راہ گیروں اور مسافروں کیلئے عبور و مرور کے راستے مسدود

سرینگر//شہر سرینگر میں متعدد مقامات پر سی آر پی ایف کی طرف سے سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر خار دار تار اور دیگررکاوٹیں راہ گیروں اور مسافروں کیلئے سخت مشکلات کا باعث بن رہے ہیں ۔سول لائنز میںگذشتہ کئی برسوں سے ریذیڈنسی روڈ پر سی آر پی ایف نے کئی میٹر سڑک اور فٹ پاتھ پر خاردار تار اور دیگر رکاوٹیں کھڑاکر رکھی ہیں جبکہ بڈشاہ چوک میں اکھاڑا عمارت کے پاس بھی فٹ پاتھ پرسی آر پی ایف کا قبضہ ہے ۔ادھر خانیار تھانے کے سامنے بھی سڑک کا ایک بڑا حصہ پولیس کے زیر قبضہ ہے اور بلبل باغ برزلہ میں دودھ گنگا نالے پر سی آر پی ایف کا ایک کیمپ موجود ہے اور اس کیمپ کو ہٹانے میں بھی سرکار ناکام ہے ۔اتنا ہی نہیں بلکہ شہر میں کئی ایسی سڑکیں اور چوراہے ہیں جہاں فورسز کا غیر قانی قبضہ ہے تاہم انتظامیہ اور سرکار ان بندشوں کو ہٹانے کے حوالے سے کوئی بھی کاروائی عمل میں نہیں لاتی ۔اگر چہ سال میں کئی مرتبہ پولیس اورٹریفک پولیس سڑکوں پر غیر قانونی طور کھڑا کی گئی گاڑیو ں اور فٹ پاتھوں پر قبضہ کرنے والے چھاپڑی فروشوں کے خلاف کاروائی کرتے دکھائی دیتے ہیں تاہم فورسز کی جانب سے سڑکوں اورفٹ پاتھوں پرکئے گئے قبضے کو چھڑانے میں کوئی پہل نہیںہورہی ہے جس سے لوگوں کو مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ریذیڈنسی روڑ پر سٹیٹ بنک آف انڈیا کی عمارت کی حفاظت پر تعینات عملے نے کئی میٹر سڑک کو خاردار تار اور دیگر بندشیں لگا کر راہگیروں اور مسافرو ں کیلئے پریشانی کھڑا کی ہے ۔ اس سڑک پر پہلے سے ہی ٹریفک کا بھاری دبائوہوتا ہے تاہم پچھلے کئی برسوں سے یہ خار دار تار اور دیگر بندشیں بھی ٹریفک جام کی ایک بڑی وجہ ہے جس سے راہگیروں اور مسافروں کو چلنے پھرنے میں دقتیں پیش آتی ہیں ۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ بنک عمارت کو خار دار تار سے بند رکھناٹھیک ہے لیکن سڑک کے کچھ حصے اور فٹ پاتھ پر قبضہ سے راہ گیروں کو یہاں بیچ سڑک پر چلنا پڑتا ہے۔اس حوالے سے کشمیر عظمیٰ نے جب ٹریفک پولیس سے بات کی تو انہوں نے معاملے کو ٹالتے ہوئے کہا کہ وہ اس پر کچھ نہیں بول سکتے ہیں۔اسی طرح خانیار پولیس سٹیشن کے سامنے بھی پولیس نے سڑک کے ایک بڑے حصے پر قبضہ جما کر وہاں رکاوٹیں کھڑا کی ہیں ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ سڑک پچھلے 25برسوں سے پولیس کے زیر قبضہ ہے اور اس چوراہے پر بھی ٹریفک کا خاصا دبائو رہتا ہے۔بڈشاہ چوک میں اکھاڑا بلڈنگ کے پاس موجود فٹ پاتھ پر بھی سی آر پی ایف کا قبضہ ہے۔اسی طرح شہر میں کئی مقامات پر سی آر پی ایف نے سڑکوں اور فٹ پاتھوں پر خار دار تاریں اور رکاوٹیں کھڑا کی ہیں اور راہ گیروں  کیلئے راستوں کو مسدود کردیا ہے۔ بلبل باغ برزلہ میں دودھ گنگا نالے کے بیچ سی آر پی ایف کا ایک کیمپ موجود ہے ۔پچھلے سال ریاستی ہائی کورٹ کی جانب سے آبی ذخائر پر ناجائز تعمیرات اور درختوں کو کاٹنے کی ہدایت دی تھی جس کے بعدانتظامیہ نے بڑے پیمانے پر کاروائی عمل میں لائی تاہم اس کیمپ کو یہاں سے ہٹایا نہیں گیا۔ اس حوالے سے کشمیر عظمیٰ نے جب ڈپٹی کمشنر سرینگر فاروق احمد لون سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ سرکار کی کوشش رہتی ہے کہ سڑک عام لوگوں کے چلنے پھرنے کیلئے استعمال ہو مگر کہیں کسی جگہ حفاظتی مسائل کی وجہ سے سڑک اور فٹ پاتھوں کو بند کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اگر کسی جگہ غیر ضروری طور پر سڑک کوبند گیا گیا ہے تو وہاں سڑک کو کھولنے کی کوشش کی جائے گی۔