رسول اللہ ؐ کی مثالی شخصیت اور سیرت و کردار

شخصیت کی مضبوطی سے مراد پائیداری، استقلال،گہرائی، استحکام اور استواری ہیں۔ جب بات شخصیت کی مضبوطی کے حوالے سے کی جاتی ہے تو اس سے انسانی کردار ، مزاج ، عادات اور انداز میں اچھی صفات پر کاربند رہنے کا استحکام، ہمت اورجرأت کو مراد لیا جاتاہے۔ جب بھی شخصیت کی مضبوطی کی بات کی جاتی ہے تو اس سے ہمیشہ سےمثبت کردار و اطوار ہی مراد لیے جاتے ہیں ۔جیسے جیسے وقت گزرتا جارہا ہے۔ جدید چیلنجز ہم میں سے ہر ایک، بلکہ پوری دنیا کے تمام تر افراد کو درپیش ہیں۔ 
ان چیلنجز سے کامیابی کے ساتھ بغیر کوئی غلط یا غیر شرعی کام کیے نکل جانا بالخصوص مسلمانوں کے لیے زیادہ حساس نوعیت کا معاملہ ہے۔کیوں کہ مسلمان عقیدۂ آخرت پر یقین رکھتا ہےاور آخرت میں اپنے کیے گئے اعمال کا حساب ہر ایک کو دینا ہے۔ تو انفرادی اور اجتماعی دونوں نوعیت کے چیلنجز، آزمائش، مشکلات ،انصاف کا نہ ملنا، پریشانیوں، تذبذب، راستوں کے بند نظر آنے، پیچھے کی طرف دھکیل دیے جانے جیسے معاملات یا پھر آپ کی محنت، ذہانت، میرٹ اور قابلیت کی ایسی نفی کہ سب نظر آنے کے باوجود منفی اورنامناسب رویّے و انداز کا سامنا ہو، یہ سب چیلنجز میں شامل ہیں۔ اس نوعیت کے تجربات سے ہم میں سے اکثریت کا سابقہ رہتا ہے۔ 
یہی وہ کیفیت ہے جس میں آپ کی اپنی ذات کو رنجیدگی،شکستہ دل،حوصلہ شکنی، غصّہ،غم، ذہنی الجھاؤ جیسے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ یہ بہت مشکل کیفیات ہوتی ہیں ۔ ان معاملات میں صبر کرنا، حالات کے بہاؤ کے ساتھ خود کو بہنے نہ دینا، اپنی محنت کو ترک نہ کرنا ، کسی بھی انسان کے لیے مشکل ترین ہوتا ہے اور ان حالات میں اپنی ذہنی صحت کو مسلّم رکھنا تلخی سے بھرپور امتحان ہوتا ہے۔ یہ امتحان آپ اکیلے ہی دیتے ہیں۔ اگلا اس کی سنگینی سے واقف نہیں ہوتا تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان حالات میں آگے کی جانب کس طرح بڑھا جائے ؟ وہ بھی اس انداز سے کہ بغیر کسی کو نقصان پہنچائے یا خود کو منفی ماحول کے اثرات سے بچاتے ہوئے؟ 
ان تمام مسائل سے بچنے کا سب سے بہترین ، آئیڈیل ، قابلِ عمل صورت اور حل یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ اقدس کے ساتھ اپنے تعلق کو بہتر اور مضبوط بنانے کی کوشش کی جائے۔بہ حیثیت امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہمارے تعلق کی نوعیت و حیثیت ثانوی درجوں میں مطلوب نہیں ،بلکہ بنیادی درجے پر مطلوب و مقصود ہے اور ایک مسلمان کے حصّے میں یہ درجہ اسی وقت آئے گا کہ جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت پاک کا مطالعہ کرکے اس میں سے اپنے لیے نتائج اخذ کرے، اس پر عمل کرے۔ اس سے سبق حاصل کرے۔
اپنی روز مرّہ زندگی میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ پر عمل کو یقینی بنائے۔ آپ کا زیادہ سے زیادہ ذکر کرے، جس کی بہترین صورت درود شریف پڑھنا ہے۔ کوئی بھی مسلمان اگر اپنے مسائل اور مشکلات کے اوقات میں سیرتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مطالعہ کرے اور بعثت نبوی کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صادق و امین کے لقب کو اپنے ذہن میں رکھتے ہوئے قریشِ مکّہ کی مخالفت کو یاد کرے،ان کے مظالم کو اپنے ذہن میں رکھے، حالاں کہ مخالفت کرنے والے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے کردار کی صداقت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امانت داری کی صفات سے مکمل واقف تھے۔
دوسری جانب طائف والوں کے رویّے کو بھی نظر میں رکھیے اور پھر سوچئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شب و روز دعوت دین کی محنت ،خداداد صلاحیت اوراللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہونے کے باوجود ابتدائے اسلام اور مکی زندگی میں سوائےچند کے ایمان لانے کے، باقیوں کی جانب سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت اور دعوت دین سے اعراض جیسے رویوں پرحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کیا کیفیات رہی ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قلبِ مبارک پر کیا کیا گزری ہوگی؟کیا یہ سب آپﷺ کے لیے تکلیف دہ اور غم زدگی کا باعث نہیں ہوں گے؟ بالکل ہوں گے۔ کیوں کہ انسان جب مثبت ہو، پُرخلوص ہو، محنتی ہو،نیک نیت ہو اور اللہ کے دین کی خدمت کرنا چاہتا ہو، سوچ کا پاک باز بھی ہو، لیکن لوگوں کی طرف سے منفی اور دل برداشتہ رویّے سامنے آئیں تو آگے بڑھنے کی ہمت بھی اکثر اوقات جواب دے جاتی ہے۔کیوں کہ مستقل مزاجی کے ساتھ کسی بھی مقصد پر قائم رہنا اپنے آپ میں ایک بڑا چیلنج ہے۔ تو ایک اُمّتی ہونے کی حیثیت سے یہ دیکھا جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سب مشکلات کے باوجود اپنے آپ کو کیسے راہِ حق اور صراطِ مستقیم پر گامزن رکھا؟
وہ تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تعلق مع اللہ ، جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شخصیت کی وہ مضبوطی دی کہ قریشِ مکّہ کے بارہا مال اور سرداری کی پیشکش کے باوجود آپ  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے نیک ارادوں سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹے اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان پیشکشکوں کی جانب کسی قسم کے التفات کوظاہر کیا۔ بلکہ اپنی نظر اللہ کے دین کی اشاعت پر رکھی۔ جس سے ایک نکتہ یہ بھی سامنے آتا ہے کہ نیکی کے کام میں آزمائش آنا اٹل حقیقت ہے اور ان آزمائشوں کا مضبوطی سے سامنا کرتے ہوئے کامیاب ہوجانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنّت ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےاپنی امّت کے لیے اپنے آپ کو ایک استاد کی حیثیت سے بھی متعارف کروایا ہے ، استاد سے تعلق کی نوعیت ہمیشہ روحانی ہوتی ہےاور استاد کا روحانی فیض ہر شاگرد کے حصّے میں اسی قدر آتا ہے ،جتنا کہ ایک شاگرد کے دل میں استاد کا احترام ہو، مقام ہو ، عزّت ہو،مرتبہ ہو اور عقیدت ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے اُمّتی ہونے کی حیثیت سے ،اپنے مشکل وقت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طرزِ عمل کو اختیار کرنا ہمارے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت طیبہ کا ایک لائق تقلید نمونہ ہے۔ 
صبر کے ساتھ اپنے مقاصد کو خالص و نیک نیتی کے ساتھ اپنے پاک پروردگار پر نظر رکھتے ہوئے جاری رکھنا ہی ہمارے لیے ہماری مشکلات کو آسان بنانے کا نبوی نسخہ ہے۔ اس کے نتیجے میں اپنے مشکل معاملات میں کچھ عرصے بعد خود بہ خود آسانی محسوس ہوگی اور اُس آسانی کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں۔ یا تو وہ راستے آسان ہوجائیں گے، یانئے راستے نکل آئیں گے، یا وہ مشکلات و رکاوٹیں دور ہوجائیں گی، یا پھر لوگوں کے دل حق کی قبولیت کی طرف مائل ہوجائیں گے اور یا پھر حالات تو وہی رہیں گے ، لیکن آپ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سنّتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کے نتیجے میں اس قدر شخصی مضبوطی آچکی ہوگی کہ ان منفی رویوں اور چیلنجز سے بھر پور مشکل حالات میں پانی کی طرح اپنا راستہ بنانا آپ کے لیے آسان ہوجائے گا اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تعلق کا فیض ہے۔جو آپ کو شخصی مضبوطی عطا کرے گا۔
لہٰذا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنّت کو ہر لمحے کے لیے اپنے لیے قابلِ عمل بنانا انسان کی اپنی شخصیت کو مضبوط بنانے کا نبوی نسخہ ہے۔اسی لیے سنّتِ رسول اللہ ﷺ پر عمل کیجیے۔ زندگی آسان بنایئےاور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کردار کو ہمیشہ اپنے ذہن میں محفوظ رکھیے۔ روز کی بنیاد پر درود شریف پڑھنا اپنی زندگی کا لازمی حصّہ بنایئے۔