راج بھون کے ذریعے ریاست کا نقشہ بدلنے کی کوششیں

سرینگر// نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے آر ایس ایس اور ان کے آلہ کار اس کوشش میں ہیں کہ ریاست کا بٹوارہ ہو، اوراس کوشش میں بھی ہیں کسی طرح راج بھون کے ذریعے ریاست کا نقشہ بدل ڈالیں۔ رٹھسونہ بیروہ اور شانگس اننت ناگ میں پارٹی ورکروں سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اسمبلی الیکشن آر ایس ایس کی سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے ہوگا، ان لوگوں نے ریاست میں زہر ڈالا ہے، چاہے وہ جموں ہو، کشمیر یا لداخ ہو۔عمر نے کہا کہ گورنر عوام کے چنے ہوئے نہیں بلکہ دلی کے نمائندے ہیں،جنہیں ریاست کے بڑے فیصلے لینے کا اختیار نہیں ہے۔عمر نے یاد دلایا ’’‘ 35اے کو بچانا، نئے ڈویژن بنانا، نئے اضلاع بنانا، خطوں کو خصوصی مراعات دینے جیسے بڑے بڑے فیصلے راج بھون کا اختیار نہیں، یہ دائرہ اختیار لوگوں کے چُنے ہوئے نمائندوں کو ہوتا ہے وہی لوگوں کی اُمنگوں اور احساسات کے مطابق فیصلے لے سکتے ہیں‘‘۔
انکا کہنا تھا کہ ریاست میں ایکساتھ چنائو کرانا وزیر اعظم مود ی کیلئے امتحان ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا مرکزی سرکار نے ریاست کی صورتحال اس قدر خراب کی ہے کہ یہاں ایکساتھ الیکشن نہیں کرائے جاسکتے۔انہوں نے کہا کہ بھاجپا اور پی ڈی پی ایکساتھ چنائو نہیں چاہتے ہیں۔انکا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ احکامات کی روشنی میں چنائو بہر صورت 6ماہ کے اندر ہی کرنے ہونگے۔عمر نے کہا کہ آنے والے الیکشن میں نیشنل کانفرنس کو بھرپور طریقے سے شرکت کرنی ہے کیونکہ یہ الیکشن نہ صرف تعمیر و ترقی کیلئے ہوگا، نہ صرف نوجوانوں کے روزگار کیلئے ہوگا، نہ صرف کالے قوانین کو ہٹانے کیلئے ہوگا بلکہ یہ الیکشن دفعہ35اے اور دفعہ370کے دفاع کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ’’لوگ بھی اب عوامی حکومت چاہتے ہیں اور اس کیلئے الیکشن جلدی ہونے چاہئیں، انتظار میں کوئی فائدہ نہیں اور نہ ہی ریاست کو فائدہ ہے، ہم نے پنچایتی اور بلدیاتی الیکشن نہیں لڑا اُس کی حالت آپ کے سامنے ہے، ترال کا سرپنچ جموں میںہے، کولگام اور شوپیان کے کارپورٹر دلی میں بیٹھے ہیں۔
گورنر فیصلہ کرتے ہیں کہ کس کو اُٹھانا ہے اور کس کو بٹھانا ہے۔ نیشنل کانفرنس کی عدم شرکت سے غلط لوگ سامنے آگئے، سرینگر میونسپل کارپوریشن میںآئے روز کچھ نہ کچھ نیا دیکھنے اور سُننے کو ملتا ہے، یہاں تک کہ ایک دوسرے کو زخمی بھی کیا جارہا ہے،ہم نہیں چاہتے ہیں کہ آنے والے الیکشن میں یہ حال ہو۔‘‘ بھاجپا کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان مذاکرات میں اڑچن قرار دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہاکہ ’’ہم اس کوشش میں ہیں کہ جموں وکشمیر میں نیشنل کانفرنس کی مضبوط حکومت بنے اور چاہتے ہیں کہ مرکز میں بھی حکومت تبدیل ہو کیونکہ بھاجپا نے بات چیت کے تمام دروازے بند رکھے ہیں۔ ہم نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بات چیت کی وکالت کی ہے چاہئے وہ پاکستان کیساتھ ہو یا اندرونی سطح پر۔ ہمارا موقف رہا ہے کہ بندوق کے ذریعے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔‘‘