رفیع آباد اور کیلر شوپیان میں تصادم آرائیاں، بیروہ میں حملہ،4جنگجو ، جے سی او ہلاک

سوپور+شوپیان+بڈگام //رفیع آباد بارہمولہ میںجیش محمد کا چیف آپریشنل کمانڈر اور کیلر شوپیان میں حزب کے سرگرم جنگجو 2ساتھیوں سمیت جاں بحق ہوئے۔اس دوران کھاگ بڈگام میں فوج کی گشتی پارٹی پر جنگجوئوں  نے گھات لگا کر حملہ کیا جس میں جونیئر کمیشنڈ آفیسر (جے سی او)مارا گیا۔کیلر میں مظاہرین اور فورسز کے درمیان شدید جھڑپیں بھی ہوئں جس کے دوران کئی افراد زخمی ہوئے۔رفیع آباد کے لڈورہ نامی گائوں میں پیر کی دوپہر ساڑھے 12 بجے فورسز اور جنگجوئوں کے درمیان اچانک گولیوں کا تبادلہ ہوا۔ پولیس نے بتایا کہ ایک سرکردہ جنگجو کمانڈر کی نقل و حرکت کے بارے میں مصدقہ اطلاع موصول ہونے کے بعد پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ ، فوج کی32 راشٹریہ رائفلز اور سی آر پی ایف92,177اور179بٹالین سے وابستہ اہلکاروں نے لڈورہ کے قریب واوری محلہ میں ناکہ بٹھایا۔اس پوری کارروائی کی قیادت عام کپڑوں میں ملبوس پولیس کے نصف درجن افسران پر مشتمل ایک خفیہ دستے نے کی ۔پولیس کے مطابق اس دوران علاقے میں قائم ایک سرکاری اسکول کے نزدیک ایک مشتبہ جنگجو کو رُکنے کا اشارہ کیا گیا جس نے فورسز کو دیکھتے ہی پہلے گرینیڈ داغا جو پھٹنے سے رہ گیااور پھرپستول سے فائرنگ شروع کی جبکہ فورسز نے بھی بغیر کسی تاخیر کے جوابی کارروائی عمل میں لائی۔طرفین کے درمیان گولیوں کا مختصر تبادلہ ہوا جس دوران جنگجو زخمی ہوگیا اور اس نے زخمی حالت میں ہی اسکول سے500میٹر دور ایک رہائشی مکان میں پناہ لی۔ کچھ دیر بعد جنگجو کو اسی مکان کی دوسری منزل پرمردہ پایا گیا۔طرفین کے مابین گولیوں کا تبادلہ صرف4منٹ تک جاری رہا، تاہم اس دوران فورسز کو کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچا۔پولیس کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے کے بعد مذکورہ جنگجو جسم سے بھاری مقدار میں خون بہہ جانے کی وجہ سے دم توڑ بیٹھا۔مارے گئے جنگجو کی شناخت عمر خالد عرف خالد بھائی ساکن پاکستان کے بطور کی گئی ہے جو پولیس کے مطابق جیش محمد نامی جنگجو تنظیم کا چیف آپریشنل کمانڈر تھا۔پولیس کا کہنا ہے کہ خالد A++زمرے کا جنگجو اور حفاظتی اداروں کو ایک طویل عرصے سے انتہائی مطلوب تھاجبکہ اس کے سر پر7لاکھ روپے کا انعام بھی رکھاگیا تھا۔پولیس کے مطابق مذکورہ جنگجو ہلاکتوں اور سیکورٹی فورسز پر حملوں کے کئی واقعات میں ملوث تھا اور جنگجوئوں کو شمالی کشمیر سے جنوبی کشمیر بھیجنے میں بھی کلیدی کرداد اداکرتا تھا۔ جھڑپ کے بعد ایس پی سوپور ہرمیت سنگھ مہتانے نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو کے دوران کہا کہ خالد بھائی گزشتہ سات برسوں سے شمالی کشمیر میں سرگرم تھا اور کئی بار فورسز کے محاصرے سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوا تھا ۔ان کا کہنا تھا کہ خالد کے بارے میں مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد ڈی ایس پی آپریشنز کی قیادت میں نصف درجن افسران پر مشتمل پولیس کے ایک خفیہ دستے نے اسکول کے نزدیک اسے چیلنج کیا جس کے بعد گولیوں کا مختصر تبادلہ ہوا اور خالد ایک مکان میں داخل ہوا جہاں اسے ہلاک کردیا گیا۔انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیر زون منیر احمد خان نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ وادی میں حالیہ فدائین حملوں کے پیچھے خالد کا دماغ تھا۔ادھر شاہد ٹاک کے مطابق ضلع شوپیان میں جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے مابین مسلح تصادم  میں3 جنگجو مارے گیا۔پولیس نے بتایا کہ شوپیان کے کیلر بتھی پورہ گائوں میں جنگجوؤں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاع ملنے پر سیکورٹی فورسز اور جموں وکشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی) سے وابستہ اہلکاروں نے پیر کی سہ پہر تلاشی آپریشن شروع کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب سیکورٹی فورسز کے اہلکار علی محمد لون کے 2منزلہ مکان کے نزدیک پہنچ گئے تو وہاں موجود جنگجوؤں نے ان پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔ فورسز نے جوابی فائرنگ کی جس کے بعد طرفین کے مابین باضابطہ طور پر مسلح تصادم کا آغاز ہوا۔تصادم میں 3 جنگجومارے گئے جنکی شناخت زاہد احمدمیر ولد شمیم احمد عرف عبیدساکن گنا پورہ شوپیان ،آصف کھانڈے کاٹھو ہالن شو پیان  اور عرفان عبداللہ ساکن ہف شرمال کے بطور کی گئی۔ زاہد میر 22جولائی 2015سے سرگرم تھا اور فورسز کو انتہائی مطلوب تھا۔جبکہ آصف کھانڈے نامی نوجوان نے صرف ماہ قبل ہتھیار اٹھائے تھے۔ جونہی گائوں میں جھڑپ شروع ہوئی تو مقامی اور آس پاس دیہات کے لوگوں نے آپریشن میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کے دوران شدید پتھرائو کیا جنہیں منتشر کرنے کیلئے شلنگ کی گئی اور پیلٹ استعمال کئے گئے۔جھڑپوں کا سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا جس کے دوران درجنوں افراد مضروب ہوئے۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بٹھ پورہ کے واحد راستے کو سیل کیا گیا تھا اور زخمیوں کو اسپتال لیجانے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔اس دوران بڈگام ضلع کے کھاگ بیروہ علاقے میں اتوار نصف شب کے فوراً بعد فوج کی53آر آر سے وابستہ اہلکاروں نے درنگ نامی گائوں میں تلاشی کارروائی شروع کی جہاں انہیں جنگجوئوں کی موجودگی کے بارے میں خفیہ اطلاع موصول ہوئی تھی۔ابھی علاقے کو گھیرے میں ہی لیا جارہا تھا کہ گھات میں بیٹھے جنگجوئوں نے فوج پر شدید فائرنگ کی۔اس واقعہ میں53آر آر سے وابستہ جونیئر کمیشنڈ آفیسر(صوبیدار) راج کمار بری طرح زخمی ہوا۔اسے فوری طور پر جے وی سی  بمنہ سرینگر منتقل کیا گیا تاہم ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دیا۔معلوم ہوا ہے کہ ایک گولی مذکورہ جے سی او کی ران میں پیوست ہوگئی تھی اور اسپتال منتقل کئے جانے کے دوران اسکے جسم سے خون کی کافی مقدار بہہ گئی جس کے سبب اسکی موت واقع ہوئی۔