رافیل سودے میں ’چوکیدار‘ ہی بن گیا’چور‘:راہل

نئی دہلی//رافیل طیارہ سودے کے آفسیٹ سمجھوتہ کے سلسلے میں فرانس کے سابق صدر فرانزواں اولاں کے انکشاف کے بعد کانگریس صدر راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اس پر صفائی دینے کا مطابقہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ملک کے 'چوکیدار' نے ہی 'چوری ' کی ہے ۔مسٹر گاندھی نے آج یہا ں کانگریس ہیڈکوارٹر میں خصوصی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رافیل سودے کا معاہدہ مسٹر اولاں اور مسٹر مودی کے درمیان ہوا تھا اور فرانس کے سابق صدر نے کہا ہے کہ مسٹر مودی نے ہی مسٹر انل امبانی کی کمپنی کو آفسیٹ شراکت دار بنانے کے لئے کہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر اولاں ہندوستان کے وزیر اعظم کو 'چور ' کہہ رہے ہیں لیکن وزیر اعظم خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔کانگریس کے صدر نے کہا کہ وزیر اعظم کو اس پر اپنی صفائی پیش کرنی چاہئے کہ سچ کیا ہے ۔ انہیں کہنا چاہئے کہ فرانس کے سابق صدر صحیح نہیں بول رہے ہیں لیکن ان کے منہ سے آواز نہیں نکل رہی ہے ۔ یہ ملک کے جوانوں کے مستقبل،ملک کی سلامتی اور بدعنوانی کا معاملہ ہے ۔ رافیل سودے کے بارے میں وزیر خزانہ ارون جیٹلی اور وزیر دفاع نرملا سیتا رمن بیان دے رہی ہیں جب کہ بولنا مسٹر مودی کو چاہئے ۔مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ وزیر اعظم کے عہدہ کے وقار کا سوال ہے ۔ و ہ وزیر اعظم دفتر کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کے دماغ میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ وزیر اعظم بدعنوان ہیں، ملک کا'چوکیدار' 'چور' ہے ۔کانگریس صدر نے کہا کہ سودا مسٹر مودی نے کیا ہے اور اس میں صد فیصد بدعنوانی ہوئی ہے ۔ جس کا فائدہ ان کے ساتھ گئے شخص کو ہوا۔ انہوں نے طنز کیا کہ جب یہ سودا ہوا اس وقت اس وقت کے وزیر دفاع منوہر پاریکر گوا کے مچھلی بازار میں مچھلی خرید رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ ملک کے نوجوانوں کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ وزیر اعظن نے انل امبانی کو تیس ہزار کروڑ روپے کا تحفہ کیا ہے جب کہ وہ 45ہزار کروڑ کے قرض میں پھنسے ہیں۔ انہوں نے ملک کے نوجوانوں اور جوانوں کی جیب کا پیسہ نکال کر امبانی کی جیب میں ڈالا ہے ۔ مسٹر مودی نے اپنے اعتماد توڑ دیا ہے ۔مسٹر گاندھی نے الزام لگایا کہ وزیر دفاع سیتا رمن بار بار جھوٹ بول رہی ہیں۔ پہلے انہوں نے کہا کہ وہ رافیل کی قیمت بتائیں گی لیکن پھر خفیہ سمجھوتے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کا انکشاف نہیں کیا جاسکتا۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس میں کوئی رازداری نہیں ہے ۔ وہ کہہ رہی ہیں کہ سرکاری سیکٹر کی کمپنی ایچ اے ایل رافیل طیارہ نہیں بناسکتی تھی جب کہ کمپنی کے سابق سربراہ نے کہا ہے کہ وہ ایسا کرنے کے اہل ہیں۔ وزیر اعظم نے اب ایسے شخص کو کمپنی کا کانٹریکٹ دلایا ہے جس نے کبھی طیارہ بنایا ہی نہیں۔کانگریس صدر نے کہا کہ انہوں نے جب پارلیمنٹ میں رافیل سودے کا معاملہ اٹھایا تو مسٹر مودی ان کی آنکھ سے آنکھ نہیں ملاپارہے تھے ۔یو این آئی