونوں ممالک کوچاہئے کہ وہ کشمیریوں کے اجتماعی ضمیرکا علاج کریں‘‘۔انہوں نے کہا ’’کشمیری قوم کا روح زخمی ہوا ہے ،جنت بے نظیر کہلانے والے کشمیر کی حالت آج جہنم بن گئی ہے ‘‘۔انہوں نے کہا ’’معدے کا علاج کرنے سے مرض بڑھتا جارہا ہے مگر دل کے مرض کا علاج ہوجائے تو مرض کا نام و نشان ہی مٹ جائے گا ‘‘۔انہوں نے کہا ’’اقوام متحدہ سے لیکر تاشقند ،جواہر لال نہرو،پرویز مشرف اور اٹل بہاری واجپائی نے بھی تسلیم کیا کہ کشمیر ایک متنازعہ مسئلہ ہے اور وہی بات میں نے بھی 1986میں کہی تھی جب مجھے اس وقت کی سرکار نے نوکری سے برطرف کیا اور مجھ پر یہ الزام لگایا گیا کہ میں ریاست کی سلامتی کیلئے خطرہ ہوں ‘‘۔انہوں نے کہا ’’میں نے ہمیشہ سچ بولا اور سچائی بھی یہی ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل صرف بات چیت میں مضمر ہے ‘‘۔ کشمیر کی تحریک کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسربٹ نے کہا ’’تحریک کو سمجھنا ہوگا ،تحریک وہ ہے جس کا منصوبہ ہو اور جس کی آگے منزل ہو ‘‘۔انہوں نے قیادت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ لنگڑے گھوڑے پر اندھے سوار کے متراد ف ہے‘‘۔انہوں نے کہا ’’میں ایک نااہل استاد نہیں تھا ،میں فارسی کا پروفیسررہا ہوں ،مگر مجھے اس لئے نوکری سے برطرف کیا گیا ،کیونکہ میں نے کشمیر کی اس تنظیم کو زندہ کیا تھا جس کو یہاں سے بھگایا گیا تھا ‘‘۔انہوں نے کہا ’’مسلم کانفرنس اور میں نے کبھی اقتدار کی لالچ نہیں کی نہ اس کی تمنا ہے ‘‘۔انہوں نے کہا ’’میں بوڑھا ہوچکا ہوں ،مگر میری سوچ ابھی بھی جوان ہے ،میرا کام مسلم کانفرنس کو زندہ رکھنا ،سچ بولنا ،پورے کشمیر کی سربلندی اور کشمیر کو آزادی ،عزت و مقام دلانا میرا کام ہے ‘‘۔انہوں نے کہا ’’یہاں مین اسٹریم اور علیحدگی پسند جماعتیں خود کو کشمیریوں کا ہمدرد مانتی ہیں اور یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ انہیں کشمیری قوم سے پیار و محبت ہے ‘‘۔انہوں نے کہا ’’یہاں کی تمام سیاسی جماعتوں، چاہئے وہ مین اسٹریم یا علیحدگی پسند تنظیم ہو ،سبھی کو مصلحتوں اورمفادات کی دیواروں کو توڑنا ہوگا اور سروں کو جوڑنا ہوگا ‘‘۔انہوں نے کہا ’’مین سٹریم میں چاہئے نیشنل کانفرنس ،پی ڈی پی ،کانگریس ،بی جے پی یا دوسری جماعتیں ہوں، کو مزاحمتی جماعتوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا اور اکھٹے ہوکر کشمیری قوم کی خاطر دلوں کو جوڑنا ہوگا اور دلوں کے جوڑ سے ہی کشمیری قوم کے تئیں ان کے پیار و محبت کا اظہار کرنا ہوگا ‘‘۔پروفیسر بٹ نے کہا’’تمام سیاسی جماعتوں کے اتحاد کے بعد ایک قرار داد بنائیں اور پھر اس مسودے کے ذریعے ہند و پاک کو بامعنیٰ بات چیت پر آمادہ کریں ‘‘۔انہوں نے کہا ’’ہمیں ہند و پاک کو راستہ دکھانا ہوگااور دبائو قائم کرنا ہوگا تاکہ دونوں ممالک ایک ہی ٹیبل پر آکر مسائل کا حل ڈھونڈ نکالیں اور ایک شاندار مستقبل کا رخ کریں‘‘۔انہوں نے کہا’’ہم مالک ہیں اور جب مالک ایک آواز میں بات چیت کا نعرہ بلند کریں گے تو ایک نیا ماحول پیدا ہوگا اور یکجہتی کا پیغام کشمیر سے جائے گا‘‘۔انہوں نے کہا ’’دونوں ممالک کو پانیوں اور دیگر چھوٹے چھوٹے مسائل کو لیکر بات چیت کا سلسلہ روک نہیں دینا چاہئے بلکہ تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے کسی ایک ملک کی خدمات حاصل کریں ،جو دونوں کادوست ہو‘‘۔پروفیسر بٹ نے کہا ’’پورے جنوب ایشائی خطے کا مستقبل کشمیر سے جڑ چکا ہے اور خطے میں استحکام تبھی ممکن ہے جب مسئلہ کشمیر حل ہوجائے ‘‘۔انہوں نے کہا ’’ہمارا ’کل‘ حل میں ہے اور اس حل میں سب کا شاندار ’کل‘ ہے ‘‘۔انہوں نے کہا ’’ہند و پاک روایتی حریف ہیں اوریہ روایت تبھی ختم ہوسکتی ہے ،جب دونوں ممالک کشمیریوں کی خواہشات کا احترام کرکے بات چیت کا وہ سلسلہ شروع کریں ،جو انہیں کشمیری قیادت سکھائے گی ‘‘۔انہوں نے کہا ’’امریکہ افغانستان میں ہے اور چین پاکستان میں اور یہ بات سمجھنی چاہئے کہ جنوب ایشائی خطے میں دنیا کی سب سے بڑی 2طاقتیں اگر ٹکراگئیں ،تو نہ مسئلہ رہے گا اور نہ ہی ہندوستان اور پاکستان ‘‘۔انہوں نے کہا ’’ہند و پاک 2ایٹمی ممالک ہیں ،دنوں نے کئی جنگیں بھی لڑیں ،لہٰذا خطرات سے بچنے کیلئے مذاکرات ضروری ہیں ‘‘۔اپنی خود نوشت ’’Beyond Me‘پر روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسر بٹ نے کہا ’’میں نے کتاب میںاپنی بات ڈھنگ سے کہی ہے ،اس میں سیاست ،روحانیت ،دین اور تاریخ کے ساتھ ساتھ کچھ تلخ باتیں بھی ہیں ‘‘۔انہوں نے کہا ’’میں نے کتاب میں اپنی کوتاہیوں اور خامیوں کو مان لیا ہے ،میں نے اپنی غلطیوں کا اعتراف کیا ہے کہ میں وہ نہ کرسکا ،جو میں کرسکتا تھا ‘‘۔انہوں نے کہا’’ہند و پاک اور دوسرے لوگوں کو بھی چاہئے کہ وہ اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کریں ‘‘۔تقریب پر پیپلز ایجوکیشن ٹرسٹ کے چیرمین پروفیسر منظور احمد وار مہمان خصوصی تھے جبکہ اس موقعہ پر کئی مزاحتمی جماعتوں کے کارکن،سرکردہ وکلا ء،معالج ،صحافی اور دانشور بھی موجود تھے ۔