رشتوں میں نفرتیں کیوں؟ فکرو فہم

ہلال لون

آج کل کے اِس جدید دور میں تعلیم عام ہوگئی۔ اِس جدید تعلیمی نظام نے لوگوں کے ذہنوں کے اندر نمایاں تبدیلیاں لائی۔ اگر ہم پُرانے دُور کے لوگوں کے رشتوں کی طرف دیکھےگےجب گِنےچُنے لوگ تعلیم یافتہ تھے اور آج کل کے جدید دور کے سماجی رشتوں میں فرق جاننے کی کوشش کریں گے، جب کہ تعلیم عام ہوگئ ہے۔ ہم اِس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ دولت، شہرت ، جہیز اور دُنیاوی زینت نے رشتوں میں خلوص کو ختم کا کردیا۔ یہی رشتوں کے زوال اور نفرتیں بڑھنے کے اصل وجوہات ہیں۔ وہ رشتے جن میں خلوص، اتفاق اور اعتبار مکمل ہوتا ہے۔ وہ رشتے چٹان کی طرح مضبوط اور زرخیز زمین کی طرح سرسبز اور شادآب رہتے ہیں۔ اُن رشتوں کی کامیابی،شادآبی انسانی دلوں کو خوش کرتی ہے۔ اُن رشتوں میں آپسی عزت اور اوروں کو بھی عزت ملتی ہے۔ اُن رشتوں سے اور رشتے بڑھتے بھی ہیں اور وہ بھی مضبوط ہوتے۔ نتیجے کے طور اُن رشتوں کی پگڑ میں تمام متاثر لوگ کسی نہ کسی طرح ایک دوسرے کی نیکی اور خیرخواہی کے فکر میں آگے بڑھتے ہیں۔اگر ان میں ذرا ،سی بھی اختلاف اُٹھے۔ وہ جلد ہی اپنے ضمیر کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اگر ہم دہائیوں یا صدیوں قبل کی بات کریں گے۔ اُس وقت رشتوں کے اندر احساسات موجود تھے۔ اکثر لوگ اَن پڑھ تھے۔ لیکن علاقے کے امن و سکون بحال رکھنے والے لوگ اگرچہ کم علم والے تھے، لیکن اُن کا خلوص اور انصاف علاقے کے لئے رحمت تھا۔ اُن کا اثرورسوخ علاقے کے اَن پڑھ لوگوں کو غلط راستے پر چلنے سے روکتا تھا۔ وہ اثر و رسوخ والے لوگ الله تعالیٰ سے ڈرنے والے ہوتے تھے۔علاقے کے سب لوگ علاقے کے بڑوں کی عزت کرتے تھے۔ نتیجہ یہ ہوتا وہ بڑوں کی عزت کرنا اور اُن کا حیا ان کی زندگیوں کے لئے امن و سکون اور خوشحالی کا سبب بنتا تھا۔ اِسی طرح سے جب بھی کسی بستی کے اندر فتنے جنم لیتے تھے۔ اُن خدا سے ڈرنے والے حاکمین کے اپنے منصفانہ رویے سے سب کچھ ٹھیک کرتا تھا۔ لوگ حسد کی بڑھتی بیماریوں سے بچ جاتے تھے،وہی اُن کے وکیل اور اُن کے جج ہوتے تھے۔ آج کا پنچایتی راج نظام اِس پرانے انصافی نظام کی بھرپور عکاسی کرتا ہے اور گواہی بھی دیتا ہے۔ لیکن آج کل کے بڑوں کی اتنی عزت کون کرتا۔ اسی وجہ سے اِس دور میں اکثر گھر اور خوشحال رشتے چند منٹو ںمیں راکھ ہو جاتے ہیں۔ لوگ عدالت کی دکانوں میں انصاف کے بڑے خریدار بن گئے۔ سالوں بعد عدالت کی کاروائی مکمل ہو جاتی ہے۔ تب تک لوگ ذلت اُٹھاتے اُٹھاتے تھک جاتے ہیں۔
ہم سب یہ بھی جانتے ہیں کہ پرانے زمانے کے لوگ بالکل سیدھے سادھے اور دِل کے سچے تھے۔اُن کا مقابلہ محنت اور ایثار سے تھا نہ کہ دُنیاوی زیب وزینت کے مقابلے میں پھنسے ہوئے تھے، اور آج کل کے زمانے میں لالچ کے مرض نے دِلوں کو آلودہ کردیا پُرانے زمانے میں لوگوں کے خلوص اور نیک نیتی کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے کی مدد کرنا پسند کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے رشتے میٹھے اورمضبوط ہوتے تھے۔ غریبی کی شدت اکثر لوگوں ایک دوسرے کی ہمدرد اور خیرخواہ تھے۔ اگر کبھی کوئی لڑائی یا جھگڑا ہوتا تھا۔ مصیبت میں ایک دوسرے کے کام آنے کی وجہ سے وہ تمام لڑائی جھگڑے ختم ہوتے تھے۔ جب ہم اپنے بڑوں کے تعلق کو جانتے ہیں۔ وہ مزاق میں ایک دوسرے کو گالیاں بھی دیتے تھے۔ لیکن پیٹھ پیچھے کوئی بُرائی نہیں کرتے تھے، نہ کسی سے بغض رکھتے تھے، یہی اُن کے سچے دل ہونے کا ثبوت ہے۔ اس کے برعکس آج کل کے دور میں اکثر یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ لوگ آگے بڑی عزت لیکن پیٹھ پیچھے بُرائی بیان کرنا عادت ہو گی۔ جب وہ بُرائیاں سامنے آتی ہے تو سب کچھ تباہ و برباد کرکے رکھ دیتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے سماج میں پھر غلط نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ آپس میں حسد اور نفرتیں بڑھ جاتی ہے۔ ان بگڑے ہوئے تعلقات اور رشتوں کی وجہ سے اور نئے رشتے خراب ہو جاتا۔ جسکا یہ انجام نکلتا ہے کہ لوگ ذہنی اور دل کے مرضوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں، اسی طرح پھر زندگیاں ختم ہو جاتی ہے۔
آج کل کے تعلیمی نظام نے انسانی زندگیوں کے اندر کئی تبدیلیاں لائی۔ انسانی سوچ کے اندر کافی بدلاؤ لایا۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ آج کل کے زمانے میں ایک طرف کسی کی مدد کرنے کو انسانیت کا نام دیا جاتا ہے۔ کبھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی۔ اپنے اپنے حقوق کے اصناف کے استاد سب ہیں۔لیکن دوسروں کے حقوق کی پامالی کو خوشی سے نظر انداز کرتے ہیں۔ انسان خودداری کے سوچ میں خودغرض بن گیا۔ تن کی زینت سے فریب دینا عقلمندی کا ثبوت دیتے ہیں۔ کیا فرق پڑتا اگر دل میں خلوص پیدا کرکے اپنے من کو بھی صاف رکھتا۔ دوسروں کی بُرائی کا جواب نیکی سے دیتا۔
ایک وقت تھا جب لوگ غربت اور تنگ دستی کے شکار تھے۔ یہ تنگ دستی اور غریبی اُن کے اندر صبر پیدا کرتی تھی، دولت کم تھی، لالچ بھی کم تھی۔ اِسی نتیجے میں انسانی دِلوں کے اندر خلوص برقرار رہتا تھا، پھر رشتوں کی قدر کی جاتی تھی۔
آج کل کے دور میں بڑھتی ہوئی مہنگائی ایک بڑی پریشانی ہے۔ جس کے نتیجے میں ہماری معاشی، اقتصادی زندگیاں خراب ہو گی۔ اتنا ہی نہیں اس کا سب سے بڑا اثر ہمارے رشتوں پر پڑا۔ کیونکہ آج کل کے اکثر رشتے پیسوں اور زیب وزینت پر چلتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا یہ دور ترقی سے زیادہ بُربادی طرف چلتا ہے۔
آخر میں یہ سوچ رہا ہوں کہ ہمیں اپنے ضمیر اور احساسات کو ٹھیک کرنے کے لئے اپنے رشتوں کو ٹھیک کرنا ہوگا۔ اسلامی تعلیمات پر عمل کرنا ہوگا۔ دکھاوے اور لالچ کی بناوٹ کو مٹانا ہوگا۔ اپنے دلوں کے اندر خلوص پیدا کرنا ہوگا۔ دولت، شہرت، دنیاوی دکھاوے کے بجائے سادگی اپناکر رشتوں میں اعتماد اور جان ڈالنی ہوگی۔ دوستوں کی نفسیاتی رائے کے بجائے عالموں کی راے کو قبول کریں۔ دُنیاوی دکھاوے کے بجائے علم کی جستجو کریں۔ سادگی اور خلوص سے ہی رشتوں کو آگے بڑھائیں۔ دولت اور زینت کے فریب میں رشتوں کو نہ بگاڑیں۔ جہاں سادگی اور خلوص نہ ہوگی، وہاں رشتوں کی عمریں کم ہوتی ہے۔ بڑے بڑے فتنے جنم لیتے ہیں اور کئی انسانی زندگیوں کو برباد کرتے ہیں۔
)رابطہ۔ 7889842207)
[email protected]