رام بن میں سوچھ بھارت مشن برائے نام

گول//گائوں گائوں ،شہر شہر میں صفائی و ستھرائی کے نام پر مرکزی سرکار نے سوچھ بھارت مشن کے تحت ایک پروگرام چلایا جس کے تحت اربوں روپے صرف کئے گئے لیکن اگر زمینی سطح کی صورتحال کی طرف دیکھاجائے تو ایسا لگ رہا ہے کہ اس مشن کو بے سود ہی پایا جائے گا ۔ جموںو کشمیر کے ضلع رام بن کے صدر مقام کو اگر چہ میونسپل حدود میں لایا گیا اور دیگر بلاکوں کو محکمہ دیہی ترقی کے تحت رکھا گیا ہے لیکن کسی بھی جگہ پر صفائی دیکھنے کو نہیں مل رہی ہے ۔ یہاں اگر ضلع صدر مقام رام بن کی بات کی جائے تو صدر مقام کے بس اسٹینڈ و ملحقہ جات میں گندگی کے ڈھیروں کی وجہ سے بدبو کے مرغولے اُٹھتے ہیں ار راہگیروں کے ساتھ ساتھ مقامی لوگوں ، دکانداروں کو بھی اس مصیبت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ رام بن اگر چہ میونسپل کے حدود میں آتا ہے لیکن یہاں پر میونسپل نام کی کوئی چیز دکھائی نہیں دے رہی ہے ۔ جنرل بس اسٹینڈ میں قائم مسافر شیڈ میں گندگی کے ڈھیر کی وجہ سے یہاں انسان تو دور کی بات جانور بھی رہ نہیں سکتے ہیں ، لوگ یہاں باہرکھڑا رہنے پر مجبور ہیں اور کوئی بھی فرد اس مسافر شیڈ میں بیٹھنا پسند نہیں کرتا ہے ۔ علاوہ ازیں بولی بازار ، بس اسٹینڈ کے ساتھ جموںسرینگر شاہراہ پر نالی میں گندگی کے ڈھیر اور بارشوں کے دوران یہ تمام ملبہ اور گندھا پانی سڑک پر آتا ہے جس سے لوگوں کو سڑک عبور و مرور کرنے میں کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔وہیں ضلع کے بلاک سنگلدان ، گول ،گنڈی داڑم میں بھی سوچھ بھارت مشن کے نام پر خزانہ عامرہ کو چونا لگایا جا رہا ہے ۔ جب سے اس مشن کو لاگو کیا گیا ہے یہاں پر صرف دیواروں پر سوچھ بھارت مشن کی عبارت کو ضرور دیکھنے کو ملے گی لیکن کسی بھی بلاک صدر مقام پر صفائی ستھرائی کے نام پر ہی جھاڑو لگایا گیا ہے اور نہ ہی کسی بھی مقام پر کوڑے دان دیکھنے کو ملیں گے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ رام بن میونسپل کے ساتھ ساتھ بلاک گول ، سنگلدان اور اندھ میں سی بی آئی جانچ کی جانب کی اشد ضرورت ہے تا کہ یہ صحیح معلوم ہو سکے کہ آیا اگر سوچھ بھارت مشن کے نام پر خزانہ عامرہ سے پیسہ نکالا گیا ہے تو وہ کہاں پر صرف کیا گیا ہے ۔