راجوری ملٹری کیمپ کے باہر فائرنگ| 2مقامی شہری ہلاک، ایک زخمی مقامی لوگوں کے پر تشدد احتجاجی مظاہرے، 7گھنٹے تک جموں راجوری شاہراہ پر دھرنا

 جموں بیورو

راجوری//راجوری قصبہ کے پھلیانہ محلے میں فوجی کیمپ کے گیٹ کے باہر فائرنگ ہوئی جس میں فوجی کیمپ میں موجود دکانوں میں کام کررہے 2مقامی شہری ہلاک جبکہ اتراکھنڈ کا ایک شخص زخمی ہو گیا ۔علی الصبح پیش آئے واقعہ کے بعد مہلوکین کے قریبی رشتہ داروں اور مقامی لوگوں نے زبردست احتجاجی مظاہرے کر کے ٹائر چلا کر دھرنا دیا اوجموں راجوری شاہراہ کو بند رکھا۔ شاہراہ تقریباًسات گھنٹے بند رہی اور اس دوران مظاہرین نے پتھراؤ کا بھی سہارا لیا۔معلوم ہوا ہے کہ دونوں مارے گئے مقامی شہری مذکورہ فوجی کیمپ کے اندر موجود عام مارکیٹ’ اپنا بازار‘ میں پچھلے 10سال سے بھی زائد عرصے سے کام کررہے تھے۔کیمپ کے اندر کانوائے گرائونڈ کے نزدیک قریب 25سے 30دکانیں مقامی لوگوں کی ہیں ، جو یہاں عرصہ دراز سے ہیں۔زخمی ہونے والا مزدور دکان نمبر 5 میں مزدوری کرتا تھا۔سرکاری طور پر بتایا گیا کہ یہ واقعہ جمعہ کی صبح تقریباً 6بجکر 30منٹ پر پیش آیا جب آرمی کیمپ کے الفا گیٹ پر گولیوں کی آوازیں سنی گئیں۔حکام نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے 10سے12 گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دیں اور بعد میں دو لاشیں ملیں جب کہ ایک شخص زخمی حالت میں پڑا تھا۔

 

انہوں نے کہا، “زخمی شخص کی شناخت انیل کمار ولد بالی رام ساکن رانی کھیت اتراکھنڈ کے طور پر کی گئی ہے اور اسے جائے وقوعہ سے ہٹا کر جی ایم سی ایسوسی ایٹڈ اسپتال راجوری لے جایا گیا جہاں اس کا آپریشن کیا گیا اور وہ زیر علاج ہے۔”سرکاری ذرائع نے مزید بتایا کہ مرنے والے دو افراد کی شناخت سریندر کمار ولد اوم پرکاش اور کمل کشور ولد سادھو رام ساکن وارڈ 15، پھلیانہ راجوری کے طور پر ہوئی ہے۔دریں اثناء فائرنگ کے واقعہ کی اطلاع علاقہ میں پھیلتے ہی مقامی لوگوں اور لواحقین کی بڑی تعداد موقع پر پہنچ گئے اور فوجی کیمپ کے الفا گیٹ کے باہر جموں راجوری پونچھ قومی شاہراہ کو بلاک کرکے زبردست احتجاجی مظاہرہ شروع کردیا۔ مقامی لوگوں نے الزام لگایا کہ فائرنگ کا واقعہ پراسرار نوعیت کا ہے اور اس کی گہرائی سے تحقیقات کی جانی چاہئے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہ واقعہ کن حالات میں پیش آیا اور مذکورہ فوجی کیمپ کے گیٹ پر بطور سنٹری تعینات فوجی اہلکاروں کے کردار کی بھی تحقیقات کی جانی چاہئے۔احتجاج کے باعث قومی شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہوگئی اور پتھراؤ کے متعدد واقعات بھی پیش آئے جس میں آرمی گیٹس، باؤنڈری والز کو نقصان پہنچا۔احتجاج چھ گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہا جس میں گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی جس کے بعد ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس ڈاکٹر حسیب مغل، ڈپٹی کمشنر راجوری وکاس کنڈل، سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس محمد اسلم اور سپیڈس ڈویڑن کے ڈپٹی جی او سی ایس سمیت افسران نے لوگوں کو پرامن رہنے پر قائل کیا۔ مظاہرین نے اس یقین دہانی پر احتجاج ختم کیا کہ دونوں متاثرین کے خاندان کے ایک ایک فرد کو ملازمتیں فراہم کی جائیں گی جنہیں ایکس گریشیا بھی دیا جائے گا جبکہ متاثرین کے بچوں کی پڑھائی کے اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔لاشوں کو بعد میں جی ایم سی ایسوسی ایٹڈ ہسپتال راجوری منتقل کیا گیا جہاں پوسٹ مارٹم کیا گیا۔

ملی ٹینٹوں نے فائرنگ کی:فوج
جموں بیورو

راجوری //بھارتی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ واقعہ نامعلوم ملی ٹینٹوں کی فائرنگ سے پیش آیا۔ واقعہ کے فوراً بعد فوج کی جانب سے ایک ٹویٹ میں کہا گیا”ملٹری ہسپتال کے قریب راجوری میں صبح سویرے نامعلوم ملی ٹینٹوں کی فائرنگ کے واقعے میں، دو افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔ پولیس، سیکورٹی فورسز اور سول انتظامیہ کے اہلکار جائے وقوع پر موجود ہیں” ۔

 

ایف آئی آر درج
غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوگی:ڈی آئی جی
راجوری/یو این آئی/ڈی آئی جی راجوری پونچھ رینج ڈاکٹر حسیب مغل نے کہاکہ راجوری میں پیش آئے واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ہوگی۔مظاہرین کے ساتھ بات چیت کے بعد ڈاکٹر مغل نے کہاکہ واقعہ سے متعلق کیس درج کرلیا گیا ہے اور اسکی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرنے کے احکامات صادر کئے گئے۔انہوں نے کہاکہ جمعہ کی صبح جوں ہی یہ واقعہ پیش آیا تو پولیس ٹیم فوری طور پر جائے موقع پرپہنچی اور زخمی نوجوان کو ہسپتال منتقل کیا۔انہوں نے کہاکہ صبح سویرے لوگوں نے اس واقعہ کو لے کر پر تشدد احتجاج بھی کیا لیکن پولیس اور ضلع انتظامیہ کے کی جانب سے یقین دہانی کے بعد مظاہرین پْر امن طورپر منتشر ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ لاشوں کو تحویل میں لے کر اْنہیں قانونی کارروائی کی خاطر گورنمنٹ میڈیکل کالج راجوری منتقل کیا گیا۔ڈی آئی جی نے لوگوں کو یقین دلایا کہ سب کچھ سامنے لایا جائے گا۔دریں اثنا مظاہرین نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ فوج کے اعلیٰ آفیسران کے ساتھ ملاقات کے دوران ٹویٹ کا معاملہ اْٹھایا گیا۔مقامی لوگوں کے مطابق فوج کے سینئر آفیسران نے ٹویٹ پر معافی مانگی اور کہاکہ ایسا غلطی سے ہوا ہے لہٰذا وہ اس کو ری ٹویٹ کریں گے۔انہوں نے کہاکہ فوجی کمانڈر نے بتایا کہ کسی آفیسر نے غلطی سے ٹویٹ کیا ہے۔بتاد یں کہ فوج نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’راجوری میں ملٹری ہسپتال کے نزدیک جمعے کی صبح نامعلوم جنگجووں کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہو گئے۔