رمضان المبارک کا مقصد بالذات !

اللہ تبارک و تعالی اپنے بندوں پر شفیق و مہربان خالق ہیں جو اپنے مخلوق پر رحم و کرم کی عنایتیں فرما کر خوابیدہ بندوں کی خاطر Purification تزکیہ نفس کی تمام راستے کھولتے رہتے ہیں۔ ماہ رمضان ہمارے اوپر سائے افغن ہے، رمضان میں روزہ رکھنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ وہ انسان کے لئے گزرے ہوئے گیارہ مہینوں کی غفلت شِعاری کا رمائنڑر  اور اگلے مہینوں کے لئے باعث نجات ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کی خاطر رجب و شعبان کےمہینوں میں استقبال رمضان اور اس کی خیر و برکت کی امیدوں کی خاطر خواہ کثرت سے دعائيں کیا کرتے تھے ۔ ماہ رمضان المبارک ہم کو کیا دینا چاہتا ہے اور کیوں دینا چاہتا ہے ۔ اس سوال کے جواب کے لئے نہ کسی انسانی تفسیر و تفصيل کی نہ ہی کسی شرح توضع کی ضرورت ہے ،اس کا جواب ایک نص حدیث میں مختصر الفاظ میں مروی ہے اور معنوی اعتبار سے ایک جامع حدیث ہے، اس حدیث میں رسول اللہ صلی علیہ وسلم کا ایک خطبہ مبارک نقل کیا گیا ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتےہیں کہ ماہ شعبان کے آخری روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا کہ اے لوگو تحقیق عظمت اور برکت والے مہینے نے تم پر سایہ ڈالا ہے، اس مہینے میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں کی عبادت سے بھی زیادہ افضل ہے ،اللہ تعالی نے اس مہینے کے روزے فرض قرار دئيے ہیں اور اس کی رات کی نماز کو نفل ٹھہرایا ہے۔ اس مہینے میں جو شخص ایک اچھی عادت یا نفلی عبادت اور نیکی کے ذریعے سے اللہ تعالی کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کی اللہ تعالی کے ہاں وہ حیثیت ہوگی جو رمضان شریف کے سوا ایک فرض ادا کرنے کی ہوتی ہے اور جس نے اس ماہ میں ایک فریضہ ادا کیا، اس نے یوں سمجھیے کہ ستر فریضے ادا کئے ۔ یہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے ۔ یہ مہینہ ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی اور محبت کرنے کا مہینہ ہے ، اس میں مومن کی روزی بڑھا دی جاتی ہے ۔ جس شخص نے روزہ دار کا روزہ افطار کرایا تو یہ عمل اس کے گناہوں کی معافی اور دوزخ سے نجات دلانے کا ذریعہ بن جائے گا اور روزہ دار کے اجر میں کمی کئے بغیر اس کے برابر افطار کرانے والے کو ثواب ملے گا ۔ہم نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں سے ہر ایک تو اس حیثیت میں نہيں ہوتا کہ روزہ دار کو روزہ افطار کراسکے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ اللہ تعالی یہ ثواب اس شخص کو بھی عنایت کرے گا جس نے ایک گھونٹ پانی یا ایک گھونٹ دودھ یا ایک خشک کھجور سے کسی کا روزہ افطار کرایا ۔ اور جس شخص نے کسی روزہ دار کو سیر کرکے پلایا تو اس کو اللہ تعالی میرے حوضِ کوثر سے اس طرح پلائے گا کہ پھر جنت میں داخل ہونے تک اس کو پیاس محسوس نہ ہوگی ۔ یہ ایک ایسا مہینہ ہے کہ اس کا پہلا حِصہ رحمت کا درمیانہ بخشش و مغفرت کا اور آخری دوزخ سے آزادی کا ہے اور جو شخص اس مبارک ماہ میں اپنے ماتحت غلام مزدور اور ملازمين وغيرہ سے تخفیف کرے گا ۔ اللہ تعالی اسے جہنم کی آگ سے نجات دے گا ۔( صحیح ابن خزیمہ)
 خلاصہ کلام ۔اس حدیث میں ماہ رمضان کے تمام اندرونی احوال و اطوار اور کل کیفیت کی ترجمانی کی گئی ہے یہ تفصیلی خطبہ رمضان المبارک کا بہترین منشور ہے، جس سے اس ماہ کی قدرِ قیمت کا بآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس حدیث کو بار بار پڑھیں اور اس کی مطابق اپنے اندر عمل کا جذبہ پیدا کرکے رمضان کی برکتوں کو زیادہ سے زیادہ سمیٹنے کی کوشش کریں ۔ اللہ تعالی نے روزے کے اغراض و مقاصد، تقویٰ کی شرط پر رکھی ہے ۔ فرمایا، اے ایمان والوں فرض کیا گیا تم پر روزہ جیسے فرض کیا گیا تھا تم سے اگلوں پر، تاکہ تم پرہيز گار ہوجاؤ ۔ مذکورہ شرط کے وہیں لوگ پاسکتے ہیں جو رمضان المبارک کے مہینے کو اس طرح پائے کہ وہ اس کے لیے غیر مقرر روزے داری کی تربیت کا مہینہ بن جائے ،وہی وہ انسان ہے جس نے رمضان کو حقیقی معنوں میں پایا اور وہی وہ انسان ہے جس کو ریّان کے دروازے سے جنت میں داخلے کی سعادت نصيب ہوگی۔
( اومپورہ ہوسنگ کالونی بڈگام
رابطہ۔9906736886