روح ِ رمضان اور روزہ | ناصر منصور

ناصر منظثور
روزہ اپنی ظاہری علامت کے اعتبار سے صبح سے شام تک کھانا پینا بند کرنے کا نام ہے مگر اپنی اصل حقيقت کے اعتبار سے روزہ یہ ہے کہ آدمی علائق دنیا سے اپنے آپ کو کاٹ لے ۔ رمضان و صیام کا وجہ تَسمِیہ اور لغت میں ان کے اطلاق کس جانب ہے آنے والے سطور ملاحظہ فرمایں ۔

( صوم ) زمانہ جاہلیت میں وجہ تسمیہ چیزوں کی نوعيت کی وجہ سے یا دوسری وجوہات کی بنا پر رکھے جاتے تھے جیسے ذو الحج کا نام ۔ اس مہینے میں حج کا موسم ہوتا تھا ،اس وجہ سے ذو الحجہ کہلایا ۔ اسی طرح ربیع الاول کا نام اس لئے رکھا گیا ہے کہ یہ مہینہ ربیع کے موسم میں ہوتا ہے، یہ کھیتی باڑی کا موسم جس میں گیہوں وغيرہ بوئے جاتےہیں۔ صامَ یَصومُ کے اصل معنی ہیں رُکنا چلنے پھرنے بولنے کھانے پینے سے رُک جانا صوم کہلاتا ہے ۔ الخیل الصائم اس گھوڑے کو کہتے ہیں ،جس کا چارہ پانی بند کرکے کھڑا کر دیا گیا ہو۔ عرب دنیا کے قدیم تر زمانے میں انسانوں کے روزے رکھنے کا عام رواج نہيں تھا ،صوم کا لفظ عربی میں گھوڑوں کے روزے کے لئے استعمال ہوا ہے۔ جاہلی دور میں لوٹ مار غارت گری اور ڈاکہ ذنی کرنا عربوں میں عام تھا ۔ اس کے لئے انہیں گھوڑوں کی ضرورت پڑتی تھی، اب چونکہ عرب ریگستان کی ریت سے مالا مال ہے، اس ماحول کے ساتھ حیوانی جانوروں میں سے اُونٹ کا گہرا تعلق ہے ۔ اُونٹ فطری طور سخت گرمی کا سامنا کرسکتا ہے اور سات دن تک بلا ناغہ بھوکا پیاسا رہ سکتا ہے ۔ گھوڑا ان صفات کا متصف نہيں ہوتا، اس کے لیے گھوڑوں کو سخت گرمی کی موسم میں روزہ کی مشق کرائی جاتی تھی ، تاکہ وہ ان کے مقاصد کی خاطر لائق اعتبار ہوں ۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں لفظِ صوم اسی واسطہ بیان کیا ۔ یاایّھا الزین امنُوا کُتبَ علیکم الصِیَام کَما کُتِبَ عَلیَ الزینَ من قبلکم لعلّکُم تتّقون ۔ (سورۃ البقرۃ 183)یعنی’’ اے ایمان والو تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تاکہ تم تقویٰ والے بن جاؤ‘‘۔ روزہ انسانی نفوس کی قدیم عبادت ہے ۔ کما کُتِب علی الزین من قبلکم ۔ یعنی روزہ کی یہ عبادت صرف تمہارے ہی اوپر نہيں بلکہ تمہارے سے پہلے اُمتوں پر بھی اسی طرح فرض کی گئی تھی ۔اس سے یہ مقصود نہيں ہے کہ صیام کی خاص ریاضت صرف اس امت کا شرف ہیں ،مفسر قرآن مولانا امین احسن اصلاحی اس آیت کی تدبّر کے حوصلے سے یوں رقم طراز ہے ۔’’آسمانی شریعتوں میں یہ ابتدا سے تربیت نفس کی خاص ریاضت رہی ہے ۔ مقصود اس بات کا حوالہ دینے سے صرف عام طبیوتوں کو گھبراہٹ دور کرنا ہے کہ یہ کوئی نئی چیز نہيں ہے ۔ شرائع الیٰ کی یہ قدیم وراثت ہے ۔ جو تمہاری طرف منتقل ہورہی ہے اور تم اس کو اختیار کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے سب سے زیادہ اہل اور حق دار ہو ۔ لعلکم تتّقون ۔ روزے کی اصل غایت بیان ہوئی ہے ،تمام شریعت کی بنیاد تقویٰ پر ہے ۔تقویٰ پیدا ہوتا ہے جذبات و خواہشات پر قابو پانے کی قوت و صلاحیت سے اور اس قوت و صلاحيت کی سب سے بہتر تربيت روزوں کے ذریعہ سے ہوری ہے‘‘۔

(رمضان ) کی وجہ تسمیہ۔ کہا جاتا ہے عربوں میں دور ِجاہلیت سے ہی اس مہینے کا نام رَمضان چلا آرہا ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ لفظ رمضان رمَض سے ماخوذ ہے، یعنی اس کا مصدر اَلرّمض ہے، جس کا معنیٰ ہے گرمی کی شدید جلن ۔کہا جاتا ہے جب اونٹ شدید گرمی میں چلتے پھرتے ہیں تو اِن کے پاوں میں لگی ہوئی گندگی گرمی کی شدت سے صاف ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روزوں کی وجہ تسمیہ رمضان ہے کہ یہ گناہوں کو اُسی طرح جلا کر ختم کر دیتا ہے جیسے مذکورہ اونٹ کے پاوں سے اس کی گندگی کو ۔

مطلوبِ رمضان  :حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص ایمان طلبِ ثواب کی نیت سے رمضان کا روزہ رکھے، اس کے پچھلے گناہ بخش دئے جائیں گے اور جو ایمان اور اخلاق کے ساتھ رمضان میں عبادت کرے، اس کے گزشتہ معاصی معاف کردئے جائیں گے۔ اسی طرح جو شخص شبِ قدر میں ایمان و احتساب کے ساتھ مشغولِ عبادت رہے، اس کے پچھلے گناہ معاف کردئے جاتے ہیں ۔

مقصودِ رمضان  :حضرات عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت کو استقبالِ رمضان کے لئے سال بھر مزیّن کیا جاتا ہے ۔ اور جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو عرش کے نیچے جنت کے درختوں کے پتّوں سے ہَوا چلتی ہوئی جب حُورِعین پر پہنچتی ہے تو وہ کہتی ہیں،اے رب! اپنے خاص بندوں میں سے ہمارے خاوندوں کا تقرّر فرما، جن سے ہم چین و سکون حاصل کریں اور وہ ہمارے ساتھ عیش و آرام کریں ۔

خلاصہ کلام  :   روزے کی ریاضت کا خاص مقصد اور موضوع یہی ہے کہ اس کے ذریعے انسان کی حیوانیت اور نفس کی خواہشات اور پیٹ اور شہوتوں کے تقاضوں کو دبانے کی عادت ڈالی جائے۔ روزے تقویت ایمان کی خاطر ایک ضروری ریاضتی مشق ہے۔ جس نے رمضان کو حقیقی معنوں میں پایا وہی وہ انسان ہے ،جس کو ریّان کے دروازے سے جنت میں داخلے کی سعادت نصیب ہوگی ،روزہ جنت کا دروازہ ہے مگر یہ دروازہ صرف وہی شخص کھول سکتا ہے جو روزے کی مشقت کو تقویٰ کی کنجی میں بدل سکے ۔

(اومپورہ ہوسنگ کالونی بڈگام، رابطہ۔9906736886)