رعناواری اسپتال کے قرنطینہ میں داخل 26 افراد

سرینگر //جواہر لال نہرو میموریل اسپتال رعنا واری میں جمعہ کو کورونا وائرس میں مبتلا ہوئے 4افراد کے بمنہ اور چھتہ بل سے تعلق رکھنے والے  26رشتہ داروں نے قرنطینہ میں سہولیات کے فقدان کے خلاف احتجاج کیا اور اسپتال میں توڑ پھوڑی کی۔انہوں نے بھاگنے کی کوشش کی جو پولیس نے ناکام بنادی۔اس سلسلے میں پولیس نے کیس رجسٹر کر کے تحقیقات شروع کردی ہے۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ چند افراد قرنطینہ وارڈ سے فرار ہونے میں بھی کامیاب ہوئے لیکن پولیس انہیں واپس لانے میں کامیاب رہی ۔سرینگر کے چھتہ بل اور بمنہ سے تعلق رکھنے والے 4کورونا وائرس مریضوں کے اہلخانہ نے اسپتال میںسنیچر کی صبح اسوقت ہنگامہ کیا جب معیاری غذا اور دیگر بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے خلاف وہ احتجاج کررہے تھے۔ قرنطینہ میں رکھے گئے ایک نوجوان نے بتایا ’’یہاں کھانہ معیاری نہیں دیا جاتا اور وقت پر بھی نہیں دیا جاتا‘‘۔نوجوان نے بتایا ’’ صبح کی چائے دن کے 11بجے دی گئی، جو پینے کے لائق بھی نہیں تھی‘‘۔مذکورہ نے بتایا ’’  انہیں دیکھنے کیلئے کوئی ڈاکٹر آیا نہ طبی عملہ میں سے کسی نے رخ کیا‘‘۔واضح رہے کہ جمعہ کو کورونا وائرس کے چار مریضوں کے اہلخانہ کے 26افراد کو اسپتال میں نگرانی کیلئے لایا گیا جن میں 14خواتین اور 12مرد شامل ہیں لیکن صبح سویرے اسپتال میں سہولیات کی عدم دستیابی کے خلاف احتجاج کے دوران کئی افراد نے گھر واپس جانے کی کوشش کی تاہم پولیس نے انکی یہ کوشش ناکام بنا دی۔ میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر شاکر احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’چھتہ بال اور بمنہ سے قرنطینہ کیلئے لائے گئے چند لوگوں نے اسپتال کے اندر ہنگامہ شروع کیا اور بھاگنے کی کوشش کی لیکن پولیس ان تمام لوگوں کو واپس لے آئی ‘‘۔پولیس اسٹیشن رعنا واری کے ایس ایچ او راشد خان نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’قرنطینہ وارڈ میں داخل افراد نے معیاری غذا اور دیگر سہولیات کے فقدان کے خلاف احتجاج کیا اور اسپتال میں تو ڑ پھوڑ کرکے باہر آنے کی کوشش کی لیکن پولیس اور ضلع انتظامیہ کی بروقت کارروائی کی وجہ سے سب لوگوں کو سمجھا کر واپس اسپتال بھیج دیا گیا‘‘۔راشد خان نے بتایا ’’ پولیس نے اس معاملہ کی تحقیقات کا سلسلہ شروع کردیا ہے ‘‘۔
 
 

غیرحاضر ڈاکٹر نوکری سے برطرف

پرویز احمد
 
 سرینگر // جواہر لال نہرومیموریل اسپتال رعناواری میں ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے کی پاداش میں ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز ڈاکٹر سمیر احمد متو نے عارضی بنیاد پر کام کرنے والی خاتون ڈاکٹر کونوکری سے برطرف جبکہ ایک اور ڈاکٹر کو معطل کردیا ۔ جمعہ اور سنیچر کی درمیانی رات کو رعناواری اسپتال میں قرنطینہ میں رکھے گئے افراد نے اسپتال میں ڈاکٹروں کی عدم موجودگی اور معیاری غذا نہ ملنے کے خلاف احتجاج کیا جس نے سنیچر کی صبح سنگین رخ اختیار کیا ۔ ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کشمیر ڈاکٹر سمیر احمد متو نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ عارضی بنیادوں پر کام کرنے والی خاتون مائکروبایئولوجسٹ کو نوکری سے برطرف کردیا گیا ہے جبکہ قرنطینہ میں داخل افراد کی نگہداشت کیلئے تعینات ایک اور ڈاکٹر کو معطل کردیا گیا۔