رام بن میں18-44 عمر گروپ میں 31ہزار افراد کی ٹیکہ کاری

رام بن//ضلع رمبان میں 18-44 عمر گروپ کے لگ بھگ 31000 افراد کوکووڈ ویکسین کے ٹیکے لگائے گئے ہیں ، جبکہ انتظامیہ نے مثبت واقعات کی جانچ پڑتال کے لئے جانچ کے اہداف کو 2500 تک روزانہ کردیا ہے۔یہاں وقتا فوقتا پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر مسرت الاسلام نے بتایا کہ ضلع بھر میں ویکسی نیشن مہم پر 18 سے 4 سال تک کی عمر کے گروپوں کا زبردست ردعمل دیکھنے میں آیا ہے اور روزانہ کی بنیاد پر تقریبا 3000 افراد کو ٹیکے لگائے جارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ضلع میں 18 سے 46 سال کی عمر کے گروپ کو ٹیکہ لگانے کے بعد سے 31000 افراد کو ٹیکے لگائے گئے ہیں۔ڈی سی نے کہا کہ انتظامیہ نے ضلع میںکووڈ ٹیسٹنگ کا ہدف 2500روزانہ تک بڑھایا ہے جس میں 2000 RAT اور 500 RT-PCR شامل ہیں تاکہ مثبت واقعات کا سراغ لگایا جاسکے اور صورتحال پر کڑی نگاہ رکھی جاسکے۔انہوں نے بتایا کہ دوسری لہر کے دوران ضلع میں مجموعی طور پر 3695 مثبت واقعات رپورٹ ہوئے جن میں سے 3557 کو صحتیاب کرایا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت زیر علاج 102 مثبت کیسز ہیں جبکہ اس ضلع میں 43 کووڈ اموات ہوئیں۔ڈی سی نے بتایا کہ روزانہ کی بنیاد پر تقریبا ً 3000 افراد کو ٹیکے لگائے جاتے ہیں۔ 18-24 سال عمر کے گروپ میں 1.21 لاکھ افراد کو ٹیکے لگانے کے ہدف کو حاصل کرنے کے لئے ویکسی نیشن کی شرح کو مزید بڑھایا جائے گا۔ڈی سی نے 15 وعدوں کو درج کیا جن کو کووڈ کی تیسری لہر سے بچنے کے لئے تمام لوگوں کو نفاذ کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے نوجوانوں اور سرکاری ملازمین کو تاکید کی کہ وہ بھی ٹیکے لگوائیں اور دوسروں کو بھی اسی کی ترغیب دیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت لوگوں کو بہترین صحت کی دیکھ بھال کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔انہوں نے بتایا کہ تمام 143 پنچایتوں میں قائم دیہی کوووڈ الگ تھلگ مراکز کو تمام سامان فراہم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متعدد دیہی سی سی سی کو میڈیکل آکسیجن کنسنٹریٹربھی فراہم کئے گئے ہیں جبکہ باقی کے لئے جموں کشمیر میڈیکل سپلائی کارپوریشن کے ذریعہ آکسیجن کنسنٹریٹرز کی بہت جلد فراہمی کی جائے گی۔ڈی سی نے بتایا کہ کووڈ سیفٹی پروٹوکول کی خلاف ورزی کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے نفاذ کرنے والی ٹیموں نے یکم اپریل سے لے کر 27 لاکھ روپے اور آخری 10 دنوں میں یومیہ تقریبا 1 لاکھ روپے جرمانہ برآمد کیا ہے۔ ضلع میں کوویڈ پابندیوں میں نرمی کا ذکر کرتے ہوئے ڈی سی نے لوگوں سے پرہجوم کی کہ وہ بھیڑ والی جگہوں پر جانے سے گریز کریں۔