رمضان فائر بندی میں توسیع کرنیکا امکان

نئی دہلی // رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ختم ہونے کے بعد بھی جموں و کشمیر میں مشروط  فائر جاری رہ سکتی ہے۔ کشمیر پولیس اہلکاروں اور  حکومت کا کہنا ہے کہ سیز فائر کی وجہ سے وادی کشمیر میں امن ہے۔ ذرائع کے مطابق مرکزی حکومت اس کو رمضان کے بعد بھی جاری رکھنے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔جموں و کشمیر کے ڈی جی پی ایس پی وید کے مطابق سیز فائر کے بعد سے 17 سے 20 مئی کے درمیان سنگ باری کے صرف 6 واقعات پیش آئے ہیں۔ انہوں نے ٹویٹ کیا کہ وزیر اعظم مودی کی اس پہل نے لا اینڈ آرڈر کو برقرار رکھنے میں مدد کی ہے۔ خاص طور پر جنوبی کشمیر میں حالات بہتر ہوئے ہیں، جو کنبے اپنے بچوں کو گھر واپس بلانا چاہتے ہیں ، ان میں بھی یہ اعتماد میں اضافہ کرنے کا کام کررہا ہے۔ ادھر پی ڈی پی کا کہنا ہے کہ سیز فائر کی وجہ سے امن کا ماحول ہے، سبھی جگہوں پر امن ہے ، اگر مرکزی حکومت اس کی مدت میں توسیع کرتی ہے تو یہ قابل استقبال قدم ہے۔وزرات داکلہ کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ فائر بندی کا مثبت ردعمل ظاہر ہورہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی رینجرس کی طرف سے بین الاقوامی سرحد پر گولہ باری میں تیزی کای وجہ مرکزی حکومت کی جانب سے امن بحال کرنے سے متعلق اٹھایا جانے والا اقدام تصور کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس سے ایک امید کی کرن پیدا ہوگئی ہے۔غور طلب ہے کہ رمضان کے مہینہ میں امن قائم رکھنے کیلئے 16 مئی کو وزارت داخلہ نے ٹویٹ کرکے فوجی کارروائی پر لوگ لگادی تھی۔ وزارت داخلہ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ رمضان کے مہینے میں فوج اپنی طرف سے کارروائی نہیں کرے گی ، لیکن اگر کوئی حملہ ہوتا ہے تو فوج اپنی یا بے گناہ شہریوں کی حفاظت کیلئے جوابی کارروائی کرسکتی ہے۔