ربیع الاول اصلی عالمی بہار

ایک ایسے وقت میں جب انسانیت کی کشتی ظلم و طغیان کے بھنور میں ہچکولے کھارہی تھی رب کریم نے انسانیت کی نجات کے لئے قدسیوں کی ایک جماعت کھڑا کی اور اس جماعت کی راہنمائی کے لئے ان ہی میں سے ان کے سردار (ص) کو مبعوث کیا! ان قدسیوں اور ان کے راہنما کا ذکر نا صرف بنی اسرائیل کے ادب میں پایا جاتا ہے بلکہ ہندی اساطیری ادب میں بھی ان کے اشارے ملتے ہیں۔ اسرائیلی ادب سے ہم اسرائیلیات کے توسط سے واقف ہیں جو مختلف تفاسیر میں ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔ جہاں تک ہندی ادب کا تعلق ہے، اس کی طرف کئی ایک اہل علم نے اشارے کیے ہیں۔ ان آراء اور اشاروں کو ایک بنگالی نو مسلم، عبداللہ اڈیار کی کتابIslam: My Fascination نے شرف قبولیت اور درجہ استناد بخشا ہے۔
یہ قدسی کون تھے اور ان کے سردار (ص) کون تھے؟ دراصل جس جماعت سے ان قدسیوں کو چنا جانا تھا اسی جماعت کے جد امجد، ابراہیم (ع) نے اپنے فرزند ارجمند' اسماعیل (ع) کو مکہ مکرمہ کی وادی غیر ذی زرع میں بسایا تھا۔ آنجناب (ع) نے متمدن لیکن مشرکانہ ماحول پر اس غیر آباد بے آب و گیاہ وادی کو اس لئے ترجیح دی تھی تاکہ مستقبل کے لئے ایک ایسی نسل تیار کی جاسکے جو شرک کی تمام آلائشوں سے پاک ہو۔ یہ نسل آغوش فطرت میں کچھ اس طرح پروان چڑھ سکے کہ یہ توکل علی اللہ کی نعمت سے سرشار ہوکر بتوں سے بالکل ناامید ہوجائے۔ ابراہیم (ع) اس جماعت کی ہمہ جہت نشوونما کی خاطر کس درجہ فکر مند تھے، اس کا اندازہ آپ (ع) کی ان دعاوں سے لگایا جاسکتا ہے جن میں انہوں نے اس کی مادی و روحانی خوشحالی کے لئے اللہ تعالٰی کی طرف رجوع فرمایا ہے۔ اس سلسلے کی ایک مشہور و معروف دعا کچھ اس طرح ہے: یاد کرو وہ وقت جب ابراہیم (ع) نے دعا کی تھی کہ "پروردگار، اس شہر (یعنی مکہ) کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا- پروردگار، ان بتوں نے بہتوں کو گمراہی میں ڈالا ہے۔۔۔۔۔ پروردگار، میں نے ایک بے آب و گیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے پاس لا بسایا ہے- پروردگار، یہ میں نے اس لئے کیا ہے کہ یہ لوگ یہاں نماز قائم کریں، لہذا تو لوگوں کے دلوں کو ان کا مشتاق بنا اور انہیں کھانے کو پھل دے، شاید کہ یہ شکر گزار بنیں۔۔۔۔۔ (ابراہیم: 35-37)
بیت اللہ کی تعمیر نو کی غرض و غایت بھی یہی تھی کہ کہ قدسیوں کی وہ جماعت جو اس وادی میں پروان چڑھنے والی تھی، کسی طرح شرک کی گندگی سے محفوظ رہ سکے اور موحدین کے لئے ایک ایسا ابدی گھر تعمیر ہو جو تا قیامت رشد و ہدایت کا مینارہ نور بنا رہے۔ اسی خدمت کی باپت ابراہیم (ع) و اسماعیل (ع) ان الفاظ میں قبولیت کی دعا فرمارہے تھے: اور یاد کرو، ابراہیم (ع) اور اسماعیل (ع) جب اس گھر کی دیواریں اٹھارہے تھے، تو دعا کرتے جاتے تھے: "اے ہمارے پروردگار' ہم سے یہ خدمت قبول فرمالے۔۔۔۔۔ (البقرہ: 127)
اس پورے منصوبے کا خاکہ ہم ابراہیم (ع) کی اس دعا میں دیکھ سکتے ہیں: اے رب، ہم دونوں کو اپنا مسلم (مطیع فرمان) بنا، ہماری نسل سے ایک قوم اٹھا، جو تیری مسلم ہو، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا، اور ہماری کوتاہیوں سے درگزر فرما،۔۔۔۔۔ اور اے رب، ان لوگوں میں خود انہی کی قوم سے ایک رسول اٹھائیو، جو انہیں تیری آیات سنائے، ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے۔۔۔۔۔ (البقرہ: 128-129)
اس منصوبے میں تزکیہ کو مرکزی اہمیت حاصل تھی۔ اس لئے تزکیہ سمیت نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے اس عمل چہار گانہ کو قرآن میں چار دفعہ الفاظ کے ذرا سے اختلاف کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ (ملاحظہ ہوں: سورہ البقرہ، آیت 129 اور 151؛ سورہ آل عمران، آیت 164 اور سورہ الجمعہ، آیت 2)
2500سال کی مدت میں اگرچہ یہ نسل دین ابراہیمی سے بہت حد تک منحرف ہوچکی تھی لیکن اس نسل کے اندر پھر بھی حنفاء کی ایک ایسی جماعت موجود تھی جو بہرحال شرک سے بیزار تھی۔ اہلیان مکہ کے تحت الشعور میں دبی توحید کی چنگاری کا ہی یہ اثر تھا کہ انہوں نے مجموعی طور پر یہودیت اور عیسائیت، جس کے کئی حلقے عرب میں وقت کے ساتھ ساتھ قائم ہوچکے تھے، کو قبول نہیں کیا تھا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی محنت شاقہ سے اللہ تعا لیٰ کے انعام یافتہ سبھی جماعتوں کے نمونے اور نمائندے قدسیوں کی اس جماعت میں پیدا ہوئے۔ ابتدائے آفرینش سے ہی یہی چار جماعتیں، یعنی انبیاء ،صدیقین، شہداء اور صالحین بنی آدم کی گلہائے سرسبد رہی ہیں۔ قرآن کے الفاظ میں:جو لوگ اللہ اور رسول (ص) کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین۔۔۔۔۔ (النساء￿ : 69)
سید الانبیاءؐ کی نگرانی میں یہ سبھی جماعتیں اس سرزمین پر وجود میں آگئیں۔ اگر ایک طرف صدیقین کی نمائندگی سیدنا ابو بکر ؓی سربرآوردہ شخصیت کررہی ہیں تو شہداء کے لئے سیدنا عمر ؓ، سیدنا عثمان ؓ اور سیدنا علی ؓجیسے ایک سے بڑھکر ایک نمونے دستیاب ہیں۔ جہاں تک صالحین کا تعلق ہے تو صحابہؓکی پوری جماعت بالعموم اس میں شامل ہے کیوں کہ جب اس جماعت پر حق واضح ہوا تو اس نے بلا چون و چرا نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی جاں نثاری کا حق ادا کردیا۔ یہ جماعت پوری کی پوری قدسیوں میں تبدیل ہوگئی اور یہ لوگ سیدنا مسیحؑ کے حواریین کی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے انصار بن گئے۔ جس طرح اس جماعت کے جد امجد ابراہیم ؑ نے اللہ کی پکار پر "اسلمت لرب العالمین" کہہ کر حق کے آگے سر تسلیم خم کر دیا تھا بالکل اسی انداز میں اس جماعت نے بھی حق کا نہ صرف اعتراف کیا بلکہ اسی حق کو اوڑھنا بچھونا بناکر اس کے لئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئی۔ اس طرح اللہ تبارک و تعا لیٰ ان کا دوست (ولی) بن گیا جس نے انہیں طاغوت کے اندھیروں سے نکالا اور اسلام کے نور سے ان کی راہیں منور کیں۔ قرآنی الفاظ کی رو سے: دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے۔ صحیح بات غلط خیالات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے۔ اب جو کوئی طاغوت کا انکار کرکے اللہ پر ایمان لے آیا، اس نے ایک مضبوط سہارا تھام لیا، جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں۔۔۔۔۔ جو لوگ ایمان لاتے ہیں، ان کا حامی و مددگار اللہ ہے اور وہ ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں نکال لاتا ہے۔ اور جو لوگ کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں، ان کے حامی و مددگار طاغوت ہیں اور وہ انہیں روشنی سے تاریکیوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں۔۔۔۔۔ ( البقرہ:256-257)
قدسیوں کی اسی جماعت نے تاریخ انسانی میں پہلی بار یہ کارنامہ انجام دیا کہ شرک کی بالادستی کو یک قلم ختم کردیا اور انسانی فکر کو آزادی کے اس تصور سے روشناس کرایا جس کی حدیں آسمان کو چھونے لگیں۔ یہی وجہ تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے بدر کا معرکہ شروع ہونے سے قبل اللہ تبارک و تعا لیٰ سے اس جماعت کی حفاظت اور کامرانی کے لئے ان الفاظ میں دعا فرمائی: الٰہی! اگر یہ جماعت آج ہلاک ہوگئی تو روئے زمین پر قیامت تک تمہاری عبادت نہیں ہوگی! (ابن ہشام)
یہ دعا دراصل اس بات کا اعلان تھا کہ قدسیوں کی یہ جماعت نبیؐکی قیادت میں باطل کو للکار رہی تھی۔ اور کفر کے ائمہ اپنی پوری قوت کے ساتھ اس جماعت کو صفحہ ہستی سے مٹانے پر تلی ہوئی تھے۔ اس طرح 2500سال میں تیار ہوئی توحید کی پوری پونجی اس میدان میں اکٹھی ہوکر باطل کے ساتھ دو دو ہاتھ کرنے کے لئے صف آرا تھی۔ اس موقعے پر فرشتوں کا نازل ہوکر مومنین کے دلوں کو مضبوط کرنا اور کافروں پر کاری ضربیں لگانا بھی اسی پس منظر میں سمجھا جاسکتا ہے۔ چوں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم اسی جماعت کے سردارؐہیں، اس لئے قرآن نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم (بحیثیت خاتم النبیین) اور اس جماعت کی تمثیل ان الفاظ میں بیان کی ہے: محمدؐاللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت اور آپس میں رحیم ہیں۔ تم جب دیکھو گے انہیں رکوع و سجود، اور اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی طلب میں مشغول پاو گے۔ سجود کے اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں جن سے وہ الگ پہچانے جاتے ہیں۔ یہ ہے ان کی صفت تورات میں اور انجیل میں ان کی مثال یوں دی گئی ہے کہ گویا ایک کھیتی ہے جس نے پہلے کونپل نکالی، پھر اس کو تقویت دی، پھر وہ گدرائی، پھر اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی۔ کاشت کرنے والوں کو وہ خوش کرتی ہے تاکہ کفار ان کے پھلنے پھولنے پر جلیں۔ اس گروہ کے لوگ جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں اللہ نے ان سے مغفرت اور بڑے اجر کا وعدہ فرمایا ہے۔ (الفتح: 29)
چوں کہ اسلامی تقویم (Calendar) کی مناسبت سال کے بدلتے موسموں کے ساتھ ہے اور ربیع الاول کے معنی ہی "پہلی بہار" کے ہیں، اس لئے یہ مہینہ ہمارے ذہن کو سیدالانبیاء ؐکی آمد کی طرف پھیرتا ہے جہاں سے قدسیوں کی نشوونما (بہار) شروع ہوئی، جس سے پورے عالم انسانیت کی کھیتی لہلہا اٹھی۔ اسی بہار کو اصل عرب اسپرنگ (Arab Spring) بلکہ گلوبل اسپرنگ (Global Spring) کہا جاسکتا ہے!
رابطہ۔اسسٹنٹ پروفیسر، اسلامک سٹیڈیز،ڈگری کالج کوکر ناگ
فون نمبر۔ 9858471965
ای میل۔[email protected]