راہل گاندھی چین کے معاملے میں مودی پر برسے

  مندسور // کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے  پڑوسی ملک چین سے ہندوستان کے تعلقات کے سلسلے میں وزیر اعظم نریندر مودی پر شدید تنقید کی۔ مسٹر گاندھی نے مندسور ضلع کے پپلیامنڈي میں کسان گولي سانحہ کی برسی پر منعقدہ 'خوشحال کسان عہد'ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے وزیر اعظم چین کے صدر کو گجرات میں بلا کر جھولا جھلاتے ہیں اور وہ ڈوکلام میں گھس جاتے ہیں، لیکن ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا۔ انہوں نے روزگار کے مسئلے کو بھی چین سے جوڑتے ہوئے کہا کہ ملک میں ہر جگہ 'میڈ ان چائنا' دکھتا ہے ۔ انہوں نے مسٹر مودی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ان کے موبائل فون کے پیچھے بھی 'میڈ ان چائنا' لکھا ہوا ہے ۔ ہر دکان میں 'میڈ ان چائنا' سامان فروخت ہو رہا ہے ۔ تقریبا آدھے گھنٹے کی اپنی تقریر میں مسٹر گاندھی نے کہا کہ ریاست میں کانگریس کی حکومت آئی تو پانچ سال بعد 'میڈ ان مندسور' موبائل فون چین میں نظر آئے گا۔ دس سال میں مندسور کا لہسن بیجنگ کو کھلائیں گے ۔ یہ کام مسٹر مودی اور پردیش کے وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نہیں کر پائیں گے ۔ یہ کام مدھیہ پردیش میں مسٹر کمل ناتھ اور مسٹر جیوترادتیہ سندھیا کریں گے ۔ اس موقع پر مسٹر کمل ناتھ، مسٹر سندھیا کے ساتھ کانگریس کے سینئر لیڈر دگ وجے سنگھ، سریش پچوری، ویویک تنکھا، کانتی لال بھوریا، اجے سنگھ، ارون یادو وغیرہ موجود تھے ۔  کسانوں پر پولیس فائرنگ کی پہلی برسی کے موقع پر کانگریس کی طرف سے منعقدہ کسان سمردھی ریلی میں راہل گاندھی نے بی جے پی حکومت پر جم کر نشانہ سادھا۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے مدھیہ پردیش میں کانگریس کی حکومت بننے پر 10 دنوں کے اندار کسانوں کے قرض معاف کرنے کا بھی وعدہ کیا۔ راہل گاندھی نے پولیس فائرنگ میں مارے گئے لوگوں کو خراج عقیدت پیش کیااور متاثرین سے ملاقات کی۔راہل گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے کسانوں کو دھوکہ دیا ہے۔ کسانوں سے جھوٹ بولا گیا ، مگر سب سے بڑا دھوکہ ملک کے نوجوانوں کے ساتھ کیا گیا۔