روایتی سیاسی جماعتوں کے جھانسے میں نہ آئیں | نامبلہ اوڑی میں الطاف بخاری کا عوامی جلسہ سے خطاب

عظمیٰ نیوز سروس

سرینگر// اپنی پارٹی کے سربراہ سید الطاف بخاری نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ روایتی سیاسی جماعتوں کے پْر فریب سیاست کے جھانسے میں نہ اپنائیں۔ انہوں نے اتحاد پر زور دیا اور کہا کہ روایتی سیاست دان ہمیشہ اپنے سیاسی مفادات کیلئے لوگوں کو ذات پات کی بنیاد پر تقسیم کرتے آئے ہیں۔انہوں نے یہ باتیں اتوار کواوڑی حلقہ انتخاب کے نامبلہ میں منعقدہ ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔موصولہ بیان کے مطابق الطاف بخاری نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’روایتی سیاستدان اقتدار کے حصول کیلئے اور اقتدار پر قابض رہنے کیلئے ہمیشہ عوام کو دھوکہ دیتے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ 1947سے ہی ان سیاستدانوں نے اپنے ذاتی سیاسی فائدے کے لیے لوگوں کو ذات پات کی بنیاد پر تقسیم کرنا شروع کیا‘‘۔انہوں نے کہا ’’اب وقت آ گیا ہے کہ لوگ پْر فریب سیاست کا شکار ہونا بند کر دیں اور اپنے وسیع تر مفادات کے لیے آپسی اتحاد کو برقرار رکھیں‘‘۔سرحد پر گولہ باری کی وجہ سے اوڑی کے لوگوں کو سالہا سال تک ہلاکتوں اور تباہی کا سامنا کرنے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’’سرحدوں پر رہنے والے لوگوں نے برسوں سے بھاری نقصان اٹھایا ہے۔ وہ گولہ باری اور فائرنگ کا نشانہ دونون طرف سے بنتے رہے ہیں۔مجھے امید ہے کہ یہ صورتحال بدلے گی، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ جب قومیں دْشمنیاں ختم کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں تو امن اور خوشحالی شروع ہوتی ہے‘‘۔انہوں نے اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا ’’ہم نے دیکھا ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے دوران یورپی ممالک ایک دوسرے سے لڑتے رہے اور ایک دوسرے کا خون بہاتے رہے لیکن جب انہوں نے دشمنی چھوڑ دی اور امن اور خوشحالی کی جستجو کو اپنایا اس کے بعد ایک قابل ذکر تبدیلی آئی۔ اس وقت یورپی ممالک میں اس حد تک ہم آہنگی دیکھنے کو ملتی ہے کوئی بھی ایک ہی ویزے کے ساتھ متعدد یورپی ممالک میں جاسکتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ، جلد یا بدیر، یہاں دونوں ممالک کے درمیان بھی ایسی ہی خوشگوار تبدیلی واقع ہو گی اور لوگوں، خاص طور پر سرحدی باشندوں کو راحت کی سانس نصیب ہوگا۔‘‘اْوڑی میں بنیادی ڈھانچے کی قلت اور مواقع کی کمی پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، سید محمد الطاف بخاری نے کہا، ’’ اْوڑی کے لوگوں کو اپنی بنیادی ضروریات بھی میسر نہیں ہیں۔ میں حیران ہوں کہ روایتی پارٹیاں جو دہائیوں تک حکومت کرتی رہی ہیں، نے یہاں کے عوام کیلئے کیا کیا ہے؟اْوڑی میں اتنی بجلی پیدا کی جارہی ہے، لیکن اس کے باوجود یہاں کے لوگوں کو ناکافی بجلی سپلائی سے جوجھنا پڑ رہا ہے۔ اسی طرح یہاں کے تعلیمی اور طبی اداروں میں انفراسٹکچر اور افرادی قوت کی قلت دیکھنے کو مل رہی ہے، جس کی وجہ سے لوگ معیاری تعلیم اور بہتر علاج و معالجہ سے محروم ہیں‘‘۔ بخاری نے وعدہ کیا کہ جب اپنی پارٹی کو جموں و کشمیر میں حکومت بنانے کا مینڈیٹ ملے گا تو وہ تاریخی مہورہ پاور پروجیکٹ کی بحالی کو یقینی بنائے گی۔انہوں نے کہا ’’میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ اپنی پارٹی کی حکومت مہورہ پاور ہاؤس کی دوبارہ تعمیر کو یقینی بنائے گی اور اس پروجیکٹ سے پیدا ہونے والی بجلی خصوصی طور پر اس علاقے کے مکینوں کے لیے مختص کی جائے گی۔ اس کے علاوہ، ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ مقامی نوجوانوں کو اس خطے میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی سے پیدا ہونے والے روزگار کے مواقع ترجیحی طور میسر کرائے جائیں۔‘‘اس موقع پر اپنی پارٹی کے سینئر لیڈر اور نائب صدر ظفر اقبال منہاس نے نیشنل کانفرنس اور کانگریس کو شدید الفاظ میں ہدفِ تنقید بناتے ہوئے ان جماعتون کو سرحدوں پر رہنے والے لوگوں کی مصیبتوں اور مصائب کا ذمہ دار ٹھہرایا۔انہوں نے کہا، ’’پنڈت جواہر لال نہرو اور شیخ محمد عبداللہ سرحدی آبادیوں کو درپیش مصائب اور تکالیف کا ذمہ دار ہیں۔ 1948 میں، جب ہندوستانی فوج حملہ آوروں کو پیچھے دھکیل رہی تھی، تو ان لیڈروں نے یہاں جنگ بندی کو یقینی بنایا، جس کے نتیجے میں ان مقامات پر سرحد کی لکیر کھنچ گئی، جہاں گجر-بکروال اور پہاڑی برادری کی غالب آبادیاں تھیں۔ سرحد کی تخلیق نے ان آبادیوں کو نہ صرف تقسیم کیا بلکہ انہیں غیر محفوظ بھی بنا دیا۔ شیخ محمد عبداللہ کو کشمیر میں ایک غیر متنازعہ لیڈر بنانے کے لیے جان بوجھ کر جنگ بندی کو یقینی بنایا گیا تاکہ اس کے نتیجے میں ان ا?بادیوں کے بیچوں بیچ ایک لکیر کھنچ جائے۔‘‘’’وہ (نہرو اور شیخ) جانتے تھے کہ مظفرآباد، میرپور، کرناہ، اْوڑی، اور پونچھ کے بالائی علاقوں کے لوگ شیخ عبداللہ کو کبھی اپنا لیڈر تسلیم نہیں کریں گے۔ اسی لئے انہوں نے ان کی آبادی والے علاقوں کے درمیان جنگ بندی لائن بنا کر انہیں تقسیم کیا۔ حالانکہ ان علاقوں میں کبھی سرحد نہیں تھی۔‘‘ظفر اقبال منہاس نے نیشنل کانفرنس اور کانگریس کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کا بھی ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا ان جماعتوں نے سالہا سال تک اپنے دور اقتدار میں جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کیا۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کے سینئر رہنما اور سرینگر کے سابق میئر جنید عظیم متو نے کہا کہ ستر سال قبل جموں و کشمیر میں جیسے ہی مہاراجہ کی شخصی حکومت کا خاتمہ ہوا، نیشنل کانفرنس نے خطے میں اپنا خاندانی راج قائم کیا۔ .انہوں نے کہا، ’’حقیقت میں، جموں اور کشمیر کو کبھی بھی صحیح معنوں میں آزادی نصیب نہیں ہوئی۔ کیونکہ 1947 میں مہاراجہ کی حکمرانی ختم ہونے کے بعد ہی یہاں نیشنل کانفرنس کا خاندانی راج قائم ہوا۔ اْس وقت سے لیکر یہ جماعت مسلسل جموں کشمیر میں اپنا خاندانی راج قائم کئے ہوئے اور اپنے سیاسی مفادات کیلئے مسلسل عوا کا استحصال کررہی ہے۔‘‘انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اپنی پارٹی کو مضبوط کریں۔ اْن کا کہنا تھا، ’’اپنی پارٹی کوئی خاندانی پارٹی نہیں ہے۔ بلکہ یہ افراد کی جماعت ہے جو جموں و کشمیر کی خوشحالی اور ترقی کے لیے مشترکہ پروگرام کے ذریعے یکجا ہوئے ہیں۔ یہ جماعت پہلے کبھی اقتدار پر نہیں رہی۔ لہذا، روایتی پارٹیوں کے برعکس، اپنی پارٹی پر عوام کا استحصال کرنے کا کوئی الزام نہیں لگایا جاسکتا ہے۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ واحد جماعت ہے جو جموں و کشمیر کے منظر نامے میں مثبت تبدیلی لانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ہم اس خطے میں امن، خوشحالی اور ترقی کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔‘‘اس موقع پر سید محمد الطاف بخاری، ظفر اقبال منہاس اور جنید عظیم متو کے علاوہ پارٹی کے جو سرکردہ لیڈران موجود تھے، اْن میں اْوڑی حلقہ انتخاب کے لئے پارٹی کے انچارج چوہدری مشتاق، صوبائی سیکرٹری نجیب نقوی، پارٹی کی ایس ٹی ونگ کے صوبائی صدر رفیق بلوٹ، کوآرڈی نیٹر اوڑی حلقہ انتخاب فاروق تانترے، سینئر لیڈر قاضی محمد شاہ، ضلع نائب صدر بارہمولہ محمود بخاری، بلاک صدر نورکھاہ زاہد مسعود، بلاک صدر مختار احمد، تحصیل صدر بونیار جاوید احمد پنڈت، یوتھ ونگ کے صدر اوڑی سجاد شیخ، بلاک صدر اشفاق لونانی ، سینئر رہنما نذیر چیچی، سینئر رہنما شکیل پٹھان، سینئر رہنما جاوید میر، سینئر رہنما آصف احمد جگوال، متولی صاحب، سینئر رہنما مشتاق میر، سینئر رہنما انور پیر، حلقہ صدر نامبلہ شفیق میر، اور دیگر لیڈران شامل تھے۔