رام بن میں تباہ کن ہوائوں سے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان معمول کی زندگی بْری طرح سے متاثر، ضلع کی 42 رابطہ سڑکیں بند:حکام

 محمد تسکین

بانہال // ضلع رام بن کے علاقوں میں جمعہ اور ہفتے کی درمیانی رات سے چل رہی طوفانی اور تباہ کن ہواووں کی وجہ سے درجنوں رہائشی مکانوں ، سرکاری سکولوں ، ہسپتالوں اور مدرسہ کی ایک عمارتوں کے چھت اکھڑجانے اور درختوں کے گرنے سے املاک کو نقصان پہنچا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق ضلع کے بانہال ، کھڑی مہو منگت ، رامسو چکہ سربگھنی ، پوگل پرستان ، رام بن ، گول ، بٹوٹ اور راج گڑھ کے علاقوں میں گزشتہ رات سے بارشوں اور طوفانی ہواؤں کے چلنے کی وجہ سے درجنوں رہائشی مکانوں ، سکولوں اور ہسپتال عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ تیز ہوا سے ہائی سکول کملہ ترگام ، مڈل سکول کڈجی منگت ، مڈل سکول ٹینکہ منگت،پرائمری ہیلتھ سینٹر منگت کو شدید نقصان پہنچا ہے اور طوفانی ہوا کے زور سے رسم افتتاح سے قبل ہی پرائمری ہیلتھ سینٹر مہو منگت کی عمارت کے کھڑکی دروازے نکل کر باہر بکھر گئے ہیں۔ تیز ہوا اور درختوں کے گرنے سے گلشنِ مدینہ ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام دارالعلوم غوثیہ فریدیہ بٹوٹ کی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

 

مدرسہ کے منتظمین نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ دارالعلوم غوثیہ فریدیہ بٹوٹ میں زیر تعلیم طالبعلموں کی چھٹیاں چل رہی تھیں اور کوئی بھی طالبعلم اسوقت مدرسہ میں موجود نہیں تھا جب ایک دیو ہیکل درخت مدرسہ کی عمارت پر گر گیا اور اس سے چھت کے ساتھ ساتھ اس کے در و دیواروں کو نقصان پہنچا ہے۔ طوفانی بارشوں اور ہواووں کی وجہ سے ضلع رام بن کے کسی بھی علاقے سے کسی بھی قسم کی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔اطلاعات کے مطابق رام بن ، بانہال اور گول کے کئی ندی نالوں میں طغیانی آنے اور زمین کے کھسکنے کی وجہ لوگوں کی ملکیتی اراضی ڈھ گئی ہے اور کئی رہائشی مکانوں اور سڑکوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ ادھر سابقہ شاہراہ پر واقع قصبہ چندرکوٹ میں گیمن انڈیا لمیٹیڈ کی طرف سے سڑک کی تجدید و مرمت کے غیر تسلی بخش کام کی وجہ سے سابقہ شاہراہ کا پانی لوگوں کے مکانوں دکانوں اور راشن سٹوروں میں گھس گیا ہے اور لوگوں نے نیشنل ہائے وے اتھارٹی اور اس کی تعمیراتی کمپنی کے خلاف اپنا احتجاج درج کرکے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ مقامی لوگوں نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ یہاں کام کر رہی تعمیراتی کمپنی گیمن انڈیا کے ٹھیکیدار لوگوں کو دھونس دباو ڈال کر من مرضی سے کام کر رہے ہیں اور ماضی عوامی شکایات اور احتجاج کے باوجود نیشنل ہائے اتھارٹی اور ضلع انتظامیہ نے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی اور بارشوں نے گیمین انڈیا کے کام کی پول کھول کر رکھ دی ہے اور درجنوں مکانوں اور دکانوں میں پانی گھسنے سے نقصان ہوا ہے۔اس دوران ضلع انتظامیہ رام بن کی طرف سے رام بن میں قائم کنٹرول روم کے انچارج افیسر گھنیش کمار نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ ضلع رام بن میں بارشوں اور تیز ہوا سے پہنچے نقصانات کا جائزہ لیا جارہا ہے اور متعلقہ ایس ڈی ایم اور تحصیلداروں کی طرف سے تفصیلات بھیجی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ضلع رام بن میں 42 رابطہ سڑکیں بند ہوگئی ہیں اور موسم میں بہتری آتے ہی بحالی کا کام شروع کیا جائیگا۔