رقص کرنا ہے تو پھر پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ

 دنیا میں ان گنت مخلوقات ہیں، ان میں ایک مخلوق انسان ہے، جو سب مخلوقات سے اعلیٰ و افضل ہےاور سب مخلوقات سے بڑھ کر حسین و جمیل ہے۔انسانی ضروریات کی تکمیل کے لئے دنیا میں بہت ساری چیزیں موجود ہیں، ان میں سے بعض چیزیں انسانوں کے لیے فائدہ مند ہیں اور بعض چیزیں ان کے لیے نقصان دہ ہیں،کون سی چیز استعمال میں لانی ہے، اور کن چیزوں سے پرہیز کرنا ہے یہ فیصلہ انسان کی فطرت سلیمہ کرتی ہے۔عام طور سے ہر انسان کسی نہ کسی مذہب و معاشرے سے جڑا ہوا ہے،مذہبی و اخلاقی طور سے جو چیزیں فائدہ مند ہیں وہی کرنی چاہیے تاکہ ان کے ذریعہ ہر انسان کی فلاح و بہبود ہو،ہر انسان کی فکر یہی ہونی چاہیے کہ کسی عمل کی بجا آوری سے پہلے وہ یہ ضرور سوچے کہ اس کے مذہبی اور دنیاوی فائدے کے پیچھے وہ عمل کسی دوسرے انسانوں کے لئے ضرر رسانی کا باعث نہ بنے۔ لیکن انسان اکثر اپنے دینی و دنیاوی منفعت سے قطع نظر وہ کام کر جاتا ہے جس میں لوگوں کی خوشی و ناراضگی شامل حال ہوتی ہے اور اس کو یہ فکر لاحق ہوتی ہے کہ لوگ کیا کہیں گے؟ اس کے بارے میں کیا سوچیں گے؟ حالانکہ ان جملوں کے پردے میں ریاکاری اور جھوٹی شان پوشیدہ ہوتی ہے۔انسان اپنے ضمیر و قلب کے خلاف دوسرے لوگوں کے افکار پر منحصر ہوتا ہے،اس کی اپنی کوئی شناخت باقی نہیں رہ جاتی ہے، وہ صرف دوسروں کا دست نگر ہوتا ہے، لوگوں کی نظروں میں اچھا بننے کے چکر میں اس کی حیثیت دو ٹکے کی رہ جاتی ہےاور سب سے بڑی چیز یہ کہ اس کو خود اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ وہ کیا کر رہا ہے؟ اس کام میں اس کے کیا فائدے ہیں؟ ان کاموں کے نتیجے میں کیا اثرات مرتب ہوں گے ؟ سب اسے معلوم ہوتا ہے لیکن وہ کیا کرے" نہ جائے رفتن نہ جائے ماندن" والی اس کی حالت ہو جاتی ہے،بالآخر وہ محض خود سرائی کا خوگر ہو جاتا ہےاور حقیقت حال سے نظریں چراتا ہے،حقیقت کا سامنا کرنے کے لیے اس کے اندر ذرا سی بھی طاقت نہیں رہتی ہے۔ ایک انسان جس کی زندگی غیر معتدل روش پر گزر رہی ہو، دینی و دنیاوی کاموں میں بے راہ روی کا شکار ہو، اس کے دل میں اگر اپنی روش کو راہ راست پر لانے کا جذبہ ابھرتا ہے تو اس کی راہ میں بہت ساری مشکلات اور رکاوٹیں آتی ہیں۔سب سے بڑی رکاوٹ یہی ہوتی ہے کہ اگر میں نے اپنی ساری پرانی عادتیں چھوڑ دی تو پھر لوگ کیا کہیں گے؟ اور میرے دوست میرے بارے میں کیا سوچیں گے؟ 
      جب کبھی آپسی رشتوں میں دو بھائیوں کے درمیان، دو خاندان کے درمیان، باپ اور بیٹے کے درمیان یا کسی بھی دو انسانوں کے درمیان رنجشیں پیدا ہو جاتی ہیں، تو یہ رنجشیں کافی دنوں تک رہتی ہیں،حالانکہ لڑائی کے چند گھنٹے یا چند دنوں کے بعد جس کی بھی غلطی ہو، اس کو احساس ہو جاتا ہے، لیکن آپسی تعلقات استوار نہیں ہو پاتے ۔اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ وہ یہ سوچتا ہے کہ اگر ہم تعلقات بہتر بنانے میں پہل کریں تو سامنے والا کیا سوچے گا؟ ہماری کیا عزت رہ جائے گی؟ جبکہ یہ بات عقل سے بالکل پرے ہے کہ رشتوں میں پہل کرنے یا معافی مانگ لینے سے ایک دوسرے کی نظر میں عزت کم ہو جاتی ہےبلکہ حقیقت یہ ہے کہ معافی مانگ لینے سے اور وہ معافی جو حق بجانب ہو ،عزت و وقار کا سبب ہوتی ہے اور ایک دوسرے کے تئیں جذبہ وفاداری میں خاطر خواہ اضافہ ہوتا ہے۔
      رشتوں میں دوری اور عدم سمجھوتہ کی دوسری وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ معاشرے میں ہماری ناک اونچی رہے، بھلے ہی جھوٹی شان کی وجہ سے اپنوں کی زندگیوں میں تلخیاں برقرار رہےاور طرفین کی کش مکش کی وجہ سے ایک تیسرے کی زندگی اجیرن بنی رہے،دل پر لگنے والی بات یہ ہے کہ کسی کی بھی زندگی کے یہ عرصے جو نفرت و کدورت کی آگ میں  گزر جاتے ہیں،کون لوٹائے گا؟ اپنی جھوٹی آن بان شان کے چکر میں اپنوں کی زندگی سے خوشیاں چھین لینا کہاں کی دانشمندی ہے؟ 
    لمبی مدتوں سے لوگوں کے درمیان ناراضگی ہوتی ہے۔ایک دوسرے کی نظر میں کانٹے بنے رہتے ہیں، ایک دوسرے کی صورت تک دیکھنا گوارا نہیں کرتے ہیںلیکن جب ایک فریق کے کسی فرد کی موت ہو جاتی ہے تو ساری رنجشیں بھول کر دونوں فریق مل جاتے ہیںاور ساری نفرتیں اور دل آزاریاں الفت و محبت میں تبدیل ہو جاتی ہیں، یہ اچھی بات ہے لیکن یہاں رک کر میں کہنا چاہتا ہوں کہ ہمارے رشتے کتنے کمزور ہوتے ہیں کہ اسی وقت استوار ہوتے ہیں جب کسی کی موت ہو جائے، اس سے پہلے ہمارا ضمیر یہ فیصلہ کیوں نہیں کرتا اور اس بات کو گوارا کیوں نہیں کرتا کہ سب لوگ مل جل کر آپسی اتحاد کے ساتھ رہیں،آپس میں شیر و شکر ہو کر رہیں۔
     موجودہ وقت میں اگر اس کی تازہ مثال دیکھنا چاہیں تو حکومت کا رویہ دیکھ لیں، جو ابھی کچھ دنوں پہلے مرکزی حکومت کا فیصلہ ہوا کہ تینوں نئے زرعی قوانین کو واپس لے لیا جائے۔جن کی واپسی کے لئے مرکزی حکومت کے خلاف ملک کے مختلف مقامات پر لاکھوں کسان تقریبا ایک سال سے احتجاج کر رہے تھے، کسانوں کی تحریک کو کچلنے کے لیے حکومتی کارندے اور بعض میڈیا چینلوں نے طرح طرح کے الزامات لگائےلیکن کسانوں حوصلے اور عزم و استقلال کے ساتھ میدان احتجاج میں حکومت کے خلاف ڈٹے رہے، تقریباً سات سو کسانوں نے اس راہ میں اپنی جانیں قربان کردی اور حکومت کی ہر مخالفت کا خندہ پیشانی سے استقبال کیا،بالآخر کسانوں کی محنت اور قربانیاں رنگ لائیں،  اور حکومت کو اپنے فیصلے واپس لینے پڑے۔پہلے بھی آپسی مشورے اور دوطرفہ بات چیت سے اس کا حل نکالا جاسکتا تھا،لیکن حکومت اپنی انّا میں چور تھی اور اُسے یہ تشویش بھی لاحق تھی کہ اگر فیصلے واپس لے لیے جائیں تو لوگ کیا کہیں گے؟ اور ہماری کیا عزت رہ جائے گی؟ یہ فکر کہ "لوگ کیا کہیں گے" زیادہ تر اُسی وقت ہوتی ہے، جب انسان دینی و دنیاوی اچھے کام کرنا چاہتا ہے،لیکن جب انسان بُرے کام کا ارادہ کرتا ہے تو پھر اس فکر سے بے پرواہ ہو جاتا ہے۔آج فیشن کے نام پر عریانیت کی طرف دنیا والوں کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے، عزت دار گھرانوں کی لڑکیاں سوشل میڈیا پر اپنے جسموں کی نمائش کر کے فخر محسوس کررہی ہیں اور اسی کو ترقی کا نام دیا جا رہا ہے، روز بروز اخلاقی قدریں زوال پذیر ہوتی جا رہی ہیں، مذہب و ملت کے نام پر انسانیت کے معیار کو گرایا جا رہا ہے، وہ ملک و قوم جو انسانیت کے علمبردار ہیں، وہی انسانیت سوز مظالم کا ارتکاب کر رہے ہیں، چوری و ڈاکہ زنی کے واقعات عام ہوتے جارہے ہیں، حکام سے لیکر عوام تک سارے لوگ کذب بیانی میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کررہے ہیں، بڑے بڑے وعدے کر کے ان کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، معاشرے میں رشوت خوری کا دور دورہ ہے. یہ ساری برائیاں کرتے ہوئے کسی کو خیال نہیں آتا کہ لوگ کیا کہیں گے؟ اور ہمارے بارے میں کیا سوچیں گے؟
   اخیر میں کہنا چاہتا ہوں کہ یہ فکر اگر اس وقت ذہن میں آئے، جب ہم فحاشی کا ارتکاب کر رہے ہوں، اور وہ کام انجام دے رہے ہوں جو ہمارے دین و دنیا دونوں کے لیے نقصان کا باعث ہوں تو یہ فکر اچھی ہے،لیکن اگر دینی و دنیاوی فائدے کے وقت یہ فکر رکاوٹ ڈالے تو پھر سراسر تباہی اور خسارہ ہے۔میں اپنی بات اس شعر پر ختم کرتا ہوں کہ 
  دیکھ زنداں سے پرے رنگ چمن جوش بہار 
   رقص کرنا ہے تو پھر پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ