رافیل کا متنازعہ سودا!!!

 تو اِدھر اُدھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلے کیوںلُٹے
یہاں رہبری کا سوال ہے مجھے راہزن سے غرض نہیں
 وزیر اعظم نریندرمودی سرکار کے دور میںجب سے رافیل جنگی جہازوں کی خرید کا سودا ہواہے،تبھی سے مودی سرکار پر گھپلے بازی کے الزامات بڑی شدومد سے عائد کئے جارہے ہیں ،لیکن مودی سرکار کی طرف سے اس کی تردید میں تادم تحریرکوئی مسکت جواب نہیں دیا جارہاہے۔ سرکاری ترجمانوں اور وزیر دفاع، وزیر خزانہ ، وزیر قانون کے بیانات میں تضاد بیانی اور اختلافی آراء نے معاملہ کومزیدسنگین بنادیاہے۔ ناقدین کی طرف سے خود وزیراعظم کی طرف سے خاموشی اختیار کرنے پر اس معاملہ پر سنگین تر صورت اختیار کرلی ہے، کیونکہ یہ معاہدہ فرانس میں وزیراعظم کے دورہ کے درمیان اُن کی موجودگی میں ہواہے۔ علاوہ ازیں چونکہ یہ معاہدہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی سابقہ کانگریس سرکار کی طرف سے اس سلسلہ میں ہوئے معاہدہ کو ردکرکے کیاگیاہے،اس لئے  معاملہ پر تنقید نے مزید شدت اختیار کرلی ہے۔ البتہ اس معاملہ میں فرانس کے سابقہ صدر فرانسکو اولند کے اس سنسنی خیز انکشاف کے بعدکہ اس سودا میںدیگر معاملات کے علاوہ جنگی طیاروں کی فروخت کے بعد بھارت میں ایسے جہازوں کی ساخت کا معاہدہ وزیراعظم نریندرمودی کے قریبی ہندوستانی دوست امبانی کی کمپنی کو دیاگیاہے جوکہ اس سودا کے چند روز پیشتر ہی وجود میں آئی ہے، اس سے وزیراعظم بھی الزامات کے دائرے میں پھنس گئے ہیں اور صورت حال یکسر رُخ بدل کر انتہائی سنگین ہوگئی ہے اور یہ مطالبہ زور پکڑگیاہے کہ اس سودے کے تمام رموز واسرار کی تحقیقات اعلیٰ سطح پر کی جائے اور وزیراعظم جوکہ ہر معاملہ میں بیان بازی کے لئے مشہور ہیں، اس معاملہ میںچونکہ خود بھی ماخوذ بتائے جارہے ہیں، اس لئے وہ سارے قضیہ کا کوئی واضح اور غیر مبہم جواب دیں۔ 
ان دنوں پارلیمنٹ میں ،میڈیا میں، سیاسی جلسوںمیں، عوامی اجتماعات میں اپوزیشن جماعتوںکی طرف سے مودی سرکار اور حکومت فرانس کے درمیان رافیل جنگی جہازوں کے سود ا پر زبردست نکتہ چینیاں ہورہی ہیں اور الزامات عائد کئے جارہے ہیں کہ اربوں روپیہ کے اس سود امیں گول مال ہواہے اور ڈیفنس کے اس اہم ترین سودے میں مبینہ طور کوئی ہیراپھیری ضرورہوئی ہے۔ الزامات عائد کرنے والوںمیں کانگریس کے صدر راہل گاندھی پیش پیش ہیں۔ چونکہ یہ سودا اُس ووقت ہوا جب وزیراعظم نریندرمودی فرانس کے دورہ پر پہنچے تھے، اس لئے مطالبہ یہ کیا جارہاہے کہ نریندرمودی سے خود اس سلسلہ میں جوابدہی کی جائے لیکن تاحال نریندرمودی نے اس سلگتے سوال پہ مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ موصوف کی چپ سادھ لینے کی اس دیرینہ ادا سے عوام کے ذہنوں میں طرح طرح کے شکوک وشبہات پیدا ہونا لازمی بات ہے۔ و یسے بھی وزیراعظم نریندرمودی کا قومی اہمیت کے معاملات میں یہ طریقہ کار بنا ہواہے کہ ایسے اہم معاملات میں استفسار ات کے باوجود وہ ہمیشہ براہ را سست جواب دینے سے کنی کترا جاتے ہیں ۔اس طرز سیاست کی جو بھی تاویل وتوجیہ کی جائے مگرکہ ہرگز وزارت عظمیٰ کے منصب کے شایان ِ شان نہیں ہے۔ عقل کہتی ہے کہ ہے کہ وہ ایسے اہم معاملات میں بالخصوص دفاع ملک کے معاملات پر ہر استفسار کا معقول جواب د یا کریں،وگرنہ یہ سمجھا جانا قدرتی اور لازمی ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے،ا س لئے مودی جی تسلی بخش جو اب دینے میں آنا کانی کررہے ہیں۔ اس سے ممکن ہے کہ وہ وقتی طور بوال کو ٹال بھی دیں مگر ساتھ ہی اس سے نہ صرف معاملات میں شکوک و شبہات اور ابہامات کی دُھند چھا جاتی  ہے بلکہ خود وزیراعظم کی پوزیشن بھی شک کے دائرے میں دکھائی دینے لگتی ہے۔ یہ رویہ ایک سو پچیس کروڑ بھارتیوں کے تئیں انتہائی نامناسب بھی ہے اور ناروا بھی۔ رافیل جنگی جہازوں کی خرید اری میں جو متنازعہ عمل کارفرما رہا ہے ، وہ تحقیق طلب ہے ، بصورت دیگر عوامی ذہنوں میں اس سودا کی نوعیت بھی بوفورس سودے جیسی بنتی ر ہے گی جس نے سابق وزیراعظم اور کانگریس کے صدر راجیوگاندھی کی پوزیشن کو اس حدتک مشکوک بنادیاتھا کہ نہ صرف راجیوگاندھی بلکہ پوری کانگریس پارٹی کو اُس کا بُرا خمیازہ بھگتنا پڑا تھا۔
 رافیل تنازعے کے حوالے سے وزیراعظم مودی کی خاموشی کے بعد خاتون ڈیفنس منسٹر نرملا سیتا رمن نے دفاعی سودے کے بارے میں جواب  ضروردیاہے مگر وہ بھی انتہائی غیر تسلی بخش ہے۔ اُنہوں نے کہاہے کہ اس سودا میں چونکہ ملک کی سلامتی کے مسائل شامل ہیں اور معاملہ قومی دفا ع کا مسئلہ ہے، اس لئے اس سودے کی تفصیلات خفیہ رکھنا مطلوب ہے یعنی بالفاظ دیگر اس کے کوائف ظاہر نہیںکئے جاسکتے۔  ناقدین کے نزدیک یہ جواب انتہائی نامعقول ہے کیونکہ اس سودا کے سلسلہ میں سلامتی یاڈیفنس کے معاملات دریافت نہیں کئے جارہے ہیں، بلکہ متناعہ سودے میں جنگی جہازوں کی قیمت میں کئی گنا اضافہ کی وجوہات دریافت کی جارہی ہیں۔ ہندوستان میں ان جہازوں کی ساخت کے لئے کمپنی میں تبدیلی کی وجہ پوچھی جارہی ہے کیونکہ اس سودے کے سلسلہ میں مذاکرات تو کانگریس کی منموہن سنگھ سرکار کے وقت سے چل رہے تھے، لیکن پھر بنا کوئی وجہ بتائے موجودہ بھاجپا سرکار نے یکلخت اس سودا کی خریداری کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ کردیا، جس پر اعتراضات ہورہے ہیں اور کمیشن خوری کے اشکلات ظاہر کئے جارہے ہیں۔ لطف یہ کہ ناقدین کو کوئی دندان شکن جواب دینے کے بجائے متنازعہ سودے کے نرخوں میںا ضافہ کی وجوہات بتانے میں حکومت خواہ مخواہ سلامتی اموراور قومی مفاد کاذکر کر رہی ہے ۔اس ملن ترانی کو ناقدین محض ایک عذر لنگ بتاتے ہیں اور یاد رکھئے عذر گناہ بدتر ازگناہ کے مترادف ہوتا ہے۔
 ڈاکٹر منموہن سنگھ کی سربراہی والی یوپی اے سرکار نے فرانس کے ساتھ جو رافیل سودا طے کیاتھا، اُس کے مطابق پیرس سے126 ائر کرافٹ کی خرید ہونی تھی، جن میں اٹھارہ فلائی اوور کی حیثیت میں دئے جانے تھے ،مطلب ہے مکمل تیار شدہ۔ جب کہ مزید 108ہندوستان کی کمپنی Hindustan Aeronautics لمٹیڈکے ساتھ مل کر ٹیکنالوجی ٹر انسفر کرکے بنائے جانے مطلوب تھے۔ وزیراعظم بننے کے بعد نریندرمودی نے 2015میں اس اہم سودے پر روک لگادی۔ پھر وزیراعظم نے فرانس کا دورہ کیا اور حیران کن طریقہ سے بالکل نئے سودے کا اعلان کردیا جس کے مطابق ہندوستان 36رافیل جیٹ گورنمنٹ ٹوگورنمنٹ کی بنیاد پر خریدے گا اور یہ تمام فلائی اوور کی صورت میں دئے جائیںگے۔ اس سلسلہ میں ہندوستان کو کوئی ٹیکنالوجی کا علم مہیا نہیںکیاجائے گا۔ اس بناپر بجا طوپر سوال اُٹھایاجارہاہے کہ جنگی جہازوں کی خریداری ابتدائی شرائط کے بغیر کیوں کی گئی ہے ؟ طیارے کی ٹیکنالوجی انڈیا منتقل کرنے کے بغیر کیوں سواد طے کیا گیا ہے ؟ یہ سودا 59000کروڑ روپے کا ہے، جس سے فی ائر کرافٹ کی قیمت 1600کروڑروپیہ بنتی ہے، جب کہ  منموہن سنگھ سرکار کے وقت میں کئے گئے سودے کے مطابق 526کروڑ روپے فی ائر کرافٹ قیمت مقرر تھی، اگرچہ وہ سودا کبھی پایہ تکمیل کونہ پہنچا۔ اب ڈیفنس منسٹری کی طرف سے بتایاگیاہے کہ سودا 59000 کروڑروپیہ کا ہے جس کامطلب فی  ائیرکرافٹ کی قیمت 1600 کروڑروپیہ ہے۔ جب اس تفاوت کی وجوہات دریافت کی گئیں تو ڈیفنس منسٹر اور فیاننس منسٹر نے سودے کے بارے میں الگ الگ وجوہادت بتا کر قومی سلامتی کے نکتہ نظر سے اصل قیمتوں کی تفصیلات بتانے سے انکارکردیا ہے۔ اس کے ردعمل میں تحقیق طلب الزامات عائد کئے جارہے ہیں کہ اس سودے میں ایک بڑا سرمایہ کار رپوریٹر امبانی جو کہ بھاجپا اور نریندرمودی کا خاص الخاص ہے ، بھی ملوث ہے۔ بلکہ اُسے ہی فائدہ پہنچانے کے لئے یہ سودا کیاگیاہے۔
بہر صورت بادی النظر میںتمام حالات اور واقعات سے اورمودی سرکار کی طر ف سے دئے گئے جوابات سے ظاہرہوتاہے کہ اس سود ے کے دوران دال میں کچھ کالا ضرور رہاہے۔ ا س لئے دفاعی سودے اور اس سلسلہ میں پوچھے جارہے سوالات و توضیحات کے سرکاری جوابات نے آج مودی سرکار کو جوابدہی کے کٹہرے میں اُسی طرح کھڑا کردیاہے جس طرح بوفورس سودا نے راجیو گاندھی اور کانگرس پارٹی کو ملزموں کے کٹہرے میں کھڑا کردیاتھااور کانتیجہ یہ ہوا کہ راجیو گاندھی اور کانگری  کی اس حدتک بدنامی ہوئی کہ یہ بالآخراقتدار سے محروم ہوگئی۔ ابھی نہیں کہا جاسکتا کہ اس سودے کی مخالفت میںوہی صورت حال پیداہوگی یا نہیں،لیکن یہ ضرور کہا جاسکتاہے کہ پاک دامانی کا دعویٰ کرنے والی مودی سرکار اس بار بدعنوانیوں کے حوالے سے ملزموں کے کٹہرے میں ضرور کھڑاہوتی ہوئی نظرآرہی ہے۔ عین ممکن ہے کہ قومی سلامتی اور مفاد عامہ کے ساتھ کھلواڑ کر نے کی پاداش میں یہ تحقیق طلب گھوٹالہ اتنا طول پکڑے کہ چارہ ٔ کار مودی سرکار بدعنوانی کے الزامات کے ملبے نیچے دب جانے سے بچ نہ سکے۔ یہ کس قدر ستم ظریفی ہے کہ مودی سرکار گھپلوں، گھوٹالوں، سکینڈلوں کی جواب دینے یا تحقیقات کروانے کی بجائے خود ہی یا تو ملزموں کو نیک چلنی کا سرٹیفکیٹ جاری کردیتی ہے یاپھر قومی سلامتی یا فوجی رازداری کا بہانہ تراش کر الزامات کی پردہ پوشی کررہی ہے۔ جو الزامات برسر اقتدار آنے سے پیشتر بھاجپا کانگریس حکمرانوں پر عائد کرتی تھی، اب اقتدارمیں آکر انہی الزامات کابار یہ پارٹی خود بھی اپنے کندھوں پر یہ لادے چلی جارہی ہے۔ بھاجپا صدر امت شاہ کے بیٹے کی دولت میں مبینہ طور بے تحاشہ اضافے کے الزامات پر بھاجپانے مدافعانہ طریقہ کار اختیار کیا۔ مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، راجستھان کے وزرائے اعلیٰ اور صوبائی وزراء کے خلاف الزامات میں بھی اُس نے اسی حربے کو زیر کار لایا۔ مرکزی وزراء کے خلاف الزامات پر بھی اس کامزاج اور رویہ یہی رہا۔ اب اتنے بڑے رافیل سودے میں الزامات کی بھر مار کو یہ ملکی اور قومی سلامتی آڑمیںپس پشت ڈال رہی ہے۔ اتناہی نہیں بلکہ رشوت، بھرشٹاچار، گھپلوں، گھوٹالوں، سکینڈلوں کے خلاف آسمان سر پراُٹھانے والے بھاجپا نیتا بشمول وزیراعظم نریندرمودی لوک پال قانون، جو انتھک عوامی جدوجہد کی بدولت کانگریس معرض ِ وجود میں لانے پر مجبور ہوئی تھی، اُسے لاگو کرنے میں حیلوں بہانوں کے ذریعہ ناکام رہی ہے۔ اقتدار کے پانچ میںسے ساڑھے چار سال گزر جانے کے بعد ابھی لوک پال قانون نافذ نہیں ہوسکا،جس کے لئے مودی سرکار ذمہ دار ہے ۔  گھپلوں ، گھوٹالوں، بدعنوانیوں کاخاتمہ محض لفاظی ، محاورہ بازی، لچھے دار تقریروں سے، ہنگامہ خیز بیانات سے نہیں ہوسکتا۔ آک کی تاریخ میں ہم سب سر کی آنکھوں سے دیکھتے ہیں کہ مودی سرکار ا س محاذ پر قطعاً ناکام رہی ہے اور محض طفل تسلیوں سے کام لے رہی ہے جب کہ للت مودی ، وجے مالیا،نرو مودی کی اربوں کھربوں کی لوٹ کھسوٹ اور پھر آرام سے ملک سے فرار ہونے کی ناقابل یقین کہانیاںکورپشن کی درپردہ حمایت کئے جا نے پر دلالت کر تی ہیں۔ وقت کی ضرورت اور دیش کا ہِت اس امرمیں ہے کہ مودی سرکار بہانہ بازیاں ترک کر کے رافیل معاملہ سمیت بھرشٹاچار کے سارے الزامات کی عادلانہ تحقیقات کرانے ،لوک پال قانون نافذ اُلعمل کرانے میں کمر ہمت کس لیں۔فی الحال مودی سرکار کے انٹی کورپشن کے خلاف عملی کارروائیاں نہ کر نے پر پر تو فقط یہی کہہ سکتے ہیں   ؎
 اتنی نہ بڑھانہ پاکی ٔداماں کی حکائت
بند قبا کھول دامن کوذرا دیکھ
 نریندرمودی بطور وزیر اعظم دھڑلے سے چھاتی تان کر اعلانات کرتے رہے ہیں کہ اُن کے عہد حکومت میں کوئی ا سکنڈل منظرعام پر نہیں آیا جو اس امر کا ثبو ت ہے کہ اُ ن کا دور حکومت رشوت ستانی اور بھرشٹاچار سے پاک و صاف ہے لیکن فی الواقع  بھاجپاکے کئی جگادریوں کے خلاف متعدد بھرشٹاچار کے ایسے واقعات سامنے آچکے ہیں جن سے مودی سرکار اور بھاجپا قیادت نے از خود اُنہیں بری الذمہ قراردے تو دے لیکن حقائق کچھ اور بول رہے ہیں ۔ اب رافیل جنگی جہازوں کی سودے نے مودی سرکار کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے باوجودیکہ اس سلسلہ میں وزیراعظم نے مون مو ت برت رکھ لیاہے۔ اس کے علاوہ  پنجاب نیشن بنک کااتنا بڑا تاریخی اسیکنڈل زیرتحقیق ہی ہے ، اس میںمبینہ طورپر تیس ہزار کروڑروپے کا چونا دیس کو لگایا گیاہے ۔ اسی قسم کااسیکنڈل پیشترازیں  کنگ فشرہوائی سروس کے مالک وجے مالیا نے اطمینان سے اپنے نام کر دیا گھپلا کرکے بنکوں کا اربوں روپیہ ہضم کر گیا۔ مودی سرکار اُس کے خلاف کچھ نہیں کرسکی جب کہ مالیا انگلستان میں بیٹھا ہوا دادِعیش لے رہاہے۔ مودی صاحب نے نوٹ بندی کے ذریعہ ہندستانی عوام کو ساری دولت بنکوں میں جمع کرنے پر مجبور کردیاتھا اور کہا جاتاہے کہ بنکوں میں جمع ساری دولت کارپوریٹ سیکٹر کے خدا دندان لُوٹ رہے ہیں۔ پہلے مالیا نے بنکوں کی اربوں روپیہ کی دولت ہتھیالی اور پھر پنجاب نیشنل بنک کے کھربوں روپے نیرو امودی لوٹ کر ہندوستان سے رفو چکر ہوگیا۔ کارپوریٹ سیکٹر کے ان خداندان کی لُوٹ کھسوٹ کی ذمہ داری سے مودی سرکار بچ نہیںسکتی۔ اُنہیں دیر سویر جواب دیناہی ہوگا ۔ ستم بالائے ستم آج تک وزیراعظم نریندرمودی نے اس سلسلہ میں ابھی تک زبان بندی کئے رکھی ہے۔ اِن سکینڈلوں اور گھپلوں کے سلسلہ میں ہی نہیں بلکہ بھاجپا کے صدر امت شاہ کے بیٹے کی طرف سے ایک مختصر مدت میں اپنی دولت میں بے تحاشہ اضافہ پر بھی مودی جی خاموش ہیں۔ وزیراعظم کادعویٰ تھا کہ وہ حکمران نہیںبلکہ دیس کے چوکیدار ہیں لیکن کیا خوب چوکیداری  ہے!!!چوکیدار کا کام ہوتاہے کہ وہ اپنی بستی میں نہ صرف خود بیدار رہے بلکہ آواز لگا کر چورچکاروں کو بھی کسی واردات سے روکے اور بستی کے باسیوں کو بھی خبردار کرتارہے لیکن ہندوستان کو ایک ایسا’’ چوکیدار‘‘ ملاہے جو نہ صرف چوروں اچکوں کو مجرمانہ واردات سے روکنے میں ناکام ہے بلکہ واردات رونما ہونے کے بعد بھی خاموش ہے اور چور لٹیرے ہیں کہ قوم کا سرمایہ رات دن لوٹتے جارہے ہیں۔ بدعنوانی کے محاذ پر حکومت کی عدم کارکردگی اس قبیحہ عمل کو کوئی اعانتِ مجرمانہ نہ بھی سمجھے لیکن ڈکیتوں کی پردہ پوشی قراردینے پر ضرور مجبور ہو گا۔ بہر صورت وقت آگیاہے کہ جس طرح عوام نے کانگریس حکمرانوں کے دور میں لوٹ کھسوٹ، سکینڈلوں، گھپلوں، گھوٹالوں کے خلاف زوردار آوا ز بلند کی تھی، اُسی طرح کی زوردار آواز بھاجپا سرکار کے خلاف بھی بلند کی جائے تاکہ دیس اور جنتا کا دفاع ہو    ؎
مجروح  قافلے کی مرے داستان یہ ہے
رہبر نے مل کر لوٹ لیا راہزن کے ساتھ