رشتوں کی بحالی میںسرحدی کشیدگی پھرحائل

سرینگر // حد متارکہ کے آر پار منقسم خاندانوں میں رشتوں کی بحالی اور اپنوں سے ملنے کی تمنا ایک بار پھر سرحدی کشیدگی بھینٹ چڑ گئی کیونکہ اب ایسے لوگوں کونئے ضوابط کے مراحلوں سے گذرکر ہی اپنوں سے ملنے سرحد کے آر پار جانا ہو گا ۔وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی طرف سے نئے راستوں کے کھولنے کی وکالت کے بیچ12سال قبل شروع ہوئے آر پار سفر پر اب خطرے کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہندپاک کے درمیان سرحدی تنائو ، کشیدگی اور حوالہ کے تحت آنے والی رقوم کی تحقیقات کے بعد آر پار آواجاہی کو بھی مزید سخت کیا جا رہا ہے اور پچھلے ایک برس کے دوران سیکورٹی بندشوں کی وجہ سے متعدد خاندانوں کو آر پار جانے کیلئے سفری دستاویزات جاری نہیں کئے گئے ہیں ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے سیکورٹی ایجنسیاں آر پار آنے جانے کیلئے اتنی سخت پابندی عائد نہیں ہواکرتی تھی اور اب اس کیلئے نئی پالیسی کے تحت پابندیاں عائد ہوں گی اور مکمل جانچ پرتال کے بعد ہی لوگوں کو آر پار آنے جانے کی اجازت ہوگی۔ اوڑی ، کرناہ اور پونچھ کے کئی منقسم خاندان ایسے ہیں جنہوں نے ایک برس قبل پاسپورٹ آفس میں فارم داخل کرائے ہیں اور آر پار اپنوں کو ملنے کی تمنا رکھتے ہیں،تاہم انکے روٹ پرمٹ جاری نہیں کئے گئے ہیں۔سلیما بیگم نامی کرناہ کی ایک خاتون نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ پچھلے سال انہوں نے پاسپورٹ آفس سرینگر میں اُس پار اپنے رشتہ داروں کو ملنے کیلئے ایک فارم زیر نمبر SGRLF7069317615جمع کرایا جس کے بعد پولیس سٹیشن کرناہ سے اُس کی مکمل جانچ پرتال بھی کی گئی،جبکہ یہاں سے مکمل جانچ پرتال ہونے کے بعد اگرچہ دستاویزات کو پاکستان زیر انتظام کشمیر روانہ کیا گیا تاہم اُس پار موجود رشتہ داروں کے مطابق انہوں نے جانچ پرتال تو مکمل کر دی، لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر یہ فارم کسی ردی کی ٹوکری میں ڈالے گئے ہیں‘‘۔انہوںنے کہا ’’ صرف میں نے ہی نہیں بلکہ اُس کے بیٹے نے بھی سرحد پار جانے کیلئے کاغذات جمع کرائے تھے مگر ان کاغذات کا بھی کوئی اتہ پتہ نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں‘‘ ۔سرحدی ضلع پونچھ میں بھی ایسے بیسوںلوگ ہیں جنہوں نے ایک برس قبل فارم بھرے لیکن انہیں اُس پار اپنوں رشتہ داروں سے ملنے کی حسرت دل میں رہی ۔ٹریڈ افسر پونچھ تنویر احمد نے کہااُن کے پاس 50نئے روٹ پرمٹ پہنچے ہیں اور ایسے لوگوں کو بہت جلد سرحد پار روانہ کیا  جائے گا ۔ادھر اوڑی کیرن اور کپوارہ کے بھی درجنوں ایسے کنبے ہیں جو اس انتظار میں ہیں کہ انہیں’’ عمل امن ‘‘کے تحت اُس پار جانے کی اجازت دی جائے تاہم انکے خواب ابھی پورے نہیں ہوئے ۔معلوم رہے کہ 1947کی جبری تقسیم یااس کے بعد نامساعد حالات کے زخم سہہ کر جدا ہونے والے آر پار کے کنبوں کو آپس میں ملانے کیلئے حکومت نے2005میںراستے کھولے جس سے نہ صرف دہائیوں بعد بچھڑے لوگوں کا ملن ہوا بلکہ انہیں ایک دوسرے کی تہذیب و تمدن اور روایات کو بھی قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سال کافی کم تعداد میں بھی لوگ ان راہداری مراکز سے آر پار اپنوں سے ملنے آئے ہیں۔ٹیٹوال کراسنگ پوائنٹ سے اس بار صرف دو ہی شہری پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے یہاں آئے ہیں جبکہ یہاں سے کم لوگ اپنے رشتہ داروں کو ملنے اُس پار گئے ۔پاسپورٹ آفس سرینگر کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کاغذات کی ویریفکیشن میں تاخیر ہوتی ہے جبکہ کئی ایک فارم پاکستانی زیر انتظام کشمیر سے واپس نہیں آئے ہیں اس لئے اس میں تاخیر ہوتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جن مسافروں کے کاغذات جانچ پڑتال کت بعد ہمارے پاس پہنچتے ہیں تو انہیں ہم روٹ پرمنٹ فراہم کر دیتے ہیں ۔