رام مادھو ریاست کے ٹھیکیدار نہ بنے:این سی

 سرینگر//نیشنل کانفرنس نے کہا ہے کہ پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کیلئے اُمیدواروں کی قلت سے بھاجپا جنرل سکریٹری رام مادھوبوکھلاہٹ کے شکار ہوگئے ہیں اور اب اپنا الو سیدھا کرنے کیلئے من گھڑت اور بے تُکی بیان بازی کررہے ہیں۔پارٹی کے ترجمانِ اعلیٰ آغا سید روح اللہ نے  پارٹی ہیڈکوارٹر پر ذرائع ابلاغ نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے کور گروپ نے 35اے کیخلاف ہورہی سازشوں کو مدنظر رکھتے ہوئے پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا اور اس کے بعد پارٹی کی ورکنگ کمیٹی نے بھی اس فیصلے کی تائید کی اور نیشنل کانفرنس اپنے اعلان پر کاربند ہے۔ہماری پارٹی سے وابستہ کوئی بھی لیڈر، عہدیدار یا کارکن ان الیکشن میں حصہ نہیں لے گا، اگر کوئی اس قسم کی غلطی کرے گا تو اُسے پارٹی سے باہر کردیا جائیگا۔ ترجمانِ اعلیٰ نے کہا کہ رام مادھو کی بوکھلاہٹ بلاوجہ نہیں، اُن کی پارٹی کی طرف سے انتخابات کیلئے جو اُمیدوار سامنے آئے ہیں اُن میں بیشتر جرائم پیشہ ہیںاور وہ سماج سے الگ تھلگ لوگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بڑے بڑے مراعات کی لالچ کے باوجود بھاجپا کو الیکشن میں اُتارنے کیلئے اُمیدوار نہیں مل رہے ہیں۔ رام مادھو کو جو باقی خدشات ہیں وہ پولنگ کے دن پتہ چل جائیں گے۔ آغا روح اللہ نے کہاکہ پی ڈی پی کی مہربانی سے آج رام مادھو جیسے لوگ جموں و کشمیر کی سیاست کے ٹھیکیدار بن بیٹھے ہیں۔ قلم دوات جماعت نے آر ایس ایس اور بھاجپا کو ریاست میں راہداری فراہم نہ کی ہوتی تو آج ہمیں رام مادھو کے لیکچر سننے کو نہیں ملتے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمانِ اعلیٰ نے کہا کی ’’سیاست میں دھمکیاں دینا اور مارنا آر ایس ایس اور بھاجپا کا شیوا رہا ہے، گجرات ، یو پی اور دیگر مثالیں ہمارے سامنے ہیں، اور پورے ملک میں جو اس وقت آگ لگی ہے وہ بھی تو بھاجپا کی دین ہے۔