رمضان المبارک ۔ایک جائزہ

محمد محسن خلیلی قادری
ویسے تو رمضان المبارک ہر سال آتاہے اورچلاجاتاہے ۔مگر اس بار کارمضان کچھ اورہے کیونکہ اس بار رمضان المبارک میں مسلمانوں پر ایک معنی میں کہیں تو ظلم کیاجارہاہے جو دکھائی تو دیتا ہے مگر مسلمانوں کواس کا احساس نہیں ہورہاہے کیونکہ مسلمان ابھی خوابِ غفلت میں سو رہے ہیں ۔ مجھے تفصیل میں نہیں جاناہے شارٹ کٹ میںکچھ یاد دلاتا ہوااپنی بات کہوں گا کہ کچھ مہینوں سے مسلمانوں پر یا کہیے کہ حجاب کا مسئلہ کرناٹک میں جب سے اُٹھا تب سے کرناٹک میں کچھ زیادہ ہی مسلمانوںپر ظلم کا زور پکڑتا دکھائی دے رہاہے ۔حجاب کے بعد حلال گوشت کا مسئلہ پھر مندر کے پاس مسلمانوں کو دکانیں نہ لگانے دینے کا مسئلہ،اس کے بعد اب مسجد میںلائوڈاسپیکر میں اذان کو بند کرنے کامسئلہ،اس کے بعد مسلمان تاجر میوہ فروش سے میوہ نہ خرید نے کامسئلہ،ایسے اورکئی مسئلے ہیں۔یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کے لیے عذاب ہے اورکچھ نہیں ۔اس کے بعد بھی مسلمان خواب ِغفلت میں سورہاہوتو پھر اللہ غافلوں کی مدد نہیں کرتا۔میں یہ ضرور کہنا چاونگاکہ ،کتنے لوگ ہیں جو نماز پڑھتے ہیں،رمضان ہی میں نہیں رمضان کے علاوہ بھی ، کتنے لوگ ہیں جو روزہ رکھ رہے ہیں،کتنے لوگ ہیں جو زکوٰۃ صحیح معنوں میں اداکرتے ہیں،کتنے لوگ ہیں جو غریبوں کاحق مار کرکھارہے ہیں،کتنے لوگ ہیں جومسلمان ہوکر بھی ایک دوسرے کی مدد کرنا نہیں چاہتے ہیں، ایسے کئی سوالات ہیں جو میرے ذہن میں آرہے ہیں جو حقیقت بھی ہے جس پر آپ غور کریں تو پتہ چلے گاکہ یہ تو حق بات ہے ۔مگر کہنے سے کچھ نہیں ہوتا،عمل بھی کرناپڑتاہے اورعمل کرنا مسلمان سے ہوتا نہیں ہے، جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کاعذاب مسلمانوں پر نازل ہورہاہے ۔اب رمضان میں ہی لے لیجئے۔ کتنے ایسے مسلمان ہیںجورمضان کوپانے کے بعد بھی روزہ نہیں رکھتے ہیں اورایسے رہتے ہیں جیسے کہ وہ بیمار ہیں مگر وہ صحت مند اورتندرست ہوتے ہیں ،صحت مند ہونے کے باوجود کہتے ہیں کہ گرمی بہت ہے ،ہم کو دھوپ برداشت نہیں ہوتی۔ یہ سب بہانے بناتے ہوئے نظرآتے ہیں جوحقیقت ہے ایساہورہاہے ۔میں نے اپنے کانوں سے سناہے کہ ایک شخص کہہ رہاتھاکہ میرے سے روزہ رہنانہیں ہوتا کیونکہ دھو پ بہت زیادہ ہے، یہ حیلے بہانے ہم مسلمانوں کے ہیں ۔ رمضان المبارک اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن ہے جس پر اسلامی عمارت قائم ہے۔ اللہ سبحانہ وتعالی نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ رمضان کے روزے جس طرح پہلی امتوں پر فرض کیے گئے تھے ،امت اسلامیہ پر بھی فرض کیے گئے ہیں۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالی نے فرمایا:اے ایمان والو تم پرروزے رکھنا فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پرفرض کیے گئے تھے تا کہ تم تقوی اختیار کرو ۔( البقرۃ۔183)۔حدیث میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے:ابن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: یہ گواہی دینا کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں، اوریقینا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، اورنماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، حج کرنا، اوررمضان المبارک کے روزے رکھنا۔( بخاری حدیث نمبر۔8 ، مسلم حدیث نمبر۔16)لہٰذا جوکوئی بھی روزہ نہ رکھے، اس نے ارکان اسلام کاایک رکن ترک کیااورگناہِ کبیرہ کا مرتکب ہوا، بلکہ بعض سلف ِصالحین نے تو اس کو کافر اورمرتد قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے بچائے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دنیا وآخرت میں سلامتی وعافیت کے طلبگار ہیں۔حدیث میں ہے:’’روزہ ایک ڈھال ہے، جس کے ذریعے بندہ جہنم کی آگ سے بچتا ہے۔(سنن النسائی۔:۲۲۳۱) دوسری حدیث میں ہے:جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک دن روزہ رکھا تو اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال کی مسافت کے بقدر دور کردیتا ہے ( مسلم۔باب فضل الصیام،:۱۱۵۳) صحیح مسلم کی حدیث میں ہے:پانچوں نمازیں،ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے تک کے گناہوں کا کفارہ ہوتے ہیں بشرطیکہ کبیرہ گناہوں سے پرہیز کیا جائے (مسلم ۔باب الصلوٰۃ الخمس والجمعۃ۔:۲۳۳)ایک دوسری حدیث میں ہے: جس نے رمضان کے روزے اوراس کے بعد شوال میں چھ نفلی روزے رکھے، وہ شخص ایسے ہے جیسے وہ ہمیشہ روزہ رکھنے والا ہے (صحیح مسلم۔باب صوم : ۱۱۶۴)حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:مِن أفطَرَ یَوْمًا من رَمَضانَ، من غَیْرِ رُخْصَۃ وَلا مَرضٍ لَمْ یَقْضِ عَنْہُ صَوْمُ الدَّہْرِ کُلِّہِ، وَ إنْ صَامہُ۔’’جس نے بغیر شرعی اجازت اور بیماری کے رمضان شریف کا ایک روزہ بھی توڑا ،اُسے عمر بھر کے روزے کفایت نہیں کر سکتے اگرچہ وہ عمر بھر روزے رکھے۔‘‘(ترمذی)روزہ،رمضان المبارک کا سب سے اہم عمل ہے اور ہر صحت مند بالغ مرد و عورت پر فرض ہےاور اس کو تمام آداب کے ساتھ بجا لانا بڑے اجر و ثواب کا کام ہے۔حدیث قدسی ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ ہوں یا میں خود براہ راست اس کا بدلہ دیتا ہوں(صحیح مسلم باب فضل الصیام۔۱۱۵۱)مسلمانوں  سے یہ التماس وگزارش کرتاہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیارکرتے ہوئے اللہ کے عذاب سے ڈرے اوراپنے آپ کواللہ تعالیٰ کے غضب اورعذاب سے بچائے اورجتنی جلدی ہوسکے توبہ کرے، قبل اس کے کہ موت اُسے آجائے۔اس لیے کہ آج توعمل کیا جاسکتا ہے اورحساب وکتاب نہیں لیکن کل قیامت کے روز عمل نہیں ہوگا بلکہ صرف حساب وکتاب ہی ہوگا۔ آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ جوبھی اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اُس کی توبہ قبول کرتے ہوئے اس کے گناہ معاف کردیتا ہے۔بلکہ جوشخص بھی اللہ تعالیٰ کے قریب ایک قدم بڑھاتا ہے ،اللہ تعالی اس کے لیے دس قدم قریب ہوتا ہے۔ اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ رحمٰن ورحیم ہے۔اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا فرمان ہے:’’کیا انہیں یہ علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اوروہی صدقات قبول فرماتا ہے، اوریہ کہ اللہ تعالیٰ ہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے‘‘۔( التوبۃ۔104)اوراگر آپ نے روزہ رکھنے کا تجربہ کیا ہو،اوراس میں جوآسانی، انس وراحت اوراللہ تعالیٰ کا قرب وغیرہ ہے، کوجان لیں تو آپ روزہ کو کبھی بھی ترک نہ کریںاورپھر آپ اللہ تعالیٰ کے مندرجہ ذیل فرمان میں غوروفکر اورتامل توکریں کہ اللہ تعالیٰ نے روزوں کی آیات ختم کرتے ہوئے فرمایا ہے:’’اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ آسانی کرنا چاہتا ہے نہ کہ سختی ‘‘۔اورپھر یہ فرمایا:’’تا کہ تم اللہ تعالی کا شکر ادا کرو‘‘۔ اس میں غور کریں توآپ کویہ ادراک ہوگا کہ روزہ ایک ایسی نعمت ہے ،جس کا شکرادا کرنا ضروری ہے۔ اسی لیے سلف صالحین میں سے ایک گروہ تویہ تمنا کیا کرتے تھے کہ سارا سال ہی رمضان ہونا چاہیے۔ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ وہ تمام مسلمانوں کو توفیق عطا فرمائے اورصراط مسقیم کی ہدایت نصیب کرے اوراُمت ِ مسلمہ کے سینوں کودنیا وآخرت کی سعادت والے کاموں کے لیے کھول دے۔آمین

موبائیل نمبر9380679429

[email protected]