رام بن بانہال سیکٹر بدستور باعث عذاب

بانہال // منگل کی رات شاہراہ پر شدید نوعیت کے ٹریفک جام کی وجہ سے سینکڑوں مسافروں پوری رات رام بن اور بانہال کے درمیان ٹریفک جام میں گزارنا پڑی اور جموں اور سرینگر سے روانہ ہوئیں گاڑیوں کو چوبیس گھنٹوں بعد ہی اپنی منزلوں تک پہنچنے میں کامیابی ملی ہے۔ منگل کے روز جموں سے وادی کی طرف ٹریفک چلنے کی اجازت تھی جبکہ بدھ کے روز فورسز کانوائے کیلئے مخصوص دن ہونے کی وجہ سے ٹریفک حکام نے دونوں طرف سے پچھلے کئی روز سے درماندہ ٹرکوں کو آگے بڑھنے کی اجازت دی تاکہ بدھ کیلئے شاہراہ کو فورسز کی کانوائے کیلئے صاف رکھا جائے۔ منگل کی صبح سے بیٹری چشمہ اور ڈگڈول کے درمیان پتھروں کے گرنے کا سلسلہ جاری رہا جس کی وجہ سے ٹنل کے آر پار ٹریفک جام کا شروع ہوا جوبانہال اور رام بن کے درمیان بدھ کی صبح تک جاری رہا جس کی وجہ سے مسافروں کوپوری رات شاہراہ پر ہی گذارنا پڑی۔ سید ریاض ہمدانی جو پیشے سے صحافی ہیں، نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وہ منگل کی شام آٹھ بجے سرینگر سے بانہال پہنچے تھے لیکن بانہال اور رام بن کے درمیان شدید ٹریفک جام کی وجہ سے اس سفر کو طے کرنے میں انہیں کم از کم دس گھنٹے لگے اور رات بھر مکرکوٹ کے مقام  پرانہیں درماندہ رہنا پڑا ۔ انہوں نے کہا کہ رات بھر درماندہ رہنے کے بعد وہ بدھ کی صبح سات بجے جام سے نجات پاکر آگے بڑھے۔ اسی طرح رام بن اور بانہال کے درجنوں ملازمین اور عام لوگ بھی رات بھر ٹریفک جام میں پھنسے رہے اور منگل کی شام پانچ بجے مسافر بدھ کی صبح سحری پر بانہال پہنچ پائے۔ ٹریفک پولیس نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ منکی موڑ اور ڈگڈول کے نزدیک اوپر ی پہاڑی سے گر آنے والے پتھروں کی وجہ سے ٹریفک کی روانی بار بار متاثر ہونے کی وجہ سے گاڑیوں کو ایک ایک کرکے نکالا گیا اور ٹریفک جام لگنے کی وجہ سے سینکڑوں گاڑیاں رات بھر رام بن بانہال سیکٹر میں پھنس کر رہ گئیں۔