رضائے الٰہی کے طلبگارزر پرستوں کی بھیڑ میں!

اس زندگی کے حق سے ناواقف کاروں بلکہ مُنکرین ِ حق کے جمائوڑے میں رہتے ہوئے اُن غُرباء پر آفرین ہے جو اپنی زندگی کی گاڑی کو اُن غافلین اور خرمستوں کے درمیان پوری سلامت روی کے ساتھ چلارہے ہیں جن کے ارد گرد باطل کا ڈیرہ جما ہوتا ہے ۔غفلت شعار لوگوں میں رہتے ہوئے اللہ کے دین پر عمل کرانا ،بد اعمالیوں کے شکار لوگوں کے درمیان نیک بختی کی زندگی گذارنا بڑے دل گردے کا کام ہے۔ہر غریب میں عزت و ناموس اور خود احتسابی کا جو وجود پایا جاتا ہے،یہی شعور اور وجود کسی باڑھ کی طرح اُس غریب کی جاہلوں کے غرور و انتقام سے حفاظت کرتا ہے اور وہ راستے کی رُکاوٹوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے منزل کی طرف آگے بڑھتا ہی رہتا ہے،ایسے ماحول میں اُس شخص کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے جو اصلاح حال کرنا چاہتا ہو اور کجی کو درست کرنا چاہتا ہو اور ایسے شخص کے ہمت و قوت کا بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے جو دین سے غافل زَر پرستوں کی بھیڑ میں صرف اللہ کی خوشنودی کا طلب گار ہو ،دراصل یہی وہ غرباء ہیں جن کے بارے میں اللہ کے رسولؐ نے فرمایا:
’’اسلام اجنبی پیدا ہوا ہے اور پھر اجنبی رہ جانے کا پہلے کی طرح ،خوشخبری ہو، لوگوں نے پوچھا ،اے اللہ کے رسول ؐاجنبی کون ہیں؟ تو آپ ؐ نے فرمایا :’’وہ نیک بنے رہتے ہیں جب لوگ خراب ہوجائیں‘‘۔ایک اور حدیث میں آپؐ نے غرباء کے متعلق فرمایا:’’جو میری سنت کو زندہ رکھیں گے اور لوگوں کو سِکھائیں گے۔‘‘
ان روایتوں کے مطابق غرباء کی جو واضح تصویر اُبھرتی ہے اُس کا مطلب ہے جن کے دِلوں میں ایمان کی حرارت ہوتی ہے اور راہِ خدا میں نہ تو اُنہیں لوگوں کے بدکنے کی پرواہ ہوتی ہے اور نہ ہی ارباب اقتدار کی تیوریوں پر بَل پڑنے کی فکر،وہ رنج اور مصائب و مشکلات کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہیں اور اُن کے پائے استقامت میں ذرا بھی لرزش نہیں ہوتی۔اجتماعیت پسندی اور لوگوں سے میل جول انسان کی فطرت میں شامل ہے لیکن جب کم ظرفوں سے اُس کا پالا پڑتا ہے تو اُس کی یہ اُنسیت و حشت میں بدل جاتی ہے،ایسے حالات میں وہ اُن بے عمل اور کم ظرف لوگوں کے بجائے اپنی لَو خدا سے لگا لیتا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ ہی اُس کی تنہائی کا ساتھی اور بے کسی کا غم خوار بن جاتا ہے اور وہ عوام کی ہوس رانیوں اور خواص کی چیرہ دستیوں سے نجات حاصل کرلیتا ہے۔یہی نہیں وہ اپنے عادات و اطوار سُنت ِ رسول ؐ کے مطابق ڈھال لیتا ہے جس کی بدولت اُسے بے پناہ اطمینان حاصل ہوتا ہے اور پھر اُسے نہ تو اپنی تنہائی کا غم ہوتا ہے اور نہ اپنی بے چارگی کا احساس۔
ایک مردِ مومن کسی ایسی دنیا میں کس طرح سکون سے رہ سکتا ہے کہ خود تو وہ اس سے کنارہ کش ہو لیکن اس کے ارد گرد کے لوگ دنیاوی خرمستیوں کا شکار ہوں،جب وہ انہیں صراط ِمستقیم کی طرف بلاتا ہے اور اُن کے بُرے اعمال پر ٹوکتا ہے تو لوگ قیامت برپا کردیتے ہیں اور اُس کی جان کے پیچھے پڑجاتے ہیں،اس طرح وہ اجنبی ہوتا ہے۔وہ اجنبی ہوتا ہے اپنے دین میں کیونکہ دوسروں کا دین بگاڑ والا دین بن چکا ہوتا ہے،وہ اجنبی ہوتا ہے سُنت پر ثابت قدم رہنے پر کیونکہ اور لوگ بدعت زدہ ہوچکے ہوتے ہیں ،وہ اجنبی ہوتا ہے اپنی نماز میں کیونکہ دوسروں کی نماز میں فتور ہوتا ہے۔
اگرچہ اس معنوی غربت کی وجہ سے وہ دیگر لوگوں سے ممتاز اور عالی مرتبہ ہوتا ہے لیکن بسا اوقات یہ غربت معنوی اور ظاہری دونوں اعتبار سے نمایاں ہوجاتی ہے۔ان عالی مرتبہ اور بلند ہمت لوگوں کی نظریں دور دراز کی دنیا پر ہوتی ہیں ،وہ ساری دنیا کی سیر کرتے ہیں اور صرف اُسی جگہ ٹھہرتے ہیں اور اتنی دیر پڑائو ڈالتے ہیں جتنی دیر میں وہ اپنے مشن کو پورا کرلیں۔اسی لئے ہجرت اور سفر کو ہرزمانے میں نیکی اور فضل و کمال کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے ۔غربت میں انسان چونکہ اپنے دوستوں اور ساتھیوں سے بچھڑ جاتا ہے اس لئے اعلیٰ درجہ کی غربت وہ ہوتی ہے جس میں انسان برابر آگے بڑھتا ہے،پیچھے مُڑکے بھی نہ دیکھے،یہاں تک کہ وہ اپنی شخصیت اور نشان کے ساتھ دور اُفق میں غائب ہوجائے۔اس طرح زمان و مکان کے قیود سے آزاد یہ شخص دور اُفق سے ہدایت کی ایسی شعائیں بھیجتا ہے جو لوگوں کے لئے مشعل ِ راہ بن جاتی ہیں۔
اگر ہم مسلمانوں نے اس غربت کی فضیلت کو سمجھ لیا ہوتا تو آج باقی قوموں سے کہیں پہلے دنیا بھر میں پھیل چکے ہوتے ،ویرانوں کو آباد کرتے،چھپے خزانوں کو نکالتے اور بہت سارے سر بستہ رازوں سے پردہ اٹھاتے اور پھر اسلام کے عالمی پیغام کو زمین کے کونے کونے میں پہنچاتے ،لیکن افسوس!ہم دنیا وی لذتوں اور رنگینیوں میں کھو گئے اور اپنے گھروں میں پیر جمائے بیٹھ گئے اور پھر مغلوب و مفتوح ہوکے ذلیل و خوار ہوئے ۔اس کے برعکس یورپی قومیں دنیا کے تمام کناروں اور قوموں میں پھیل گئیں اور اُن پر حکمرانی کرکے سُرخرو ہوئیں۔
رابطہ۔احمد نگر سرینگر،9697334305