رام بن کا ٹراما ہسپتال انتظامیہ کی عدم توجہی کا شکار

 رام بن//مہنگی مشینری کے باوجود رام بن میں 2002میں قائم کیا ہوا ٹراما ہسپتال کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں ہے۔علاقہ کے لوگوں نے کہا ہے کہ اس ہسپتال کو وزارت زمینی ٹرانسپورٹ اور ہائی وے اتھارٹی آف انڈیانے 2002 میں منظور کیا تھا۔اور اُسی سال ہسپتال کے لئے ایک عالیشان عمارت بھی تعمیر کی گئی تھی۔ان لوگوں کی شکایت ہے کہ اس ٹراما ہسپتال میں نصب کی گئی مہنگی مشینری تجربہ کار سٹاف کی عدم دستیابی کی وجہ سے زنگ آلودہ ہو رہی ہے۔ان لوگوں نے شکایت کی ہے کہ2002میں قائم کئے گئے اس ہسپتال کے لئے کوئی بھی ڈاکٹر، نیم طبی عملہ یہاں تک کہ کوئی ٹیکنشن بھی تعینات نہیںکیا گیا ہے۔انہوں نے یہ مبینہ الزام لگایا ہے کہ انتظامیہ اس حقیقت سے باخبر ہے کہ جموں۔ سرینگر قومی شاہراہ کے اس حصے پر اکثر حادثات رونما ہوجاتے ہیں،اسکے باجود بھی رام بن کے ٹراما ہسپتال کی جانب انتظامیہ سنجیدہ نہیں ہے اور اسے اللہ کے رحم و کرم پر چھوڑا گیا ہے۔ ان لوگوں نے یہ بھی شکایت کی ہے کہ زخمی مسافروں کو سری نگر یا جموں منتقل کیا جاتا ہے۔ان لوگوں نے یہ بھی مبینہ الزام لگایا ہے کہ وزارت زمینی ٹرانسپورٹ اور ہائی وئیز بھارت سرکار نے آٹھ سال قبل ایک مہنگی کرٹیکل کئیر ایمبولنس مہیا کی تھی،تاکہ زخمیوں کو ہسپتال پہنچا یا جائے جو کہ ہسپتال کے کمپلیکس میں زنگ آلودہ ہو رہی ہے۔ان لوگوں نے سرکار سے اس ہسپتال کیلئے ڈاکٹر اور دیگر سٹاف تعینات کرکے اس ہسپتال کو قابل کار بنایا جائے۔