رمضان ۔اللہ کا بڑا انعام واکرام

افتخاراحمدقادری
ماہِ رمضان المبارک کی ہر ساعت رحمت سے بھری ہے ،اس کے فضائل سے قرآن وحدیث گونج رہے ہیں۔ مبارک ہے وہ جو اس کی خیر و برکت حاصل کرے۔ اس ماہ مبارک میں مسلمان کی موت شہادت ہے۔یہی وہ ماہ مبارک ہے جس کا اول رحمت، درمیان مغفرت، اور آخر جہنم سے آزادی ہے۔ اس ماہ مبارک میں جو نفل ادا کرے، وہ فرض کے برابر ثواب حاصل پائے، اس ماہ مبارک میں فضائل و برکات کا گنجینہ و علم و معرفت کا سرچشمہ قرآن مجید نازل ہوا ہے۔اس ماہ مبارک میں ایک ایسی رات ہے جو بفرمان قرآن مجید ہزار ماہ سے بہتر ہے ۔جنت کا دروازہ ریان، روزہ داروں کے لئے ہے، روزہ دار کی دعا بوقت افطار رد نہیں ہوتی ہے۔ روزہ بہت سی بیماریوں کو دور کردیتا ہے۔ روزے کا مقصدِ اعلیٰ اور اس سخت ریاضت کا پھل یہ ہے کہ تم متقی بن جاؤ، اور پاکباز بن جاؤ،روزے کا مقصد صرف صبح صادق سے غروب آفتاب تک کھانے پینے اور اجماع سے رُکے رہنے کا نام نہیں ہے بلکہ مقصد اعلیٰ یہ ہے کہ تمام اخلاق رذیلہ اور اعمالِ بد سے انسان مکمل طور پر دست ِکش ہوجائے، تم پیاس سے تڑپ رہے ہو، تم بھوک سے بیتاب ہورہے ہو، تمہیں کوئی دیکھ بھی نہیں رہا ہے۔ ٹھنڈا پانی اور نفیس و لذیذ کھانا پاس رکھا ہے مگر تم ہاتھ بڑھانا تو کجا نگاہ اٹھاکر دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔ رب کی رضا جوئی اس قدر ملحوظ ہے کہ گرمی کی شدّت، دھوپ کی سختی تمہارے عزائم کے مقابلے میں ٹھنڈی پڑگئی اور موسم سرما میں فجر و عشاء کے وقت سردی تمہارے لئے ہیچ رہی، اس کا سبب صرف یہ ہے کہ تمہارے رب کا حکم ہے ۔مہینہ بھرکی اس مشق کا مقصد اولین یہی ہے کہ تم باقی گیارہ مہینے اللّٰہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو ،یہ چیزین اگر رب العزت کے لئے ہیں تو یقیناً مولیٰ تعالیٰ روزے کی جزا خود عطا فرمائے گا اور روزہ بروز قیامت روزہ داروں کی شفاعت فرمائے گا۔

بلا شبہ یہ ایک مشکل ترین عبادت ہے،جس کو آسانی کے ساتھ انسان برداشت نہیں کرسکتا۔ اس لئے انسانی ذہن کو عادی بنانے کے لئے آہستہ آہستہ اس کے احکام نازل ہوتے رہے ،پہلے صرف عاشورہ کے دن کا روزہ فرض کیا گیا، پھر یہ حکم منسوخ کر دیا گیا اور چاند کے ہر ماہ کی تیرہویں چودہویں،پندرہویں،تاریخ کے روزے فرض کئے گئے۔ پھر یہ حکم بھی منسوخ ہوگیا اور ماہ رمضان المبارک کے روزے فرض ہوئے لیکن پھر بھی لاچاروں کے لئے یہ سہولت رکھی گئی اور اس کی اجازت دی گئی کہ چاہیں تو روزے رکھیں اور چاہیں تو فدیہ ادا کرکے روزے سے رخصت لیں۔

احادیث مبارکہ میں ماہ رمضان المبارک اور روزہ کی بہت ساری فضیلتیں ذکر کی گئی ہیں، اب یہاں پر کچھ احادیث کو پیش کیا جاتا ہے تاکہ اس سے لوگ روزہ کی اہمیت اور فضیلت کو سمجھ سکیں۔حضرتِ ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورِ اقدس صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب رمضان آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور ایک روایت میں ہے کہ جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں، شیاطین زنجیروں میں جکڑے جاتے ہیں اور ایک روایت میں ہے کہ رحمت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں۔حضرتِ سہل بن سعد رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورِ اکرم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جنت میں آٹھ دروازے ہیں، جن میں سے ایک دروازے کا نام ریان ہے۔ اس میں صرف روزے دار داخل ہوں گے۔

رابطہ نمبر 8954728623