رام بن میں کینڈل مارچ کا اہتمام

رام بن// اتوار کے روز کچھ غیرسرکاری رضاکار تنظیموں کے ارکا ن ،انسانی حقوق کارکنوں نے 8سالہ آصفہ کے حق میں کینڈل مارچ نکالا۔انہوں نے جموں کشمیر پولیس سے وابستہ ایس پی او کے ہاتھوں 8سالہ قبائلی لڑکی کو اغوا کے بعد ریپ اور قتل کئے جانے کےلئے انصاف دلانے کا مطالبہ کیا۔جلوس نکالنے سے پہلے انہوں نے ایک خصوصی سیاسی جماعت کو اس گھناﺅنے جرم کو مذہب کی بنیاد بنا کر ووٹ بینک کی سیاست کرنے کی مذمت کی ۔انہوں نے کہا کہ آصفہ ایک بچی تھی جس کا درندے نے اغوا کر کے ریپ کے بعد قتل کردینا قابل مذمت ہے ۔ریلی میں لوگوں کی متعدد تعداد نے حصہ لیا ،انہوں نے پلے کارڈ اور بینر اٹھا رکھے تھے جن میں آصفہ کےلئے انصاف کے نعرے درج تھے۔انہوں نے فاسٹ ٹریک بنیاد پر کیس کی جانچ کرنے کا مطالبہ کیا ۔قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل بھی آصفہ کے حق میں ایسی ہی کی ایک ریلی کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں انسانی حقوق کے کارکنوں ، صحافیوں اور سماجی کارکنان نے بلا لحاظ مذہب و ملت شرکت کی تھی۔ کٹھوعہ عصمت دری و قتل کیس میں کلیدی ملزم قرار دیے جانے والے ایس پی او دیپک کھجوریہ کی رہائی کے حق میں گذشتہ ہفتے ترنگا ریلی نکالنے والی ہندو ایکتا منچ واقعہ کی تحقیقات سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی)کے حوالے کرنے کے مطالبے کو لیکر ایجی ٹیشن کررہی ہے۔ ہندو ایکتا منچ اور بار ایسو سی ایشن کٹھوعہ کا مشترکہ موقف ہے کہ کیس کی موجودہ جانچ ایجنسی (کرائم برانچ پولیس) ایک مخصوص کیمونٹی سے وابستہ لوگوں کو ہراساں کررہی ہے۔ یہ دونوں جماعتیں کرائم برانچ کے تحقیقاتی عمل کو متعصبانہ اور جانبدارانہ قرار دیکر کیس کو سی بی آئی کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرچکی ہیں اور اس کے لئے ایجی ٹیشن کررہی ہیں۔ انہیں ریاست کی مخلوط حکومت کی اکائی بی جے پی کی پشت پناہی حاصل ہے۔ تحصیل ہیرانگر کے رسانہ نامی گاو¿ں کی رہنے والی آٹھ سالہ کمسن بچی آصفہ بانو کو 10 جنوری کو اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ گھوڑوں کو چرانے کے لئے نذدیکی جنگل گئی ہوئی تھی۔ اس کی لاش 17 جنوری کو ہیرا نگر میں جھاڑیوں سے برآمد کی گئی تھی۔