رام مندر تعمیر ہوا تو خود پتھر لگائوں گا

 سرینگر//نیشنل کانفرنس کے صدر اور رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ایودھیا معاملے پر رائے زنی کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقین کو مل بیٹھ کر مسئلے کا حل تلا ش کرنا چاہیے تاہم انہوں نے صاف کردیا کہ اگر ایودھیا کی زمین پر رام مندر تعمیر ہوتا ہے تو اس کے لیے میرا بھر پور تعاون شامل رہے گا اور وہاں جاکر خود ایک پتھر لگائوں گا۔ نیشنل کانفرنس کے صدر اوررکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے متنازعہ ایودھیا معاملے پر رائے زنی کرتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقین کو دوستانہ ماحول میں مل بیٹھ کر مسئلے کا حل تلاش کرنا چاہیے۔ایودھیا میں رام مندر کے متنازعہ معاملے سے متعلق ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے رام مندر قضیہ کا فوری حل تلاش کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں فریقین مسلمان اور ہندوئوں کو مل بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے حل تلاش کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں فریقین پر زور دیا کہ وہ عدالت کی طرف رجو ع کرنے کے بجائے آپس میں مل بیٹھ کر ایک قابل قول حل تلاش کرے۔’اس تنازعے کو حل کرنے کی خاطر دونوں فریقین کو ٹیبل پر بیٹھ کر دوستانہ ماحول میں بات چیت شروع کرنی چاہیے۔ فریقین کیوں اس معاملے کو عدالت میں لے جانے پر بضد ہے؟ مجھے پورا یقین ہے کہ اس معاملے کا حل بات چیت میں مضمر ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے بتایا ’بھگوان رام صرف ہندئوں کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا بھگوان ہے‘۔خیال رہے کہ 10جنوری 2019کو سپریم کورٹ میں ایودھیا معاملے کی سماعت نئی بنچ کی طرف سے ہونے جارہی ہے۔ نیشنل کانفرنس صدر نے مزید کہا  ’بھگوان رام کے ساتھ کسی کو بھی عداوت نہیں ہونی چاہیے کیوں کہ رام نہ صرف ہندوئوں کا بھگوان ہے بلکہ وہ دنیا میں رہ رہے سبھی لوگوں کا بھگوان ہے لہٰذا ایسے اقدام اُٹھائے جانے چاہے تاکہ یہا ں پر رام مندر کی تعمیر یقینی بن جائے‘۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ’ایودھیا میں جب بھی رام مندر تعمیر کیا جائے گا، میں اُس وقت وہاں جاکر اس کی تعمیر میں شرکت کروں گا۔ میں ذاتی طور پر اُس کے لیے ایک پتھر لگائوں گا لہٰذا اس قضیہ کو جلد از جلد سلجھایا جانا چاہیے‘۔