رشوتیں اوربدعنوانیاں

 
 مرکز کی بھاجپا مودی سرکار اور اس کے بعد دیگر ریاستوں کی بھاجپا سرکاریں کانگریس کی رشوت ستانی اوربھرشٹاچار، غبن، سکینڈلوں، گھپلے، گھوٹالوں کے خلاف احتجاج کی علمبردار بن کر برسراقتدار آئی تھیں اور انہوںنے عوام سے وعدے کرکے یقین دہانیاں کرائی تھیں کہ وہ رشوت ستانی اور بھرشٹاچار ختم کریںگی، انہی وعدوں اور یقین دہانیوں پر اعتبار کرکے عوام نے انہیں عنان ِ حکومت سپرد کی تھی لیکن اس سلسلہ میں ان کے دورِ اقتدار میں ا س سلسلہ میں اب تک کوئی موثر اور مثبت کردار اد ا کرنے میںبھاجپا کی مرکزی اور ریاستی سرکاریں مکمل طورپر ناکام ثابت ہوئی ہیں ۔ اب ایسا دکھائی دیتاہے کہ یہ سرکاریں رشوت اور بھرشٹاچار کے خاتمہ کی بجائے کانگریس کی طرح راشی، بھرشٹاچاری اور ظالم عناصر کی پردہ پوش اور محافظ بنتی جارہی ہیں۔ اس سلسلہ میں راجستھان کی بھاجپا سرکار وسوندرا راجے کی سرکردگی میں وہ آرڈیننس قابلہ ملاحظہ ہے جس میں سرکاری حاکموں، کرم چاریوں، مجسٹریٹوں اور ججوں کے خلاف خواہ وہ ریٹائر بھی ہوچکے ہیں،کسی بھی بدعنوانی کے سلسلہ میں کوئی مقدمہ ، تحقیقات اور تفتیش بلا اجازت سرکار ممنوع قراردی گئی ہے۔اس آرڈیننس کے خلاف نہ صرف راجستھان بلکہ پورے ملک میں زبردست احتجاج ہوا اور مطالبہ کیاگیا کہ سرکار اس عوام دُشمن آرڈیننس کوواپس لے۔ غضب ناک بات ہے کہ ایسے رشوت، بھرشٹاچار اور بدعنوانی کے واقعات کے سلسلہ میں میڈیا پر بھی اشاعت کی پابندی بھی عائد کردی گئی ہے لیکن اس احتجاج اور تنقید کی کوئی پرواہ نہیں کی گئی اور ہٹ دھرمی کارویہ اختیار کیا گیاہے۔ جب اسمبلی اجلاس شروع ہو، قاعدہ کے مطابق اگر اسمبلی اس آرڈیننس کی بجائے اُسے قانون بنانے کی اجازت نہ دے تو وہ آرڈیننس خود بخود حذف ہوجاتاہے لیکن راجستھان میں بھاجپا سرکار نے عوامی احتجاج کی کوئی پرواہ نہ کرتے ہوئے اس آرڈیننس کو باقاعدہ قانون بنانے کے لئے مسودہ اسمبلی میںپیش کردیاہے۔ اسمبلی میں اس پرغور وخوض کرنے کے لئے ایک سیلیکٹ کمیٹی بنادی گئی ہے۔ عام حالات ایسی صورت حال میں آرڈیننس خود بخود ختم ہوجاتاہے ،تاہم راجستھان سرکار نے اس بحث مباحثہ کے دوران بھی اس آرڈیننس کو جاری رکھنے کافیصلہ کیاہے جوکہ سراسر روایات کی بھی خلاف ورزی ہے۔غور طلب ہے کہ مودی سرکار اور بھاجپا کی مرکزی قیادت نے بھی ریاستی بھاجپا سرکار کو اس عوام دُشمن آرڈیننس اور مسودئہ قانون کو واپس لینے کا مشورہ تک نہیںدیا۔ اس کا مطلب ہے کہ اس مسودہ قانون اور آرڈینینس کے اجراء میں درپردہ بھاجپا کی مرکزی قیادت کی بھی اعانت شامل ہے۔ کسی حاکم یاملازم کے خلاف مقدمہ تفتیش اور تحقیقات کے لئے حکومت سے اجازت حاصل کرنا بہت دشوار اور پیچیدہ ہوتا ہے ، اول تو یہ اجازت ملتی ہی نہیںہے، اگر مل بھی جائے تودرمیانی عرصہ میں بارسوخ حکام اور ملازم تمام ثبوت اور گواہیاں ضائع کردیتے ہیں جس سے شکایت کنندہ کو ہی شرمندہ اور مطعون ہونا پڑتاہے۔ سپریم کورٹ اس پیشگی اجازت کو دوبار مسترد کرچکی ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے کہاہے کہ یہ پیشگی اجازت نامہ حکام اور ملازمین کے جرائم کی محض پردہ پوشی کرتاہے اور بے ضابطہ عمل ہے۔ اس کے باوجود راجستھان سرکار کی طرف سے ایسا آرڈیننس جاری کیاگیاہے اور اب اسے باضابطہ قانون بنانے کے لئے مسودۂ قانون اسمبلی میں پیش کیاگیاہے۔ یہ فعل سپریم کورٹ کے احکامات کی بھی سراسر خلاف ورزی ہے۔ ظاہر ہے اس طرز عمل سے نہ صرف کورپٹ اور بدعنوان حکام اور ملازموں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے بلکہ یہ میڈیا کی آزادی تحریر وتقریر پر بھی زبردست حملہ ہے۔ یاد رہے مہاراشٹر کی بھاجپا سرکار بھی اسی قسم کے مسودئہ قانون کی عدالت میںمدافعت کررہی ہے۔ جموںوکشمیر میں جہاں بھاجپا کولیشن وزارت میں احتساب قانون میں یہ دفعہ موجود ہے۔ پارلیمنٹ میں بھی 2013ء مسودئہ قانون پیش کیا گیاہے جس میں انسداد رشوت ستانی قانون میں ترمیم کرکے چھ ماہ کی پیشگی اجازت کو بحال کرنا ہے۔ اس لئے بھاجپا سرکاروںکی طرف سے رشوت بھرشٹاچار اور بدعنوانیوں کی تحقیقات، تفتیش اور قوانین ایک پالیسی کا حصہ معلوم ہوتے ہیں جوکہ سراسر ناپسندیدہ بھی ہیں اور عوام دُشمنانہ بھی۔ 
انسداد رشوت ستانی اور بھرشٹاچار کے معاملات کے متعلق مرکزی سرکار اور ریاستی سرکاروں کارویہ کس قدر غیر سنجیدہ ہے، اُس کا اندازہ اوپر درج واقعات کے علاوہ اس امر سے لگایاجاسکتاہے کہ سال 1912-14میں کانگریس سرکار کے گھپلوں ، گھوٹالوں، سکینڈلوں اور بدعنوانیوں کے خلاف ملک بھرمیں زبردست  آندولن ہواجس کی کمان ہاتھ میں لے کر نریندرمودی برسر اقتدار آئے۔ اس وقت کانگریس سرکار کو لوک پال کی منظوری دینی پڑی لیکن نریندرمودی کی سرکردگی میں بھاجپاکوبرسراقتدار آئے تین سال سے زائد عرصہ گزر چکاہے پھر بھی ابھی تک لوک پال قانون نافذ العمل نہیںکیاگیا۔ بہانہ یہ بنایاگیا کہ لوک پال کی تعیناتی کے لئے جو ادارہ بنایاگیاہے ، اس میں ایک ممبر پارلیمنٹ میں لیڈ ر آف دی اپوزیشن کا ہونا قراردیاگیاہے، چونکہ اس وقت کوئی باقاعدہ تسلیم شدہ اپوزیشن پارٹی لیڈر موجودنہیں ، اس لئے اس کے نفاذ میںدقت ہے۔ حالانکہ سپریم کورٹ نے رولنگ دی ہے کہ اس معاملے میں سب سے بڑی پارٹی کے لیڈر کو نامزد کیا جاسکتاہے اور ضروری ہو توپارلیمنٹ میں ترمیم منظور کرکے اس کمی کوپورا کیا جاسکتالیکن اس کے باوجود لوک پال کی تقرری معرض التواء میں پڑی ہوئی ہے۔ ظاہر ہے یوں بھاجپا سرکار انسداد رشوت ستانی اور بھرشٹاچار میں سنجیدہ نہیںہے۔ 
بھاجپا نے اپنا ایک خانہ ساز طریقہ کار بنایاہے کہ اس کے کسی لیڈر یا وزیر وحاکم پر غبن بھرشٹاچار کا الزام لگے تو عدالت میں ان الزامات کی تحقیقات اور تفتیش کے بجائے اُسے پارٹی کی اعلیٰ کمان کلین چٹ دے کر بری الذمہ قراردے دیتی ہے۔ یہ ایک انوکھا اور عجیب وغریب گورکھ دھندا ہے۔ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے خود نریندرمودی پر کئی کمپنیوں سے غیر قانونی رقم وصولیوں کے الزام عائد کئے لیکن کسی عدالت سے فیصلہ لینے کی بجائے بھاجپا نے کلین چٹ دے کر خود ہی یہ معاملہ رفع دفع کردیا۔ دہلی کے وزیراعلیٰ کیچریوال نے وزیرخزانہ جیتلی پر الزامات لگائے ، اُن کو کلین چٹ دینے کے علاوہ جیٹلی نے دہلی کی وزیراعلیٰ پر ہتک عزت کا دعویٰ کرکے معاملہ الم غلم کیا۔ بھاجپا کے صدر امت شاہ کے بیٹے پر تین سال کی مدت میں بے شمار دولت جمع کرنے کے الزامات عائد ہوئے تو بھاجپا نے کلین چٹ دے کر خود ہی معاملہ رفع دفع کردیا ، ساتھ ہی اس کاانکشاف کرنے والے اخبار پر ہی ہتک عزت کادعویٰ کرکے راحت حاصل کرلی۔ فیض احمد فیضؔ کا شعر برمحل ہے    ؎
تم ہی مجرم، تم ہی مخبراورتم ہی منصف ٹھہرے
میرے اقرباء کریں کس سے انصاف کادعویٰ
ان تمام حقائق سے اَزبر ہوتا ہے کہ بھارتیہ جنتاپارٹی کی قیادت اُسی راستہ پر گامزن ہوگئی ہے جس راستہ پر کانگریس پارٹی تھی، لیکن اسے یاد رکھناچاہیے کہ اسنحوست آمیز طریقہ کار سے اگر کانگریس کو زوال آیا تو بھاجپا کیوں نہ ا سی جیسے حشر سے دوچار ہو۔ بہت سے سیاسی مبصرین کا اندازہ ہے صرف ہندوتو اور فرقہ وارانہ جذبات برانگیختہ کرکے بھاجپا کی مرکزی سرکار اور ریاستی سرکاریں عوام کی توجہ بدعنوانیوں کے حوالے سے اس پارٹی کی کوتاہیوں یا عوام مخالف پالیسیوں سے ہٹانے میںحتمی طورپر کامیاب نہیں ہوسکتیں۔ وقتی طورپر اس طریقہ کار سے ممکن ہے کہ اُسے کچھ اقتدار کا مزامزید کچھ عرصہ اٹھانے کا موقع مل جائے مگر یہ ہمیشہ نہیں چلے گا۔اندریں حالات اگرعوام دُشمن اقدامات کے خلاف جنتا کی سطح پر زوردار آواز بلند نہ ہوں تو عام لوگوں کے لالے پڑیںگے۔