راجوری پونچھ میں بیساکھی کا تہوار مذہبی جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا

حسین محتشم+سمت بھارگو
راجوری +پونچھ //خطہ پیر پنچال میں بیساکھی کا تہوار مذہبی جوش و خروش کیساتھ منایا گیا اس سلسلہ میں مختلف مقامات پر خاص طور پر گرودواروں میں خصوصی پروگرام منعقد کئے گئے۔بیساکھی ایک ایسا تہوار ہے جو نہ صرف ویساکھ کے مہینے کے پہلے دن کو منایا جاتا ہے اور بنیادی طور پر شمالی ہندوستان میں موسم بہار کی کٹائی کا جشن منایا جاتا ہے بلکہ اس دن خاص طور پرنوجوانوں کے مابین مختلف جگہوں پر کھیلوں و مقابلوں کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے ۔خطہ پیر پنچال میں منعقدہ تقریبات کے سلسلہ میں تقریباً تمام گوردواروں میں اس تہوار کو منانے کیلئے خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیا جس کے ساتھ گرودوارہ کمیٹیوں نے عام لوگوں کیلئے خصوصی لنگروں کا بھی اہتمام کیا۔دونوں اضلاع کی مختلف تجارتی تنظیموں نے بھی تہوار منانے کیلئے اپنے اپنے علاقوں میں تقریبات کا اہتمام کیا۔ضلع پونچھ کے صدر مقام سے تقریباً چھ کلومیٹر کے فاصلے پر سنت پورہ ڈھیرہ ننگالی صاحب سکھوں کے لیے ایک مقدس گردوارہ ہے۔ جس کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ہر سال اپریل کے مہینے میں ’بیساکھی‘ کا میلہ یہاں سجتا ہے اور پوری دنیا سے، خاص طور پر ہندوستان کی مختلف ریاستوں سے ہزاروں کی تعداد میں سکھ یاتری یہاں آتے ہیں۔ اس سال بھی  ہزاروں سکھ یاتری میلے میں شرکت کے لیے آئے۔بیساکھی کے میلے میں آنے والے سکھ یاتریوں نے سب سے پہلے ان کی آمد کا اولّین مقصد اپنی مذہبی رسومات ادا کی۔سنت پورہ رنگ علی ڈھیرہ ننگالی صاحب کا یہ تاریخی میلہ سکھوں کے روحانی پیشوا مہنت منجیت سنگھ کی زیر نگرانی منعقد کیا گیا جس میں بیرون ریاست سے آئے ہوئے راگھی جتھوں کی جانب سے کرتن کیا گیا جبکہ مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ یہ دن سکھ تاریخ میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اسی دن 1699ء میں سکھ مذہب کے دسویں گرو، گرو گوبند سنگھ نے خالصہ پنت کی بنیاد رکھ کر ایک نئے دور کا آغاز کیا تھا۔انہوں نے کہااس طرح انہوں نے وہ مشن پورا کیا، جس کا آغاز سب سے پہلے گرو، گرو نانک نے کیا تھا۔ ذات پات اور اونچ نیچ کے نظام کے خلاف بغاوت کر کیگرو نانک نے تو راہ دکھائی تھی کہ خدا کی نظر میں سب انسان برابر ہیں۔ انہوں نے کہا تھا، ”اول اللہ نور اپایا، قدرت کے سب بندے‘‘۔ دسویں گرو نے بابا نانک کی تعلیمات کو عملی طور پر نافذ کیا۔انہوں نے کہا بیساکھی کے دن، خالصہ پنت کو تشکیل دیتے وقت سکھ سماج سے ذات پات اور طبقاتی نظام کا خاتمہ کر کے مردوں کو سنگھ اور خواتین کو کور کا خاندانی نام دیا گیا۔بیساکھی کے تہوار کے موقع پر پونچھ کے تمام گردواروں میں خصوصی تقریبات منعقد کی گئیں جہاں پر عقیدت مندوں نے حاضر ہو کر اپنی عقیدتوں کا اظہار کیا۔