روحانیت اور مادیت کی کشمکش فہم و فراست

ڈاکٹر عریف جامعی

روح و بدن کی دوئی ازمنہ قدیم سے فلسفہ کے ساتھ ساتھ علم نفسیات کا ایک اہم موضوع رہا ہے۔ مجرد فلسفہ کے ساتھ ساتھ فلسفیانہ مذاہب نے بھی اس دوئی کو نہ صرف قبول کیا بلکہ اسی سوچ کے تحت بدن کو روح کے لئے ایک پنجرہ (قفس) تصور کیا گیا۔ ظاہر ہے ایک طائر آزاد قفس میں پہنچ کر جس طرح پر پھڑپھڑاتا ہے اور جلد سے جلد اس سے نکل کر آزاد فضاؤں میں اپنے پر پھیلا پھیلا کر اڑان بھرنا چاہتا ہے، بالکل اسی طرح روح جسم کے قیدخانہ سے حریت میں ہی اپنی عافیت تصور کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف فلاسفہ (اور اس میں نو افلاطونی فلاسفہ پیش پیش رہے ہیں) نے ’’مجرد فلسفیانہ تفکر یعنی کنٹمپلیشن‘‘ کو روح کے اس درد کی دوا قرار دیا تو دوسری طرف فلسفیانہ مذاہب نے بدن کو اذیت میں مبتلا کرکر کے روح کو خلاصی عطا کرنا ضروری گردانا! دونوں جماعتیں تقریباً اس بات پر متفق تھیں کہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں روح اضمحلال کا شکار ہوکر بالکل اس پرندے کی مانند ہوجاتی ہے ،جسے اگر خاصی دیر بعد قفس سے چھوڑ بھی دیا جائے، جب بھی وہ اڑان کی صلاحیت سے عاری ہوتا ہے۔ تاہم دونوں طرح کے طریقہ کار کے تحت فلسفہ اور فلسفیانہ مذاہب میں ’’خواص‘‘ کا ایک ایسا طبقہ معرض وجود میں آیا جو ’’عوام ‘‘کے لئے بے کار نہ سہی غیر متعلق ضرور تھا۔
رہبانیت بادی النظر میں ان دونوں رویوں کا ایک ملغوبہ سی محسوس ہوتی ہے۔ مسیحیت کے طبقہ خواص نے جب یونانی فلسفہ کے زیر اثر، بظاہر نیک نیتی کے ساتھ، بدن کو غیر اہم سمجھ کر اس کی ضروتوں کو نظرانداز کیا تو ایک طرف عوام اس شش و پنج میں مبتلا ہوئے کہ دنیا (یعنی مادہ یا بدن) ’’ملعون‘‘ اور ’’مذموم‘‘ ہے اور دوسری طرف علم کی روایت میں روحانیت کی ایک ایسی تشریح متعارف ہوئی جو آج تک انسانیت کا پیچھا چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رافت اور رحمت کو مسیحیوں کی ایک جماعت کا خاصہ قرار دینے کے باوجود قرآن ان کی تراشیدہ رہبانیت کے پورے قصر کو اس طرح منہدم کرتا ہے: ’’۔۔۔۔۔۔اور ان (رسولوں) کے بعد عیسی بن مریم کو بھیجا اور انہیں انجیل عطا فرمائی اور ان کے ماننے والوں کے دلوں میں شفقت اور رحم پیدا کردیا۔ ہاں رہبانیت (ترک دنیا) تو ان لوگوں نے از خود ایجاد کرلی تھی، ہم نے ان پر اسے واجب نہ کیا تھا۔‘‘ (الحدید: ۲۷)
اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ حقیقی روحانیت میں انسانی شخصیت کے اس حصے کو اہمیت نہیں دی جاتی جہاں روح کو مقدم رکھنا لازمی ہے۔ تاہم روح کی یہ تقدیم جسم یا مادے کو کسی صورت غیر اہم نہیں بناسکتی۔ یہی وجہ ہے کہ اصل روحانیت روح اور بدن میں ہم آہنگی اور ارتباط پیدا کرنے کی متمنی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رحم مادر میں روح اور جسم کا اتصال ہونے کے بعد انسانی شخصیت مولد، منشا، مسکن اور مدفن تک کے مراحل ایک اکائی (جس میں روح اور بدن ایک ساتھ ہوتے ہیں) کے طور پر طے کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی شخصیت کو ایک طرف روح ’’تحریک ‘‘عطا کرتی ہے اور دوسری طرف جسم اس کو ایک ’’مقام‘‘ (اسٹیشن) فراہم کرتا ہے۔
اب اگر روح اور بدن کی ہم آہنگی برقرار نہ رہے تو انسانی شخصیت کا اصل جوہر پژمردگی کا شکار ہوجاتا ہے۔ روح کی بالادستی ہو یا جسم کی زور آوری، دونوں صورتوں میں انسانی شخصیت اپنے محل (لوکس) سے نکلنے کی طرف مائل ہوتی ہے۔ تاہم نہ تو پہلی صورت میں عالم ملکوت میں انسان کا داخلہ ممکن ہے اور نہ ہی دوسری صورت میں انسان مادی دنیا میں دوام اور ثبات حاصل کرسکتا ہے۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ روح اور بدن کے درمیان درکار توازن بگڑ جاتا ہے۔ توازن اور ہم آہنگی کی یہی سطح ’’احسن التقویم‘‘ کہلاتی ہے اور اسی کو برقرار رکھکر انسان ’’مادیت‘‘ کی ’’اسفل السافلین‘‘ میں گرنے سے بچ سکتا ہے۔ واضح رہے کہ ’’مادیت ‘‘سے ہماری مراد محض یہ نہیں ہے کہ انسان مال و زر کا پرستار بن جائے (اگرچہ یہ رویہ بھی اس میں شامل ہے)۔ یہاں مادیت کا مطلب یہ ہے کہ انسان فقط اپنے وجود کے مادی یا جسمانی تقاضوں کی فراہمی میں ہر پل سرگرداں رہے اور روح کو بالکل نظر انداز کر بیٹھے۔
انسان جب اپنے وجود کے روحانی تقاضوں کو پس پشت ڈال دیتا ہے تو ایسا کرنا صرف انسانی معاشرے کے انفرادی دائرے تک محدود نہیں رہتا بلکہ انفرادی سطح پر اپنایا گیا یہ رویہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ بشریات کی تاریخ میں اس کی مثالیں وافر مقدار میں پائی جاتی ہیں۔ مولانا سید ابوالحسن علی ندوی نے ’’تاریخ دعوت و عزیمت‘‘ میں درج کیا ہے کہ بنو امیہ کے دور میں کئی حکمرانوں کے پیدا کردہ انتشار کو جب عمر ابن عبدالعزیز (جنہیں خلیفہ خامس بھی کہا جاتا ہے) نے اپنی سوا دو سالہ حکمرانی میں فرو کرنے کی کوشش کی تو لوگ اس طرح ایمان، اخلاق اور آخرت کی طرف مائل ہوئے جس طرح وہ اگلے حکمرانوں کے ادوار میں دنیا کے عیش و عشرت کے حصول میں محو رہا کرتے تھے۔ وہی لوگ جو اس سے پہلے مال و متاع کے حساب کتاب کی باتیں کیا کرتے تھے اب نیک اعمال کے ثواب کو گننے لگے! یہی وجہ ہے کہ اس مختصر سی مدت میں مختلف اصلاحات کے ساتھ ساتھ لوگوں کی ایک اچھی خاصی تعداد نے علم حدیث کی طرف توجہ مبذول کرکے علم دین کی کافی خدمت انجام دی۔
دراصل مادیات کا غلبہ افراد اور معاشروں کو کچھ اس طرح مصروف رکھتا ہے کہ زندگی کے اعلی حقائق پر غوروفکر کرنا ناممکن نہ سہی مشکل ضرور ہوجاتا ہے۔ اب بورژوا (رئیس طبقہ) اور پرولتاریہ (مفلس طبقہ) کے مابین فرق اس طرح بڑھ جاتا ہے کہ ان کے درمیان خلیج کو پاٹنا مشکل ہوجاتا ہے۔ پھر جب معاشرے کا ایک طبقہ کسمپرسی کی اس حالت کو پہنچ جاتا ہے جہاں ان کی حالت باربردار چوپایوں کی سی ہوجاتی ہے تو ان کے اندر طبقہ اعلی کے لئے نفرت اور حسد پیدا ہوجانا ایک لازمی بات ہے۔ طبقہ اعلی بھی سامان تعیش کی فراہمی اور فراوانی کو ہی اپنا مقصد زندگی بنا لیتا ہے۔ ظاہر ہے کہ وہی فرق مراتب جو معاشرے کے ارتقاء کا باعث ہوسکتا تھا، معاشرے میں انتشار اور افتراق پر منتج ہوجاتا ہے۔ شاہ ولی اللہ دہلوی نے اپنی شاہکار تصنیف ’’حجت اللہ البالغہ‘‘ میں مغلیہ دور کے ہندستان کی کچھ ایسی ہی تصویر کشی کی ہے، جس کا نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے۔ سلطنت روما کی کچھ ایسی ہی تصویر اس سے تھوڑا عرصہ بعد ایڈورڈ گبن نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ’’دی ہسٹری آف ڈکلائن اینڈ فال آف دی رومن امپائر‘‘ میں پیش کی۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن نے اپنی سادہ اور عام فہم تعلیم دیکر روح اور بدن کو ایک ساتھ ایک مکمل اکائی کے طور پر چلانے کی بات کی ہے، جس سے انسانی شخصیت نکھر سکتی ہے۔ اسی صورت میں انسان اس بلندی کو پاسکتا جو انسانی سطح پر ممکن ہے۔ اس بارے میں قرآن کا ارشاد ہے: ’’اور ان لوگوں کو اس شخص کا حال پڑھ کر سنائیے کہ جس کو ہم نے اپنی آیتیں دیں پھر وہ ان سے بالکل ہی نکل گیا، پھر شیطان اس کے پیچھے لگ گیا، سو وہ گمراہ لوگوں میں شامل ہوگیا۔ اور اگر ہم چاہتے تو اس کو ان آیتوں کی بدولت بلند مرتبہ کردیتے، لیکن وہ دنیا کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی نفسانی خواہش کی پیروی کرنے لگا۔‘‘(الاعراف: ۱۷۵-۱۷۶)
آیت کے مفہوم سے واضح ہوتا ہے کہ انسانی شخصیت کے اندر روح اور بدن کی کشمکش ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ تاہم اس کشمکش کے اندر توازن اور اعتدال قائم کرنا ہی انسان کی اصل آزمائش ہے۔
اس اعتدال اور اقتصاد کو قائم و دائم رکھنے کے لئے رسالتمآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہر طرح سے تعلیم و ترتیب کی۔ اس سلسلے میں سیرت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کئی واقعات نہایت سبق آموز ہیں۔ ایک بار جب صحابہ کی ایک جماعت، جس میں عبداللہ ابن عمرو ابن العاص پیش پیش تھے، نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عبادت کی کیفیت اور کمیت تک پہنچنا ناممکن خیال کرکے اپنے لئے ’’مشقت ‘‘کو لازم قرار دیا، تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے اس اقدام کو نہایت سنجیدگی سے لیا اور اس کی تصحیح کے لئے ایک فوری مجلس بلائی۔ دراصل ان صحابہ نے یہ عہد کیا تھا کہ راتیں قیام میں گزاریں گے، دنوں کو روزہ رکھیں گے اور ازدواجی علائق کو منقطع کریں گے! ان تمام باتوں کا تجزیہ کرکے رسالتمآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلان فرمایا کہ انسان پر اپنے جسم کا بھی حق ہے، اپنی آنکھ کا بھی حق ہے، اپنی اہلیہ کا بھی حق ہے، اپنے مہمان کا بھی حق ہے اور اپنے ملاقی کا بھی حق ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید سراحت فرمائی کہ تقوی کی بلند ترین سطح پر متمکن ہونے کے باوجود خود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قیام (لیل) بھی کرتے ہیں اور آرام بھی فرماتے ہیں؛ روزہ بھی رکھتے ہیں اور افطار بھی فرماتے ہیں (یعنی ہمیشہ روزہ نہیں رکھتے ہیں) اور آپ ؐ نے (ایک سے زیادہ) نکاح بھی کیے ہیں۔ (فتح الباری)
دراصل قرآن روح و بدن کے تقاضوں کا ایک ساتھ خیال رکھنے والی انہی تعلیمات کا آئینہ دار ہے۔ ’’کلوا واشربوا ولا تصرفوا‘‘ (الاعراف: ۳۱) سے بھی یہی واضح ہوتا ہے اور اسی کی تشریح ’’ویسئلونک ماذا ینفقون، قل العفو‘‘ (البقرہ: ۲۱۹) سے بھی ہوتی ہے۔ انہی تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر انسانی شخصیت کا تزکیہ ہوتا ہے یعنی انسانی شخصیت نکھر جاتی ہے اور انہی کو نظرانداز کرکے انسانی شخصیت مرجھا جاتی ہے۔ (الشمس: ۹-۱۰) پھر یہی نکھری ہوئی شخصیت نفس امارہ کی ترغیبات کو خاطر میں نہیں لاتی ہے اور نفس لوامہ کی لگام سے ہوا و ہوس کے منہ زور گھوڑے کو زیر کرتی ہے۔ بالآخر یہی شخصیت نفس مطمئنہ بن کر اللہ کے دربار میں حاضر ہونے کے قابل ہوتی ہے۔ ایسی ہی شخصیت علمی سطح پر علم الیقین اور عین الیقین کے مقامات کو عبور کرتی ہوئی حق الیقین کی اعلی ترین سطح پر فائز ہوتی ہے۔
ایسی ہی شخصیت کے لئے یہ امکانات پیدا ہوجاتے ہیں کہ مادی دنیا میں ایک روحانی زندگی گزارے۔ ایسے ہی انسان کے لئے حق (سچائی) کو اپنی ذات پر مقدم رکھنے کی راہیں آسان ہوجاتی ہیں۔ یہی انسان مادی دنیا میں پیش آنے والی مشکلات کا فیصلہ روحانی دنیا کی نورانی فضاؤں کے لئے موخر کرتا ہے۔ یہی بات اسوہ یوسف علیہ اسلام سے بھی مترشح ہوتی ہے۔ اسی کو رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نو آفاقی اصولوں میں اس طرح بیان فرمایا ہے:
’’میرے رب نے مجھے نو باتوں کا حکم دیا ہے:۔۱۔ کھلے اور چھپے، ہر حال میں خدا سے ڈروں،۲۔ غصہ میں ہوں یا خوشی میں، ہمیشہ انصاف کی بات کہوں،۳۔ محتاجی اور امیری، دونوں حالتوں میں اعتدال پر قائم رہوں،۴۔ جو مجھ سے کٹے، میں اس سے جڑوں،۵۔ جو مجھے محروم کرے، میں اسے دوں،۶۔ جو مجھ پر ظلم کرے، میں اس کو معاف کروں،۷۔ اور میری خاموشی غوروفکر کی خاموشی ہو،۸۔ میرا بولنا یاد الٰہی کا بولنا ہو،۹۔ میرا دیکھنا عبرت کا دیکھنا ہو۔‘‘ (رواہ رزین)
(رابطہ۔ 9858471965)
[email protected]