روایتی دستکاریوں سے منسلک ہُنرمندوں کی تعداد میں بتدریج کمی

سرینگر //ماضی میں جموں و کشمیر کے اقتصادیات کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جانے والی کشمیر کی گھریلو دستکاریاں روبہ زوال ہونے کیساتھ ہی ان سے جڑے ہنر مند ادراد کی تعداد بھی آہستہ آہستہ کم ہوئی ہے۔بہتر کمائی اور مارکیٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے 28گھریلو دستکاریوں سے جڑے منظور شدہ ہنر مندوں کی تعداد گھٹ کرصرف 43ہزار 243رہ گئی ہے۔محکمہ ہنڈی کرافٹس کا کہنا ہے کہ ہنر مندوں کی رجسٹریشن اور ان کے حالات کو بہتر بنانے کیلئے کئے اقدامات اٹھائے گئے ہیں لیکن دستکاروں کی تعداد اس کے بائوجود بھی دن بہ دن کم ہورہی ہے۔ لیکن مختلف گھریلو دستکاریوں سے جڑے ہنر مندوں کا کہنا ہے کہ کم آمدنی اور مارکیٹ کی عدم دستیابی کی وجہ سے وہ صدیوں پرانی موروثی کام کاج کو چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔  2019میں دفعہ 370کی تنسیخ اور بعد میں دو سال تک عالمی وباء کی وجہ سے لگی پابندیوں کے باعث کشمیر کی گھریلو دستکاریوں کا بین الاقوامی مارکیٹ ختم ہوگیا ہے اور اس صورتحال کا اثر یہاں کے محنت کش طبقے پر براہ راست پڑا۔مارکیٹ کی کمی اور کم آمدن کی وجہ سے کشمیر کی گھریلو دستکاریوں سے جڑے ہنر مند یہ کام چھوڑ رہے ہیں اور اسی وجہ سے دستکاروں کی تعداد میں کافی تیزی سے کمی آرہی ہے۔ محکمہ ہنڈی کرافٹ کی جانب سے فراہم کئے گئے اعداد و شمارکے مطابق سال 2014سے لیکر 31دسمبر 2021تک صرف 43ہزار 384افراد کی رجسٹریشن مختلف دستکاریوں میں کرائی گئی ہے جن میں 13ہزار 384منظورہ شدہ ہنر مند شال بافی سے جڑے ہیں جبکہ قالین بافوں کی تعداد سکڑ کر صرف 7103رہ گئی ہے۔آری کے کام سے 3780، نمدہ بنانے والے ہنر مندوں کی تعداد 242، ختم بند نقش و نگاری کیساتھ صرف 106، پیپر ماشی کیساتھ 2036، فر اور لیدر کام کرنے والوں کی تعداد737، ساختہ کیساتھ 82، چین سٹچ کیساتھ216اور چین سٹیچ کریول کیساتھ12ہزار سے زائد، ٹیپسٹری 221، تانبے پر نقش نگاری کرنے والے 137، کانیل 19، مخصوص زیور بنانے والوں کی افراد صرف 23، ووڈ کارونگ سے وابستہ 399 افراد، زری کا کام کرنے والے 556، چاندی کا کام کرنے والے 10، قالین کیلئے تعلیم لکھنے والوں کی تعداد 8، ٹریسنگ پر نقشے بنانے والے صرف 10، قالین کا رفو کرنے والوں کی تعداد صرف 4، اون سے کپڑے بنانے والوں کی تعداد3،  فلیگری، چمڑے پر کام کرنے والے 3، مٹی کے برتن بنانے والوں کی تعداد صرف 1، اور دری بنانے والوں میں صرف ایک کی کاریگر کی رجسٹریشن ہوئی ہے۔محکمہ ہنڈی کرافٹس کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر شارق اقبال نے کہا ’’ دستکاروں کی رجسٹریشن کیلئے سرینگر کے 8زونوں میں سینٹر قائم کئے ہیں جہاں دستکار خود کو رجسٹر کرسکتا ہے‘‘۔انہوں نے کہا ’’ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ عالمی وباء کی وجہ سے کشمیر کی گھریلو دستکاریوں کو نقصان پہنچا ہے لیکن محکمہ نے دستکاروں کی مدد کیلئے کافی اقدامات اٹھائے ہیں جن میں دستکاروں کو سستے شرح سود پر قرضے فراہم کرنا  شامل ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ کشمیر ی گھریلو دستکاریوں کو بچانے کیلئے جی آئی ٹیگنگ اور کیو آر کوڈنگ کا نظام بھی شروع کیا گیا ہے اور اب کشمیر کی گھریلو دستکاریوں کے نام پر کوئی بھی کسی کو دھوکہ نہیں دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ نے کشمیری گھریلو دستکاریوں کے نام پر دوسری ریاستوں میں بننے والی ایشیاء  فروخت کرنے والوں کے خلاف جرمانے بھی عائد کئے ہیں۔