رشتہ کا انتخاب اور اسلامی تعلیمات | دُنیا وی خواہشات کو لات مارنے سے پاکیزگی آتی ہے

اجتماعیت کا نقطہ آغاز خاندان ہوتا ہے اور خاندان کی سنگِ بنیاد رشتہ ازدواج سے  پڑتی ہے۔نکاح ہی سے خاندان وجود میں آتا ہے۔چونکہ خاندان انسانی معاشرہ اور انسانی تہذیب و تمدن کا بنیادی پتھر ہے اور اسی پر ملت،ریاست اور اجتماعیت کے تمام تصورات کی تعمیر ہوتی ہے،لہٰذا اگر خاندان کے ادارے کی تعمیر میں کوئی کجی یا ٹیڑھ(crook) رہ جایے تو پھر ظاہر  سی بات ہے کہ وہ کجی آخر تک جایے گی۔فارسی کے اس مشہور شعر کے مصداق کہ؎
خشتِ اول چوں نہد معمار کج
تا  ثریا  می  رود   دیوار کج
اسی اہمیت کو ملحوظِ نظر رکھ کر اسلام خاندانی نظام(Family System) کو مضبوط بنیادوں پر تعمیر کرنا چاہتا ہے اور خاندانی نظامِ زندگی میں ”نکاح“ کو سب سے اہم مقام حاصل ہے۔
اسلام نے جنسی خواہش کو بے لگام(Unconstrained) نہیں چھوڑا ہے کہ بلا قیدوبند جس راہ پر چلنا چاہے چل پڑے بلکہ اس پر مضبوط گرفت رکھی ہے،چنانچہ اس نے زنا ہی کو نہیں بلکہ اس کے اسباب اور متعلقات کو بھی حرام قرار دیا ہے اور ہوشیار اور چوکنا رہنے کے لیے”لا تقربوا الزنی“ جیسے الفاظ لاکر بات ختم کر ڈالی۔لیکن دوسری جانب اسلام ایسے رجحانات(Trends) کا بھی مخالف ہے جو اس فطری خواہش کو ختم کر دینا چاہتے ہوں۔لہٰذا اعتدال(Moderation) کی راہ پکڑتے ہویے اسلام نے نکاح کی ترغیب دی ہے۔ یہ انبیاء کرامؑ کی عظیم سنت رہی ہے۔قرآن مجید میں ارشاد باری تعالٰی ہے: ”(اور ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے بھی کئی رسول ( علیہ السلام) بھیجے اور ہم نے ان کو بیویاں اور اولاد بھی عطا فرمائی۔“(الرعد:38)
نبی برحق صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دور میں جنسی خواہش کو استعمال کرنے کی صحیح سمت(Direction) بتائی اور اس چیز کو اپنی ذاتی زندگی میں بھی عملی جامہ پہنا دیا اور ساتھ میں ان لوگوں کے تصورات کی بیخ کنی کی کہ جنہوں نے تجرد(Abstraction) کی زندگی گزارنے کا عہد کر لیا تھا جن میں قابلِ ذکر عثمان بن مظعونؓ ہیں،ان کے متعلق سعد بن ابی وقاصؓ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے عثمان بن مظعون کو تجرد کی زندگی گزارنے سے منع فرمایا۔اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اجازت دے دیتے تو ہم اپنے کو خصی کر لیتے۔ (بخاری:5073) 
نکاح کی اہمیت کو مدِ نظر رکھتے ہویے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کے نوجوانوں کو اِن الفاظ میں خطاب کیا:
”اے نوجوانو!تم میں سے جو شخص نکاح کی استطاعت رکھتا ہو اسے چاہیئے کہ نکاح کر لے کیونکہ نکاح غضِ بصر اور شرمگاہ کی حفاظت کا باعث ہے،اور جو نکاح کی ذمہ داریاں نہ اٹھا سکتا ہو،اس کو چاہیئے کہ شہوت کا زور توڑنے کے لیے کبھی کبھی روزے رکھا کرے۔“(بخاری:5065)
نکاح کے بنیادی مقاصد اگرچہ بہت ہیں لیکن ان میں ”سکونِ قلب کاحصول“والا مقصد غیر معمولی حد تک اہم ہے۔آج کے مادی دور(Material age) میں بالخصوص نوجوان بے سکونی کی شکایت کرتے نظر آرہے ہیں حالانکہ اللہ تعالٰی آج بھی سکون کے متلاشی نوجوانوں کو قرآنِ پاک میں واضح الفاظ میں اس طرح مخاطب ہے:
”وہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ وہ اس سے تسکین پائے“(الاعراف:189)
”اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس سے تمہارے لیے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور ہمدردی پیدا کی، یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں“(الروم:21)
نکاح کے بارے میں مسلمانوں کو شریعت سے ایسے قانون مل گیے جو کہ واضح، جامع اور مکمل ہیں اور ان پر عمل پیرا ہونے سے ہی ان کو دونوں جہانوں میں کامیابی قدم چوم سکتی ہے۔اسلام اگر امن وسکون کا دین ہے تو لازمی طور پر اسے عملانے سے ہی ہم اس چیز کو محسوس کر سکتے ہیں۔نکاح کا اولین مرحلہ ”رشتہ کا انتخاب“ ہوتا ہے۔اسلام نےرشتے کے انتخاب(Choice) کے لیے ایمان، تقوٰی،پاکیزگی،حسنِ اخلاق اور دین داری کو ہی اولین ترجیح دی ہے اور یہی معیار خوش حال زندگی کا ضامن ہو سکتا ہے،جس کا آج بدقسمتی سے ہمارا پورا معاشرہ متلاشی(Searcher) ہے۔قرآنِ پاک نے  جگہ جگہ ہمیں خبردار کیا ہے کہ رشتے کے انتخاب میں دین داری ہی وہ چیز ہے جسے اولین درجے میں ترجیح دینی چاہیئے،ایک جگہ مسلمانوں کو ان الفاظ میں سبق آموز نصیحت کی گئی ہے:
”اور مشرکہ عورتوں سے نکاح نہ کرو حتیٰ کہ وہ ایمان لے آئیں۔ ایک مومنہ لونڈی ایک آزاد مشرکہ سے بہتر ہے اگرچہ وہ تمہیں اچھی لگے۔ اور مشرکوں کو اپنی عورتیں نکاح میں نہ دو جب تک وہ ایمان نہ لائیں۔ ایک مومن غلام ایک آزاد مشرک سے بہتر ہے اگرچہ وہ تمہیں اچھا لگے۔ یہ لوگ دوزخ کی طرف بلانے والے ہیں اور اللہ اپنی توفیق بخشی سے جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے۔ اور اپنی آیتیں لوگوں کے لیے واضح کرتا ہے تاکہ وہ یاددہانی حاصل کریں)“(البقرہ:221)
رشتے کے انتخاب کے سلسلے میں قرآنِ پاک نے ایک اور اہم اصول کی طرف ان الفاظ میں رہنمائی فرمائی ہے:
”خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لیے ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے ہیں۔“(النور:26)
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےبھی  رشتے کے انتخاب میں دین داری(Religiosity)کو اولین فہرست میں ترجیح دینے کی ترغیب دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم  نے ارشاد فرمایا ہے:
چار چیزوں کی وجہ سے کسی عورت سے نکاح کیا جاتا ہے:
(١)اس کےمال کی وجہ سے
(٢)اس کے حسب ونسب کی وجہ سے
(٣)اس کے حسن و جمال کی وجہ سے
(٤)اور اس کی دینداری کی وجہ سے،تم دیندار کو اختیار کرو،اگر ایسا نہ کرا تو تمہارے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں گے(یعنی تو نادم و پشیمان ہوگا)۔                              (بخاری،کتاب النکاح)   
حدیثِ بالا میں مزکورہ دینداری کی صفت  کے علاوہ باقی تین چیزوں کا لحاظ کیا جا سکتا ہے لیکن اُسی وقت جب اُن کے ساتھ نیکی اور اخلاق کا جوہر(Essence)موجود ہو۔
باپ کے لیےبھی یہ جائز نہیں ہے کہ لڑکی کا نکاح کسی ایسے شخص کا پیغام آجانے پر مؤخر(Late) کردے جو دیندار،با اخلاق اور اس کی برابری کا کاہو ۔نبی برحق صلی اللہ  علیہ وسلم نے اس معاملے میں ہمیں اپنے ایک ارشاد میں ان الفاظ میں خبردار کیا ہے:
”تین چیزوں کو مؤخر نہیں کرنا چاہیئے:نماز جبکہ وقت ہو جائے،جنازہ جبکہ حاضر ہو،مجرد عورت جبکہ اس کی برابری کا رشتہ مل جائے“ (ترمذی:1075)
نیز ایک اور روایت میں ایسے الفاظ دیکھنے کو ملتے ہیں،جو واقعی طور پر ہر ایک زندہ ضمیر انسان کے کان کھڑا کر دیتے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہےکہ:
”جب تمہارے پاس وہ آدمی نکاح کا پیغام لےکر آئے، جس کے دین و اخلاق کو تم پسند کرتے ہو تو اس سے اپنی لڑکی کا نکاح کر دو۔اگر تم ایسا نہ کرو گے تو زمین میں زبردست فتنہ اور فساد پھیل جائےگا۔“(ترمذی:1085)
عہد رسالت میں ایسی سیکڑوں مثالیں ملتی ہیں جن سے دین ہی کو معیارِ انتخاب بنانے کا ثبوت ملتا ہے ۔خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شہزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کا نکاح حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے کرکے امت کو تعلیم دی کہ غربت(Poverty) کی بنا پر رشتہ کو ٹھکرا یا نہیں جاسکتا ہے ۔حضرت علیؓ کی غربت کا حال یہ تھا کہ مہر رکھنے کے لیے کچھ بھی نہ تھا اور مہر کی فرضیت کو مدِ نظر رکھتے ہویے حضور صلی الله علیہ وسلم نے انہیں جنگ کی ذِرہ بیچنے کا مشورہ دے کر بازار کی طرف روانہ کر دیا تھا،اس پورے واقعے کو پڑھنےکے بعد کلیجہ پھٹنے کو آتا ہے۔  اصل چیز دینداری ہے ورنہ اگر آپ چاہتے تو آپ کی بیٹی خاتونِ جنت کا نکاح کسی بڑے سے بڑے گھرانے میں ہوسکتا تھا ۔
نہایت افسوس کی بات ہے کہ عام طور پر ہمارے سماج میں لڑکی یا لڑکے کے رشتے کے انتخاب میں دین داری کو بہت کم وزن دیا جاتا ہے بلکہ بسا اوقات دین داری ہی کی بدولت لڑکی یا لڑکے کو رد کیا جاتا ہے اور اس کی زد میں عام دین دار ہی نہیں بلکہ نوجوان علماء اور صلحاء بھی آجاتے ہیں۔اسی معیارِ انتخاب کو نظر انداز کردینے کا نتیجہ ہے کہ آج ہمارے معاشرے میں طرح طرح کی خرابياں رونما ہونے لگی ہیں۔اس مادی دور میں جو لوگ ہر چیز کو مادیت(Materialism) کی نگاہ سے دیکھتے ہیں وہ دین دار لڑکے کو نظر انداز کرکے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی مول لیتے ہیں اور وقت آنے پر اپنی بیٹی کی داستان سُن کر انہیں عُمر بھر رونا پڑتا ہے۔ان کی زندگیاں لڑکی کی تباہی دیکھ کر موت سے بد تر ہوجاتی ہیں۔ان کی خون سے پالی گئی بیٹی دوسرے گھر کے ظلم و ستم(Oppression) سے تنگ آکر کہتی ہے کہ میں کیوں بار بار مر جاؤں، کیوں نہ میں ایک ہی بار مر کر ظلم وستم کے پنجرے سے آزادی حاصل کر لوں اور باالاٰخر وہ خودکشی کے ذریعے پوری قوم کو بیدار کرنے کے لیے ایک عظیم جھٹکا دیتی ہے۔ 
ہمارا معاشرہ آج مادیت کا اس حد تک شکار ہو چکا ہے کہ جونہی کوئی لڑکا سرکاری عہدے پر فائز ہوتا ہے تو اُن کے گھر لوگوں کی بھیڑ لگ جاتی ہے اور ہر کوئی اسے اپنی بیٹی کی طرف دعوت دیتا ہے۔دل اس وقت چور چور ہوتا ہے کہ جب ہماری آنکھیں دین دار طبقہ(Religious Class) کو بھی اس فعلِ مذموم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہویے دیکھتی ہیں۔اس سے بڑھ کر المیہ یہ ہے کہ دینی تحریکوں،تنظیموں اور اداروں کے عام افراد ہی نہیں بلکہ ان کے ذمہ داران نے بھی انتخابِ رشتہ میں تمام حدود توڑ ڈالے ہیں۔انہیں بھی وقت پر دین داری راس نہیں آتی اور وہ بھی مال و دولت،ذات پات اور سرکاری ملازمتوں کو بنیادی اہمیںت دے کر قدرت کی حکمتوں کا خون کرتے ہیں۔ان ہی ناہنجار لوگوں کی وجہ سے دینی تحریکیں،تنظیمیں اور ادارے بد نام ہو جاتی ہیں اور ان کے یہ کرتوت دیکھ کر لوگ دن بدن اسلام سے ہی متنفر ہو جاتےہیں۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ لالچ میں پڑ کر اب ہمارے معاشرے میں لوگ لڑکیوں کو ”جبری نکاح“ کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ رائے کے معاملے میں ان کا گلا تو گھونٹ دیا جاتا ہے۔حالانکہ جوان لڑکی اپنے نکاح کے معاملہ میں اولین اہمیت رکھتی ہے۔اس کی رائےکو کوئی اہمیت نہ دینا اور اس کی رضامندی کی پرواہ نہ کرنا اس کے باپ یا ولی کے لیے جائز نہیں ہے۔اس حوالے سے ذیل کی روایت دنیا کی محبت میں مجنون(demented) ہوئے لوگوں کے لئے کافی حد تک کارآمد ثابت ہو سکتی ہے:
”ایک لڑکی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اس کے والد نے اس کا نکاح اپنے بھتیجے سے کر دیا ہے لیکن یہ رشتہ اسے پسند نہیں ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیا۔اس نے کہا:میرے والد نے جو رشتہ کردیا ہے میں اسے برقرار رکھتی ہوں۔دراصل میں عورتوں کو بتانا چاہتی تھی کہ باپ کو لڑکی کی مرضی کے بغیر رشتہ کر دینے کا اختیار نہیں ہے۔“   (سنن ابن ماجہ:1873)
آج کے مادی دور میں مذکورہ روایت کو نظر انداز کر کے دین دار لڑکیاں بھی ”انتخابِ رشتہ“میں اپنی رائے کا اظہار نہ کرکے خود اپنے ہاتھوں اپنی زندگیاں تباہ کر دیتی ہیں۔اِن میں بھی کچھ زندگی کے اس Turning point پر دنیا کی محبت میں مبتلا ہوکر ایسے ہم سفر پر راضی ہو جاتی ہیں،جو انہیں چند لمحوں کے بعد ہی صحیح راستے سے بھٹکا دیتے ہیں۔  ہمارے معاشرے میں یہ چیز دیکھنے کو ملی ہے کہ اس قصور کا خمیازہ انہیں خود ہی بھگتنا پڑتا ہے اور پھر وقت پر کوئی بھی ان کی بات پر کان نہیں دھرتا ہے۔
نکاح اگر انسانی تہذیب کی بنیادی اینٹ کے مترادف ہے تو بالخصوص”انتخاب رشتہ“کے معاملے میں کسی بھی قسم کی لاپرواہی (Carelessness) برتنا خودکشی سے بھی کم نہیں ہے۔حقیقت یہ ہے کہ نکاح انتہائی نازک مسئلہ ہے اور انتہائی اہم بھی۔چونکہ یہ فیصلے روز روز نہیں ہوا کرتے لہٰذا معاشرے کے اس اہم ترین معاملےکو اسوہ رسولؐ کی روشنی میں طےکرنا چاہیئے اور اسی طریقے میں مسلمانوں کی دنیوی اور اُخروی کامیابی کا راز پوشیدہ ہے۔